بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 15
حدیث نمبر: 15715 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، الزُّبَيْدِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ , أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُقَصُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَا أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ قَصَّ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، اسْتَأْذَنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنْ يَقُصَّ عَلَى النَّاسِ قَائِمًا، فَأَذِنَ لَهُ عُمَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا صدیق اکبر کے دور باسعادت میں وعظ گوئی کا رواج نہ تھا سب سے پہلے وعظ گوئی کرنے والے سیدنا تمیم داری تھے انہوں نے سیدنا عمر سے لوگوں میں کھڑے ہو کر وعظ گوئی کی اجازت مانگی اور سیدنا عمر نے انہیں اجازت دیدی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15715]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، بقية لم يصرح بالسماع فى كل طبقات الرواة
الحكم: إسناده ضعيف، بقية لم يصرح بالسماع فى كل طبقات الرواة
حدیث نمبر: 15716 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الزُّهْرِيُّ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الزُّهْرِيُّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ، قَالَ:" لَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا فِي الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا، يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ , قَالَ: كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَيُقِيمُ إِذَا نَزَلَ، وَلِأَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَتَّى كَانَ عُثْمَانُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں صرف ایک مؤذن تھا جو تمام نمازوں اور جمعہ وغیرہ میں اذان بھی دیتا تھا اور اقامت بھی وہی کہتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن جب منبر پر رونق افروز ہو جاتے تو سیدنا بلال اذان دیتے تھے اور جب آپ منبر سے نیچے اترتے تو وہی اقامت کہتے تھے سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا عمر کے زمانے تک ایسا ہوتا رہا یہاں تک کہ سیدنا عثمان کا دور آگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15716]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15717 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَسْوَدَ الْقُرَشِيُّ ، يَزِيدَ بْنَ خُصَيْفَةَ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَسْوَدَ الْقُرَشِيُّ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ خُصَيْفَةَ حَدَّثَهُ , عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا صَلَّوْا الْمَغْرِبَ قَبْلَ طُلُوعِ النُّجُومِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت اس وقت تک فطرت پر قائم رہے گی جب تک وہ مغرب کی نماز ستارے نکلنے سے پہلے پڑھتی رہے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15717]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن الأسود
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن الأسود
حدیث نمبر: 15718 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ , عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ:" حُجَّ بِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ , وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر مجھے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج پر لے جایا گیا اس وقت میری عمر سات سال تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15718]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1858
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1858
حدیث نمبر: 15719 مسند احمد
مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْجُعَيْدُ ، يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ , عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَ:" كُنَّا نُؤْتَى بِالشَّارِبِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَفِي إِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمْرَةِ عُمَرَ، فَنَقُومُ إِلَيْهِ، فَنَضْرِبُهُ بِأَيْدِينَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِيَتِنَا، حَتَّى كَانَ صَدْرًا مِنْ إِمْرَةِ عُمَرَ فَجَلَدَ فِيهَا أَرْبَعِينَ، حَتَّى إِذَا عَتَوْا فِيهَا وَفَسَقُوا، جَلَدَ ثَمَانِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں اور سیدنا صدیق اکبر کے دور میں اور سیدنا عمر کے ابتدائی دور میں جب کوئی شرابی لایا جاتا تھا تو ہم لوگ کھڑے ہو کر اسے اپنے ہاتھوں جوتیوں اور چادروں سے مارتے تھے بعد میں سیدنا عمر نے شرابی کو چالیس کوڑے مارنے کا حکم دیا اور لوگ جب اس میں سرکشی اور فسق وفجور کرنے لگے تو انہوں نے اس کی سزا اسی کوڑے مقرر کر دی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15719]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6779
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6779
حدیث نمبر: 15720 مسند احمد
مَكِّيٌّ ، الْجُعَيْدُ ، يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ , عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، أَتَعْرِفِينَ هَذِهِ؟" قَالَتْ: لَا , يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَقَالَ:" هَذِهِ قَيْنَةُ بَنِي فُلَانٍ، تُحِبِّينَ أَنْ تُغَنِّيَكِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ , قَالَ: فَأَعْطَاهَا طَبَقًا، فَغَنَّتْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ نَفَخَ الشَّيْطَانُ فِي مَنْخِرَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہ پوچھا کہ عائشہ تم جانتی ہواسے انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں فرمایا: یہ فلاں قبیلے کی گلوکارہ ہے تم اس کا گاناسننا چاہتی ہوانہوں نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک تھالی دیدی اور وہ گانے لگی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے نتھنوں میں شیطان پھونکیں مار رہا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15720]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15721 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْيَانِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ نَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ" , وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَذْكُرُ مَقْدِمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر ثنیتہ الوداع کی طرف نکلا ہم لوگ غزوہ تبوک سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا استقبال کرنے کے لئے گئے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا غزوہ تبوک سے واپس تشریف لانا یاد ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15721]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3083
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3083
حدیث نمبر: 15722 مسند احمد
سُفْيَانُ ، يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ , إِنْ شَاءَ اللَّهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ظَاهَرَ بَيْنَ دِرْعَيْنِ يَوْمَ أُحُدٍ , وَحَدَّثَنَا بِهِ مَرَّةً أُخْرَى فَلَمْ يَسْتَثْنِ فِيهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ احد کے موقع پر دو زرہیں پہن رکھی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15722]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15723 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ إِدْرِيسَ ، وَأَبُو شِهَابٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، الزُّهْرِيِّ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ , وَأَبُو شِهَابٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ، قَالَ:" مَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ , يُؤَذِّنُ إِذَا قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَيُقِيمُ إِذَا نَزَلَ، وَأَبُو بَكْرٍ كَذَلِكَ وَعُمَرُ كَذَلِكَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں صرف ایک مؤذن مقرر تھا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منبر پر بیٹھنے کے بعد اذان دیتا تھا اور منبر سے اترنے کے بعد اقامت بھی وہی کہتا تھا سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا عمر کے زمانے تک ایسا ہی ہوتا رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15723]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، إسناده حسن
الحكم: حديث صحيح، إسناده حسن
حدیث نمبر: 15724 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ , أَنَّ شُرَيْحًا الْحَضْرَمِيّ , قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ذَاكَ رَجُلٌ لَا يَتَوَسَّدُ الْقُرْآنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ایک مرتبہ شریح حضرمی کا تذکر ہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایسا آدمی ہے جو قرآن کو تکیہ نہیں بناتا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15724]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15725 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ , أَنَّ شُرَيْحًا الْحَضْرَمِيَّ , ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ذَاكَ رَجُلٌ لَا يَتَوَسَّدُ الْقُرْآنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہمارے نسخے میں یہاں صرف لفظ حدثنا لکھا ہوا ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15725]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15726 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، الزُّهْرِيِّ ، السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ , قَالَ: أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15726]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15727 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنُ أُخْتِ نَمِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا عَدْوَى , وَلَا صَفَرَ , وَلَا هَامَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہو تی ماہ صفر منحوس نہیں ہے اور مردوں کی کھوپڑی سے کیڑا نکلنے کی کوئی اصلیت نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15727]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:2220
الحكم: إسناده صحيح، م:2220
حدیث نمبر: 15728 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ:" كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا أذانان، حَتَّى كَانَ زَمَنُ عُثْمَانَ، فَكَثُرَ النَّاسُ، فَأَمَرَ بِالْأَذَانِ الْأَوَّلِ بِالزَّوْرَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرات شیخین کے دور باسعادت میں صرف ایک اذان ہو تی تھی یہاں تک کہ سیدنا عثمان کا دور آگیا اور لوگ زیادہ ہو گئے تو انہوں نے مقام زوراء پر پہلی اذان کا حکم دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15728]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 912
الحكم: إسناده صحيح، خ: 912
حدیث نمبر: 15729 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، يَزِيدَ بْنَ خُصَيْفَةَ ، السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ إِنْسَانٍ يَكُونُ فِي مَجْلِسٍ، فَيَقُولُ حِينَ يُرِيدُ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ" , فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ يَزِيدَ بْنَ خُصَيْفَةَ ، قَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسماعیل بن عبداللہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مجلس میں شریک ہواور جس وقت کھڑے ہو نے کا ارادہ کر ے اور وہ یہ کلمات پڑھ لے سبحانک اللھم وبحمدک لا الہ الا انت استغفرک اتوب الیک تو اس مجلس میں ہو نے والے اس کے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث یزید بن خصیفہ کو سنائی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث سیدنا سائب بن یزید نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے مجھ سے اسی طرح بیان فرمائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15729]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح