مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْجُعَيْدُ ، يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ , عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَ:" كُنَّا نُؤْتَى بِالشَّارِبِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَفِي إِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمْرَةِ عُمَرَ، فَنَقُومُ إِلَيْهِ، فَنَضْرِبُهُ بِأَيْدِينَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِيَتِنَا، حَتَّى كَانَ صَدْرًا مِنْ إِمْرَةِ عُمَرَ فَجَلَدَ فِيهَا أَرْبَعِينَ، حَتَّى إِذَا عَتَوْا فِيهَا وَفَسَقُوا، جَلَدَ ثَمَانِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں اور سیدنا صدیق اکبر کے دور میں اور سیدنا عمر کے ابتدائی دور میں جب کوئی شرابی لایا جاتا تھا تو ہم لوگ کھڑے ہو کر اسے اپنے ہاتھوں جوتیوں اور چادروں سے مارتے تھے بعد میں سیدنا عمر نے شرابی کو چالیس کوڑے مارنے کا حکم دیا اور لوگ جب اس میں سرکشی اور فسق وفجور کرنے لگے تو انہوں نے اس کی سزا اسی کوڑے مقرر کر دی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15719]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6779
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6779