مَكِّيٌّ ، الْجُعَيْدُ ، يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ , عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، أَتَعْرِفِينَ هَذِهِ؟" قَالَتْ: لَا , يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَقَالَ:" هَذِهِ قَيْنَةُ بَنِي فُلَانٍ، تُحِبِّينَ أَنْ تُغَنِّيَكِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ , قَالَ: فَأَعْطَاهَا طَبَقًا، فَغَنَّتْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ نَفَخَ الشَّيْطَانُ فِي مَنْخِرَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہ پوچھا کہ عائشہ تم جانتی ہواسے انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں فرمایا: یہ فلاں قبیلے کی گلوکارہ ہے تم اس کا گاناسننا چاہتی ہوانہوں نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک تھالی دیدی اور وہ گانے لگی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے نتھنوں میں شیطان پھونکیں مار رہا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15720]
الحكم: إسناده صحيح