يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ إِدْرِيسَ ، وَأَبُو شِهَابٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، الزُّهْرِيِّ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ , وَأَبُو شِهَابٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ، قَالَ:" مَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ , يُؤَذِّنُ إِذَا قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَيُقِيمُ إِذَا نَزَلَ، وَأَبُو بَكْرٍ كَذَلِكَ وَعُمَرُ كَذَلِكَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں صرف ایک مؤذن مقرر تھا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منبر پر بیٹھنے کے بعد اذان دیتا تھا اور منبر سے اترنے کے بعد اقامت بھی وہی کہتا تھا سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا عمر کے زمانے تک ایسا ہی ہوتا رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15723]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، إسناده حسن
الحكم: حديث صحيح، إسناده حسن