يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، زَبَّانَ ، سَهْلٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، عَنْ زَبَّانَ ، عَنْ سَهْلٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْطَلَقَ زَوْجِي غَازِيًا، وَكُنْتُ أَقْتَدِي بِصَلَاتِهِ إِذَا صَلَّى، وَبِفِعْلِهِ كُلِّهِ، فَأَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُبْلِغُنِي عَمَلَهُ حَتَّى يَرْجِعَ، فَقَالَ لَهَا:" أَتَسْتَطِيعِينَ أَنْ تَقُومِي وَلَا تَقْعُدِي، وَتَصُومِي وَلَا تُفْطِرِي، وَتَذْكُرِي اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا تَفْتُرِي، حَتَّى يَرْجِعَ؟" , قَالَتْ: مَا أُطِيقُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَوْ طُوِّقْتِيهِ مَا بَلَغْتِ الْعُشْرَ مِنْ عَمَلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! میرا شوہر جہاد میں شرکت کے لئے چلا گیا ہے میں اس کی نماز اور ہر کام میں اقتداء کیا کر تی تھی اب مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجیے جو مجھے اس کے مرتبہ تک پہنچا دے کیونکہ میں تو جہاد میں شرکت نہیں کر سکتی حتی کہ وہ واپس آ جائے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ ممکن ہے کہ تم ہمیشہ قیام میں رہو کبھی نہ بیٹھو، ہمیشہ روزے رکھو کبھی ناغہ نہ کر و اور ہمیشہ ذکر الٰہی کر و کبھی اس سے غفلت نہ کر و یہاں تک کہ وہ واپس آ جائے اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو میرے لئے ممکن نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم میں یہ سب کرنے کی طاقت موجود ہو تی تو تب بھی تم اس کی واپسی تک اس کے عمل کے دسویں حصے تک نہ پہنچ پاتیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15633]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف مسلسل بالضعفاء
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف مسلسل بالضعفاء