بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث معَاذِ بنِ اَنَس الجهَنِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 42
صفحہ 2 از 3
حدیث نمبر: 15629 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، زَبَّانُ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ وُقُوفٌ عَلَى دَوَابَّ لَهُمْ وَرَوَاحِلَ، فَقَالَ لَهُمْ:" ارْكَبُوهَا سَالِمَةً وَدَعُوهَا سَالِمَةً، وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ لِأَحَادِيثِكُمْ فِي الطُّرُقِ وَالْأَسْوَاقِ، فَرُبَّ مَرْكُوبَةٍ خَيْرٌ مِنْ رَاكِبِهَا، وَأَكْثَرُ ذِكْرًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر کچھ لوگوں پر ہوا جو اپنے جانوروں اور سواریوں کے پاس کھڑے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جانوروں پر اس وقت سوار ہوا کر جب وہ صحیح سالم ہوں اور اسی حالت میں انہیں چھوڑ بھی دیا کر و راستوں اور بازاروں میں گفتگو میں انہیں کر سیاں نہ سمجھ لیا کر و کیونکہ بہت سی سواریاں اپنے اوپر سوار ہو نے والوں کی نسبت زیادہ بہتر اور اللہ کا زیادہ ذکر کرنے والی ہو تی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15629]
حکم دارالسلام
حديث حسن إلى قوله: ولا تتخذوها كراسي، وهذا إسناد ضعيف مسلسل بالضعفاء
الحكم: حديث حسن إلى قوله: ولا تتخذوها كراسي، وهذا إسناد ضعيف مسلسل بالضعفاء
حدیث نمبر: 15630 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، أَبُو مَرْحُومٍ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَرْحُومٍ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ:" نَهَى عَنِ الْحُبْوَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو تو کوئی شخص اپنی ٹانگوں کو کھڑا کر کے ان کے گرد ہاتھوں سے حلقہ بنا کر بیٹھ جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15630]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15631 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدٌ ، أَبُو مَرْحُومٍ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَرَكَ اللِّبَاسَ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، دَعَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ , حَتَّى يُخَيِّرَهُ فِي حُلَلِ الْإِيمَانِ أَيَّهَا شَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تواضع کی نیت سے اچھے کپڑے پہننے کی قدرت کے باوجود سادہ لباس اختیار کر ے اللہ اسے قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے بلا کر یہ اختیار دے گا کہ وہ ایمان کے جوڑوں میں سے جسے چاہے پسند کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15631]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15632 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدٌ ، أَبُو مَرْحُومٍ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَكَلَ طَعَامًا، ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا، وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کھانا کھآ کر یوں کہے کہ اس اللہ کا شکر جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور مجھے رزق عطاء فرمایا: جس میں میری کوئی طاقت شامل نہیں اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15632]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15633 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، زَبَّانَ ، سَهْلٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، عَنْ زَبَّانَ ، عَنْ سَهْلٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْطَلَقَ زَوْجِي غَازِيًا، وَكُنْتُ أَقْتَدِي بِصَلَاتِهِ إِذَا صَلَّى، وَبِفِعْلِهِ كُلِّهِ، فَأَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُبْلِغُنِي عَمَلَهُ حَتَّى يَرْجِعَ، فَقَالَ لَهَا:" أَتَسْتَطِيعِينَ أَنْ تَقُومِي وَلَا تَقْعُدِي، وَتَصُومِي وَلَا تُفْطِرِي، وَتَذْكُرِي اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا تَفْتُرِي، حَتَّى يَرْجِعَ؟" , قَالَتْ: مَا أُطِيقُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَوْ طُوِّقْتِيهِ مَا بَلَغْتِ الْعُشْرَ مِنْ عَمَلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! میرا شوہر جہاد میں شرکت کے لئے چلا گیا ہے میں اس کی نماز اور ہر کام میں اقتداء کیا کر تی تھی اب مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجیے جو مجھے اس کے مرتبہ تک پہنچا دے کیونکہ میں تو جہاد میں شرکت نہیں کر سکتی حتی کہ وہ واپس آ جائے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ ممکن ہے کہ تم ہمیشہ قیام میں رہو کبھی نہ بیٹھو، ہمیشہ روزے رکھو کبھی ناغہ نہ کر و اور ہمیشہ ذکر الٰہی کر و کبھی اس سے غفلت نہ کر و یہاں تک کہ وہ واپس آ جائے اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو میرے لئے ممکن نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم میں یہ سب کرنے کی طاقت موجود ہو تی تو تب بھی تم اس کی واپسی تک اس کے عمل کے دسویں حصے تک نہ پہنچ پاتیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15633]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف مسلسل بالضعفاء
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف مسلسل بالضعفاء
حدیث نمبر: 15634 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، زَبَّانَ ، سَهْلٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، عَنْ زَبَّانَ ، عَنْ سَهْلٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" آيَةُ الْعِزِّ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا سورة الإسراء آية 111 الْآيَةَ كُلَّهَا".
حدیث نمبر: 15635 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، زَبَّانَ ، سَهْلٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، عَنْ زَبَّانَ ، عَنْ سَهْلٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15635]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف مسلسل بالضعفاء
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف مسلسل بالضعفاء
حدیث نمبر: 15636 مسند احمد
يَحْيَى ، رِشْدِينُ ، زَبَّانَ ، سَهْلٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، عَنْ زَبَّانَ ، عَنْ سَهْلٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عِبَادًا لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ , وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ" قِيلَ لَهُ: مَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" مُتَبَرٍّ مِنْ وَالِدَيْهِ رَاغِبٌ عَنْهُمَا، وَمُتَبَرٍّ مِنْ وَلَدِهِ، وَرَجُلٌ أَنْعَمَ عَلَيْهِ قَوْمٌ، فَكَفَرَ نِعْمَتَهُمْ، وَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ ہم کلام ہو گا نہ ان کا تزکیہ کر ے گا اور نہ ان پر نظر کر م فرمائے گا کسی نے پوچھا: وہ کون لوگ ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے والدین سے بیزاری اور بےرغبتی کر یں جو اپنی اولاد سے بیزار ظاہر کر یں اور وہ شخص جس پر کسی نے کوئی احسان کیا وہ اور وہ ان کی ناشکر ی کر کے ان سے بیزاری ظاہر کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15636]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
الحكم: إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
حدیث نمبر: 15637 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدٌ ، أَبُو مَرْحُومٍ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْحُومٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنْفِذَهُ، دَعَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ , حَتَّى يُخَيِّرَهُ مِنْ أَيِّ الْحُورِ شَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ جو شخص اپنے غصے کو قابو میں رکھے جبکہ وہ اس پر عمل کرنے پر قدرت بھی رکھتا ہواللہ اسے قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے بلا کر یہ اختیاردے گا کہ جس حور عین کو چاہو پسند کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15637]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15638 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ أَبُو يَحْيَى ، أَبُو مَرْحُومٍ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بِحِفْظِهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ أَبُو يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْطَى لِلَّهِ تَعَالَى، وَمَنَعَ لِلَّهِ، وَأَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَنْكَحَ لِلَّهِ، فَقَدْ اسْتَكْمَلَ إِيمَانَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ کی رضاء کے لئے کچھ دے اللہ کی رضاء کے لئے روکے اللہ کے لئے محبت و نفرت اور نکاح کر ے اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15638]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15639 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، ابْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ارْكَبُوا هَذِهِ الدَّوَابَّ سَالِمَةً، وَابْتَدِعُوهَا سَالِمَةً، وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جانوروں پر اس وقت سوار ہوا کر و جب وہ صحیح سالم ہوں اور اسی حالت میں چھوڑ بھی دیا کر و راستوں اور بازاروں میں آپس میں گفتگو میں انہیں کر سیاں نہ سمجھ لیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15639]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15640 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ ، ابْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ ، عَنِ ابْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15640]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف زبان بن فائد ، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف زبان بن فائد ، وقد توبع
حدیث نمبر: 15641 مسند احمد
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، ابْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْكَبُوا هَذِهِ الدَّوَابَّ سَالِمَةً وَابْتَدِعُوهَا سَالِمَةً، وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جانوروں پر اس وقت سوار ہوا کر و جب وہ صحیح سالم ہوں اور اسی حالت میں چھوڑ بھی دیا کر و راستوں اور بازاروں میں آپس میں گفتگو میں انہیں کر سیاں نہ سمجھ لیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15641]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15642 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، زَبَّانُ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ كَانَ صَائِمًا، وَعَادَ مَرِيضًا، وَشَهِدَ جَنَازَةً، غُفِرَ لَهُ مِنْ بَأْسٍ , إِلَّا أَنْ يُحْدِثَ مِنْ بَعْدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص روزہ دار ہو کسی مریض کی عیادت کر ے اور کسی جنازے میں شرکت کر ے اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے الاّ یہ کہ اس کے بعد کوئی نیا گناہ کر بیٹھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15642]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد، وابن لهيعة سيئ الحفظ، وسهل بن معاذ سيئ الحفظ إن روى عنه زبان
الحكم: إسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد، وابن لهيعة سيئ الحفظ، وسهل بن معاذ سيئ الحفظ إن روى عنه زبان
حدیث نمبر: 15643 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، زَبَّانُ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ , عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" لَأَنْ أُشَيِّعَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَكُفَّهُ عَلَى رَاحِلَةٍ غَدْوَةً أَوْ رَوْحَةً , أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی صبح یا شام کو کسی مجاہد فی سبیل اللہ کے ساتھ اسے رخصت کرنے کے لئے جانا اور اسے سواری پر بٹھانا میرے نزدیک دنیا و ما فیھا سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15643]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 15644 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، زَبَّانُ ، سَهْلٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ السَّالِمَ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ يَدِهِ وَلِسَانِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15644]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
الحكم: إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
حدیث نمبر: 15645 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، زَبَّانُ ، سَهْلٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، نَبَتَ لَهُ غَرْسٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَأَكْمَلَهُ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ، أَلْبَسَ وَالِدَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَاجًا هُوَ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتٍ مِنْ بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيهِ، فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص سبحان اللہ العظیم کہے اس کے لئے جنت میں ایک پودا لگادیا جاتا ہے جو شخص مکمل قرآن کر یم پڑھے اور اس پر عمل کر کے اس کے والدین کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بھی زیادہ ہو گی جبکہ وہ کسی کے گھر کے آنگن میں اتر آئے تو اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جس نے اس قرآن پر عمل کیا ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15645]
حکم دارالسلام
حسن لغيره دون قوله: ومن قرأ القرآن فأكمله.....وهذا إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
الحكم: حسن لغيره دون قوله: ومن قرأ القرآن فأكمله.....وهذا إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
حدیث نمبر: 15646 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، زَبَّانُ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ وُقُوفٌ عَلَى دَوَابَّ لَهُمْ وَرَوَاحِلَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْكَبُوهَا سَالِمَةً , وَدَعُوهَا سَالِمَةً , وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ لِأَحَادِيثِكُمْ فِي الطُّرُقِ وَالْأَسْوَاقِ، فَرُبَّ مَرْكُوبَةٍ خَيْرٌ مِنْ رَاكِبِهَا هِيَ أَكْثَرُ ذِكْرًا لِلَّهِ تَعَالَى مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر کچھ لوگوں پر ہوا جو اپنے جانوروں اور سواریوں کے پاس کھڑے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جانوروں پر اس وقت سوار ہوا کر و جب وہ صحیح سالم ہوں اور اسی حالت میں انہیں چھوڑ بھی دیا کر و راستوں اور بازاروں میں گفتگو میں انہیں کر سیاں نہ سمجھ لیا کر و کیونکہ بہت سی سواریاں اپنے اوپر سوار ہو نے والوں کی نسبت سے زیادہ بہتر اور اللہ کا زیادہ ذکر کرنے والی ہو تی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15646]
حکم دارالسلام
حديث حسن إلى قوله: ولا تتخذوها كراسي، وهذا إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
الحكم: حديث حسن إلى قوله: ولا تتخذوها كراسي، وهذا إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
حدیث نمبر: 15647 مسند احمد
إِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَفْضُلُ الذِّكْرُ عَلَى النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِسَبْعِ مِائَةِ أَلْفِ ضِعْفٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ بن انس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذکر خداوندی میں مشغول رہنا صدقہ خیرات کرنے سے سات لاکھ درجہ اونچا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15647]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ، تفرد به سهل بن معاذ، وهو ممن لا يحتمل تفرده، وقد اختلف عنه فيه
الحكم: إسناده ضعيف ، تفرد به سهل بن معاذ، وهو ممن لا يحتمل تفرده، وقد اختلف عنه فيه
حدیث نمبر: 15648 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَثْعَمِيِّ ، فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ اللَّخْمِيِّ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَثْعَمِيِّ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: نَزَلْنَا عَلَى حِصْنِ سِنَانٍ بِأَرْضِ الرُّومِ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ، فَقَالَ مُعَاذٌ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّا غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ كَذَا وَكَذَا، فَضَيَّقَ النَّاسُ الطَّرِيقَ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى:" مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا، أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا، فَلَا جِهَادَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ عبداللہ بن عبدالمک کے ساتھ سر زمین روم میں حصن سنان پر اترے لوگوں نے منزلیں تنگ اور راستے مسدد کر دیئے سیدنا معاویہ یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ لوگو ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ فلاں غزوے میں شریک تھے اس دوران لوگوں نے راستے مسدد کر دیئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک منادی کو بھیج کر یہ اعلان کر وایا کہ جو شخص کسی منزل کو تنگ یا راستے کو مسدد کر دے اس کے جہاد کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15648]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن