حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، زَبَّانُ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ , فَقَالَ: أَيُّ الْجِهَادِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ:" أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ذِكْرًا" , قَالَ: فَأَيُّ الصَّائِمِينَ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ:" أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ذِكْرًا" , ثُمَّ ذَكَرَ لَنَا الصَّلَاةَ، وَالزَّكَاةَ، وَالْحَجَّ، وَالصَّدَقَةَ، كُلُّ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ذِكْرًا" , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: يَا أَبَا حَفْصٍ، ذَهَبَ الذَّاكِرُونَ بِكُلِّ خَيْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَجَلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ بن انس سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کس جہاد کا اجر وثواب زیادہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس میں اللہ کا ذکر سب سے زیادہ ہو سائل نے پوچھا کہ کن روزہ داروں کا ثواب سب سے زیادہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کا ذکر سب سے زیادہ کر یں پھر نماز حج اور زکوٰۃ کا ذکر ہوا اور ہر مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی فرمایا: جس میں اللہ کا ذکر زیادہ ہواس پر سیدنا صدیق اکبر، سیدنا عمر سے کہنے لگے کہ ابوحفص ذکر کرنے والے تو ہر خیر لے اڑے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15614]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
الحكم: إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء