حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، زَبَّانُ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ وُقُوفٌ عَلَى دَوَابَّ لَهُمْ وَرَوَاحِلَ، فَقَالَ لَهُمْ:" ارْكَبُوهَا سَالِمَةً وَدَعُوهَا سَالِمَةً، وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ لِأَحَادِيثِكُمْ فِي الطُّرُقِ وَالْأَسْوَاقِ، فَرُبَّ مَرْكُوبَةٍ خَيْرٌ مِنْ رَاكِبِهَا، وَأَكْثَرُ ذِكْرًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر کچھ لوگوں پر ہوا جو اپنے جانوروں اور سواریوں کے پاس کھڑے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جانوروں پر اس وقت سوار ہوا کر جب وہ صحیح سالم ہوں اور اسی حالت میں انہیں چھوڑ بھی دیا کر و راستوں اور بازاروں میں گفتگو میں انہیں کر سیاں نہ سمجھ لیا کر و کیونکہ بہت سی سواریاں اپنے اوپر سوار ہو نے والوں کی نسبت زیادہ بہتر اور اللہ کا زیادہ ذکر کرنے والی ہو تی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15629]
حکم دارالسلام
حديث حسن إلى قوله: ولا تتخذوها كراسي، وهذا إسناد ضعيف مسلسل بالضعفاء
الحكم: حديث حسن إلى قوله: ولا تتخذوها كراسي، وهذا إسناد ضعيف مسلسل بالضعفاء