يَحْيَى ، رِشْدِينُ ، زَبَّانَ ، سَهْلٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، عَنْ زَبَّانَ ، عَنْ سَهْلٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عِبَادًا لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ , وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ" قِيلَ لَهُ: مَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" مُتَبَرٍّ مِنْ وَالِدَيْهِ رَاغِبٌ عَنْهُمَا، وَمُتَبَرٍّ مِنْ وَلَدِهِ، وَرَجُلٌ أَنْعَمَ عَلَيْهِ قَوْمٌ، فَكَفَرَ نِعْمَتَهُمْ، وَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ ہم کلام ہو گا نہ ان کا تزکیہ کر ے گا اور نہ ان پر نظر کر م فرمائے گا کسی نے پوچھا: وہ کون لوگ ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے والدین سے بیزاری اور بےرغبتی کر یں جو اپنی اولاد سے بیزار ظاہر کر یں اور وہ شخص جس پر کسی نے کوئی احسان کیا وہ اور وہ ان کی ناشکر ی کر کے ان سے بیزاری ظاہر کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15636]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
الحكم: إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء