بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 81
صفحہ 3 از 5
حدیث نمبر: 41 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، جَابِرٍ ، عَامِرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، أَبِي بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ:" كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَجَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ مَرَّةً فَرَدَّهُ، ثُمَّ جَاءَهُ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ الثَّانِيَةَ فَرَدَّهُ، ثُمَّ جَاءَهُ فَاعْتَرَفَ الثَّالِثَةَ فَرَدَّهُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّكَ إِنْ اعْتَرَفْتَ الرَّابِعَةَ رَجَمَكَ، قَالَ: فَاعْتَرَفَ الرَّابِعَةَ، فَحَبَسَهُ، ثُمَّ سَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا، قَالَ: فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، اتنی دیر میں ماعز بن مالک آ گئے اور ایک مرتبہ بدکاری کا اعتراف نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں واپس بھیج دیا، دوسری مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا، تیسری مرتبہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں واپس بھیجا تو میں نے ان سے کہا: اگر تم نے چوتھی مرتبہ بھی اعتراف کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں رجم کی سزا دیں گے، تاہم انہوں نے چوتھی مرتبہ آ کر بھی اعتراف جرم کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں روک لیا اور لوگوں سے ان کے متعلق دریافت کیا، لوگوں نے بتایا کہ ہمیں تو ان کے بارے میں خیر ہی کا علم ہے، بہرحال! ضابطے کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 41]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 42 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، يَزِيدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ ذِي عَصْوَانَ الْعنسي ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّخْمِيِّ ، رَافِعٍ الطَّائِيِّ ، أَبِي بَكْرٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: وأَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ ذِي عَصْوَانَ الْعنسي ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ رَافِعٍ الطَّائِيِّ رَفِيقِ أَبِي بَكْرٍ فِي غَزْوَةِ السُّلَاسِلِ، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَمَّا قِيلَ مِنْ بَيْعَتِهِمْ، فَقَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُهُ عَمَّا تَكَلَّمَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ، وَمَا كَلَّمَهُمْ بِهِ، وَمَا كَلَّمَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْأَنْصَارَ، وَمَا ذَكَّرَهُمْ بِهِ مِنْ إِمَامَتِي إِيَّاهُمْ:" بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَبَايَعُونِي لِذَلِكَ، وَقَبِلْتُهَا مِنْهُمْ، وَتَخَوَّفْتُ أَنْ تَكُونَ فِتْنَةٌ، تَكُونُ بَعْدَهَا رِدَّةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع طائی جو غزوہ ذات السلاسل میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے رفیق تھے کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے انصار کی بیعت کے بارے میں کہی جانے والی باتوں کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے وہ باتیں بیان فرمائیں جو انصار نے کہی تھیں، یا جو خود انہوں نے فرمائی تھیں، یا جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انصار سے کی تھیں ور انہیں یہ بھی یاد دلایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے آپ کے مرض الوفات میں وہ لوگ میری امامت میں نماز ادا کرتے رہے ہیں، اس پر تمام انصار نے میری بیعت کر لی اور میں نے اسے ان کی طرف سے قبول کر لیا، بعد میں مجھے اندیشہ ہو کہ کہیں یہ کسی امتحان کا سبب نہ بن جائے چناچہ اس کے بعد فتنہ ارتداد پیش آ کر رہا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 42]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 43 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبٍ بن وحشي بن حرب ، أَبِيهِ ، وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ ، أَبَا بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبٍ بن وحشي بن حرب ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ عَقَدَ لِخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ عَلَى قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ، وَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو الْعَشِيرَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَسَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ سَلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْكُفَّارِ وَالْمُنَافِقِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مرتدین سے قتال کے لئے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے اعزاز میں خصوصی طور پر جھنڈا تیار کروایا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کا بہترین بندہ اور اپنے قبیلہ کا بہترین فرد خالد بن ولید ہے جو اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے، جو اللہ نے کفار و منافقین کے خلاف میان سے نکال کر سونت لی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 43]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف، حرب بن وحشي لم يرو عنه غير ابنه وحشي، فهو مجهول فى الرواية وإن كان معروفاً فى النسب
الحكم: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف، حرب بن وحشي لم يرو عنه غير ابنه وحشي، فهو مجهول فى الرواية وإن كان معروفاً فى النسب
حدیث نمبر: 44 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ الْكَلَاعِيِّ ، أَوْسَطَ بْنِ عَمْرٍو ، أَبَا بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ الْكَلَاعِيِّ ، عَنْ أَوْسَطَ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَنَةٍ، فَأَلْفَيْتُ أَبَا بَكْرٍ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَوَّلِ، فَخَنَقَتْهُ الْعَبْرَةُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، سَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ، فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ مِثْلَ يَقِينٍ بَعْدَ مُعَافَاةٍ، وَلَا أَشَدَّ مِنْ رِيبَةٍ بَعْدَ كُفْرٍ، وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَهُمَا فِي النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اوسط کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے ایک سال بعد میں مدینہ منورہ حاضر ہوا، تو میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لوگوں کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے پایا، انہوں نے فرمایا کہ اس جگہ گزشتہ سال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تھے، یہ کہہ کر آپ رو پڑے، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، پھر فرمایا: لوگو! اللہ سے درگزر کی درخواست کیا کرو، کیونکہ ایمان کے بعد عافیت سے بڑھ کر نعمت کسی کو نہیں دی گئی، اسی طرح کفر کے بعد شک سے بدترین چیز کسی کو نہیں دی گئی، سچائی کو اختیار کرو کیونکہ سچائی کا تعلق نیکی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں چیزیں جنت میں ہوں گی، جھوٹ بولنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ جھوٹ کا تعلق گناہ سے ہے اور یہ دونوں چیزیں جہنم میں ہوں گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 44]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 45 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ أَبُو سَعْدٍ الصَّاغَانِيُّ الْمَكْفُوفُ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ ، أَبَا بَكْرٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ أَبُو سَعْدٍ الصَّاغَانِيُّ الْمَكْفُوفُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالَ:" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ قَالُوا: يَوْمُ الِاثْنَيْنِ، قَالَ:" فَإِنْ مِتُّ مِنْ لَيْلَتِي، فَلَا تَنْتَظِرُوا بِي الْغَدَ، فَإِنَّ أَحَبَّ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي إِلَيَّ أَقْرَبُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدہ عائشہ صدیقہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اس دنیوی زندگی کے آخری لمحات قریب آئے، تو انہوں نے پوچھا کہ آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ پیر کا دن ہے، فرمایا: اگر میں آج ہی رات دنیا سے رخصت ہو جاؤں تو کل کا انتظار نہ کرنا بلکہ رات ہی کو دفن کر دینا کیونکہ مجھے وہ دن اور رات زیادہ محبوب ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زیادہ قریب ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 45]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف محمد بن ميسر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن ميسر
حدیث نمبر: 46 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، قَالَ: قَامَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَامٍ، فَقَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامِي عَامَ الْأَوَّلِ، فَقَالَ:" سَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، فَإِنَّهُ لَمْ يُعْطَ عَبْدٌ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنَ الْعَافِيَةِ، وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ وَالْبِرِّ، فَإِنَّهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ وَالْفُجُورَ، فَإِنَّهُمَا فِي النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے پورے ایک سال بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا کہ گزشتہ سال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی جگہ پر کھڑے ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ اللہ سے عافیت کا سوال کیا کرو، کیونکہ کسی انسان کو عافیت سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں دی گئی سچائی اور نیکی کو اختیار کرو اور یہ دونوں چیزیں جنت میں ہوں گی، جھوٹ اور گناہ سے بچو کیونکہ یہ دونوں جہنم میں ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 46]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يدرك أبا بكر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يدرك أبا بكر
حدیث نمبر: 47 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، شُعْبَةُ ، عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَلِيَّ بْنَ رَبِيعَةَ ، أَسْمَاءَ، أَوْ ابْنِ أَسْمَاءَ ، عَلِيٌّ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ رَبِيعَةَ مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَوْ ابْنِ أَسْمَاءَ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ : كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، نَفَعَنِي اللَّهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي مِنْهُ، وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ تَعَالَى لِذَلِكَ الذَّنْبِ، إِلَّا غَفَرَ لَهُ"، وَقَرَأَ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ: وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا سورة النساء آية 110، وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ سورة آل عمران آية 135.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ میں جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تھا تو اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا تھا، مجھے اس سے فائدہ پہنچاتا تھا۔ مجھ سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے اور وہ یہ حدیث بیان کرنے میں سچے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو مسلمان کوئی گناہ کر بیٹھے، پھر وضو کرے اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ کو یقیناً معاف فرما دے گا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دو آیتیں پڑھیں: «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [4-النساء:110] جو شخص کوئی گناہ کرے یا اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے، پھر اللہ سے معافی مانگے تو وہ اللہ کو بڑا بخشنے والا مہربان پائے گا۔ اور «وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّـهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ» [3-آل عمران:135] وہ لوگ کہ جب وہ کوئی گناہ کر بیٹھیں یا اپنے اوپر ظلم کریں . . .۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 47]
حکم دارالسلام
 إسناده صحيح
الحكم:  إسناده صحيح
حدیث نمبر: 48 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عُثْمَانَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ مِنْ آلِ أَبِي عُقَيْلٍ الثَّقَفِيِّ... إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ شُعْبَةُ: وَقَرَأَ إِحْدَى هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ: مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123، وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً سورة آل عمران آية 135.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں امام شعبہ رحمہ اللہ کا یہ قول منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دو میں سے کسی ایک آیت کی تلاوت فرمائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 48]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 49 مسند احمد
بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَتَادَةَ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عُمَرَ ، أَبَا بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ خَطَبَنَا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا عَامَ أَوَّلَ، فَقَالَ:" أَلَا إِنَّهُ لَمْ يُقْسَمْ بَيْنَ النَّاسِ شَيْءٌ أَفْضَلُ مِنَ الْمُعَافَاةِ بَعْدَ الْيَقِينِ، أَلَا إِنَّ الصِّدْقَ وَالْبِرَّ فِي الْجَنَّةِ، أَلَا إِنَّ الْكَذِبَ وَالْفُجُورَ فِي النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ گزشتہ سال ہمارے درمیان اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ لوگوں کے درمیان ایمان و یقین کے بعد عافیت سے بڑھ کر کوئی نعمت تقسیم نہیں کی گئی، یاد رکھو! سچائی جنت میں ہے اور جھوٹ اور گناہ جہنم میں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 49]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وإسناده ضعيف لانقطاعه، حميد بن عبدالرحمن لم يدرك عمر بن الخطاب
الحكم: صحيح لغيره، وإسناده ضعيف لانقطاعه، حميد بن عبدالرحمن لم يدرك عمر بن الخطاب
حدیث نمبر: 50 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبَا إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، قَالَ: لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرُّوا بِرَاعِي غَنَمٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: فَأَخَذْتُ قَدَحًا، فَحَلَبْتُ فِيهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ، فَأَتَيْتُهُ بِهِ، فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر کے آ رہے تھے تو راستے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پیاس لگی، اتفاقاً وہاں سے بکریوں کے ایک چرواہے کا گزر ہوا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک پیالہ لے کر اس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے تھوڑا سا دودھ دوہا اور اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نوش فرمایا یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 50]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3908، م: 2009
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3908، م: 2009
حدیث نمبر: 51 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أخبرني يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أَصْبَحْتُ، وَإِذَا أَمْسَيْتُ، وَإِذَا أَخَذْتُ مَضْجَعِي، قَالَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَوْ قَالَ: اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں عرض کیا، یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئے جو میں صبح و شام اور بستر پر لیٹتے وقت پڑھ لیا کروں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دعا سکھائی: «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَوْ قَالَ: اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ» اے اللہ! اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے، ظاہر اور پوشیدہ سب کچھ جاننے والے، ہر چیز کے پالنہار اور مالک! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہو سکتا، میں اپنی ذات کے شر، شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 51]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 52 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَمْرَو بْنَ عَاصِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ... فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یہی حدیث ایک دوسری سند سے بھی روایت کی گئی ہے جو عبارت میں مذکور ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 52]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وهو مكرر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 53 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيلَ ، قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ : أَنَّهُ خَطَبَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ، وَتَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَا وَضَعَهَا اللَّهُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْمُنْكَرَ بَيْنَهُمْ، فَلَمْ يُنْكِرُوهُ، يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمْ اللَّهُ بِعِقَابٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا: اے لوگو! تم اس آیت کی تلاوت کرتے ہو: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [5-المائدة:105] اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو، اگر تم راہ راست پر ہو تو کوئی گمراہ شخص تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور تم اسے اس صحیح محمل پر محمود نہیں کرتے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب لوگ گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو عنقریب ان سب کو اللہ کا عذاب گھیر لے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 53]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 54 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، أَبَا سَوَّارٍ الْقَاضِيَ ، أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَوَّارٍ الْقَاضِيَ ، يَقُولُ: عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: أَغْلَظَ رَجُلٌ لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَرْزَةَ:" أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ؟ قَالَ: فَانْتَهَرَهُ، وَقَالَ: مَا هِيَ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کی اور انتہائی سخت کلمات کہے، میں نے عرض کیا کہ میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے پیار سے جھڑک کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد یہ بات کسی کے لئے نہیں ہے۔ (شان رسالت میں گستاخی کی سزا تو یہی ہے البتہ ہم اپنے لئے اس کی اجازت نہیں دیں گے)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 54]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 55 مسند احمد
حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَفَدَكَ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ"، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ فَإِنِّي لَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْحَقِّ، وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدینہ، فدک اور خیبر کے خمس کی میراث کا مطالبہ لے کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک خادم بھیجا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی بلکہ ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں، وہ سب صدقہ ہوتا ہے، البتہ آل محمد اس مال میں سے کھا سکتی ہے اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جیسا کرتے ہوئے دیکھا ہے، میں اس طریقے کو کسی صورت نہیں چھوڑوں گا اور میں اس میں اسی طرح کام کروں گا جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا، گویا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کچھ بھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دینے سے انکار کر دیا جس سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طبیعت میں (فطرت انسانی کی بناء پر) ایک بوجھ آیا، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنے سے میرے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رشتہ دار زیادہ محبوب ہیں، لیکن اس مال کے حوالے سے میرے اور آپ کے درمیان جو اختلاف رائے ہے، اس میں حق سے پیچھے نہیں ہٹوں گا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جس طرح کوئی کام کرتے ہوئے سنا ہے، میں اسی طرح اس کام کو کرنا ترک نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 55]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4240، م : 1759
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4240، م : 1759
حدیث نمبر: 56 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُثْمَانُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ ، عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ، عَلِيًّا ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ، قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، نَفَعَنِي اللَّهُ بِهِ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي مِنْهُ، وَإِذَا حَدَّثَنِي غَيْرُهُ، اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي، صَدَّقْتُهُ، وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا فَيَتَوَضَّأُ، فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ تَعَالَى، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ تَلَا: وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ سورة آل عمران آية 135.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی کرم اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تھا تو اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا تھا، مجھے اس سے فائدہ پہنچاتا تھا اور جب کوئی دوسرا شخص مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتا تو میں اس سے اس پر قسم لیتا، جب وہ قسم کھا لیتا کہ یہ حدیث اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے تب کہیں جا کر میں اس کی بات کو سچا تسلیم کرتا تھا۔ مجھ سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے اور وہ یہ حدیث بیان کرنے میں سچے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی کوئی گناہ کر بیٹھے، پھر وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ کو یقینا معاف فرما دے گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ . . .» ‏‏‏‏ [3-آل عمران:135] اور وہ لوگ کہ جب وہ کوئی گناہ کر بیٹھیں یا اپنی جان پر ظلم کریں . . .۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 56]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 57 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ :" يَا زَيْدُ بْنَ ثَابِتٍ، أَنْتَ غُلَامٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ، قَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَتَبَّعْ الْقُرْآنَ، فَاجْمَعْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے جنگ یمامہ میں شہید ہونے والے حفاظ کی خبر بھجوائی اور مجھ سے فرمایا کہ زید! تم ایک سمجھ دار نوجوان ہو، ہم تمہیں کسی غلط کام کے ساتھ متہم بھی نہیں پاتے، تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کاتب وحی بھی رہ چکے ہو، اس لیے قرآن کریم کو مختلف جگہوں سے تلاش کر کے یکجا اکٹھا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 57]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4986
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4986
حدیث نمبر: 58 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ فَاطِمَةَ، وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَهُ مِنْ فَدَكَ، وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ، فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، وَإِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ"، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهِ إِلَّا صَنَعْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد ایک دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی میراث کا مطالبہ لے کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لائے اس وقت ان دونوں کا مطالبہ ارض فدک اور خیبر کا حصہ تھا، ان دونوں بزرگوں کی گفتگو سننے کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، بلکہ ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے، البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس مال میں سے کھا سکتی ہے اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جیسا کرتے ہوئے دیکھا ہے، میں اس طریقے کو کسی صورت نہیں چھوڑوں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 58]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4035، م: 1759
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4035، م: 1759
حدیث نمبر: 59 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، لِأَبِي بَكْرٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قِيلَ لِأَبِي بَكْرٍ : يَا خَلِيفَةَ اللَّهِ، فَقَالَ:" أَنَا خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا رَاضٍ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یا خلیفۃ اللہ کہہ کر پکارا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں خلیفۃ اللہ نہیں ہوں بلکہ خلیفہ رسول اللہ ہوں اور میں اسی درجے پر راضی ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 59]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، فإن ابن أبى مليكة لم يدرك أبا بكر
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، فإن ابن أبى مليكة لم يدرك أبا بكر
حدیث نمبر: 60 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، لِأَبِي بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ لِأَبِي بَكْرٍ : مَنْ يَرِثُكَ إِذَا مِتَّ؟ قَالَ: وَلَدِي، وَأَهْلِي، قَالَتْ: فَمَا لَنَا لَا نَرِثُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ النَّبِيَّ لَا يُورَثُ"، وَلَكِنِّي أَعُولُ مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُولُ، وَأُنْفِقُ عَلَى مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جب آپ اس دنیا سے کوچ فرمائیں گے تو آپ کو وارث کون ہو گا؟ فرمایا: میرے بیوی بچے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ پھر ہم کیوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وارث نہیں؟ فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی کے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، البتہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جن کی عیال داری اور نگہبانی فرماتے تھے میں ان کی عیال داری اور کفالت کرتا رہوں گا اور جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خرچ فرماتے تھے میں اس پر خرچ کرتا رہوں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 60]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وأبو سلمة لم يدرك أبا بكر، لكن سيأتي الحديث موصولاً برقم: 79
الحكم: حديث صحيح لغيره، وأبو سلمة لم يدرك أبا بكر، لكن سيأتي الحديث موصولاً برقم: 79