بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 81
صفحہ 2 از 5
حدیث نمبر: 21 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، شَيْخٌ ، رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ حِينَ بَعَثَنِي إِلَى الشَّامِ: يَا يَزِيدُ، إِنَّ لَكَ قَرَابَةً عَسَيْتَ أَنْ تُؤْثِرَهُمْ بِالْإِمَارَةِ، وَذَلِكَ أَكْبَرُ مَا أَخَافُ عَلَيْكَ، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا، فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَحَدًا مُحَابَاةً، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا، حَتَّى يُدْخِلَهُ جَهَنَّمَ، وَمَنْ أَعْطَى أَحَدًا حِمَى اللَّهِ، فَقَدْ انْتَهَكَ فِي حِمَى اللَّهِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، أَوْ قَالَ: تَبَرَّأَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن ابی سفیان فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب شام کی طرف روانہ فرمایا تو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: یزید! تمہاری کچھ رشتہ داریاں ہیں، ہو سکتا ہے کہ تم امیر لشکر ہونے کی وجہ سے اپنے رشتہ داروں کو ترجیح دو، مجھے تمہارے متعلق سب سے زیادہ اسی چیز کا اندیشہ ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص مسلمانوں کے کسی اجتماعی معاملے کا ذمہ دار بنے اور وہ دوسروں سے مخصوص کر کے کسی منصب پر کسی شخص کو مقرر کر دے، اس پر اللہ کی لعنت ہے، اللہ اس کا کوئی فرض اور کوئی نفلی عبادت قبول نہیں کرے گا، یہاں تک کہ اسے جہنم میں داخل کر دے۔ اور جو شخص کسی کو اللہ کے نام پر حفاظت دینے کا وعدہ کر لے اور اس کے بعد ناحق اللہ کے نام پر دی جانے والے اس حفاظت کے وعدے کو توڑ دیتا ہے، اس پر اللہ کی لعنت ہے یا یہ فرمایا کہ اللہ اس سے بری ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 21]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الشيخ من قريش.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الشيخ من قريش.
حدیث نمبر: 22 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، الْمَسْعُودِيُّ ، بُكَيْرُ بْنُ الْأَخْنَسِ ، رَجُلٍ ، أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ الْأَخْنَسِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُعْطِيتُ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَقُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَاسْتَزَدْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، فَزَادَنِي مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ سَبْعِينَ أَلْفًا"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَرَأَيْتُ أَنَّ ذَلِكَ آتٍ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى، وَمُصِيبٌ مِنْ حَافَّاتِ الْبَوَادِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اپنی امت میں ستر ہزار آدمی ایسے بھی عطا کئے گئے ہیں جو بلا حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے، ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے اور ان کے دل ہر طرح کی بیماری سے پاک ہونے میں ایک شخص کے دل کی طرح ہوں گے۔ میں نے اپنے رب سے اس تعداد میں اضافے کی درخواست کی تو اس نے میری درخواست کو قبول کرتے ہوئے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ مزید ستر ہزار کا اضافہ کر دیا۔ (گویا اب ستر ہزار میں سے ہر ایک کو ستر ہزار سے ضرب دے کر جو تعداد حاصل ہو گی، وہ سب جنت میں مذکورہ طریقے کے مطابق داخل ہوں گے۔) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری رائے کے مطابق یہ وہ لوگ ہوں گے جو بستیوں میں رہتے ہیں یا کسی دیہات کے کناروں پر آباد ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 22]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الرجل الراوي عن أبى بكر، والمسعودي اختلط.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الرجل الراوي عن أبى بكر، والمسعودي اختلط.
حدیث نمبر: 23 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، زِيَادٍ الْجَصَّاصِ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، أَبَا بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ زِيَادٍ الْجَصَّاصِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا، يُجْزَ بِهِ فِي الدُّنْيَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص برے اعمال کرے گا، اسے دنیا میں ہی اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 23]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف زياد الجصاص وعلي بن زيد.
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف زياد الجصاص وعلي بن زيد.
حدیث نمبر: 24 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، رَجُلٌ ، عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارٍ غَيْرُ مُتَّهَمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يُحَدِّثُ: أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَزِنُوا عَلَيْهِ، حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ أَنْ يُوَسْوِسَ. قَالَ عُثْمَانُ: فَكُنْتُ مِنْهُمْ... فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غمگین رہنے لگے، بلکہ بعض حضرات کو طرح طرح کے وساوس گھیرنا شروع کر دیا تھا، میری بھی کچھ ایسی ہی کیفیت تھی، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی جس کا ترجمہ حدیث نمبر 21 کے ذیل میں گزر چکا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 24]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح بشواهده، رجاله ثقات غير الرجل الذى روى عنه الزهري
الحكم: المرفوع منه صحيح بشواهده، رجاله ثقات غير الرجل الذى روى عنه الزهري
حدیث نمبر: 25 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا، مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ"، فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ، عَلَيْهَا السَّلَام، فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، قَالَ: وَعَاشَتْ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، قَالَ: وَكَانَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ، وَفَدَكَ، وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ، وَقَالَ: لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ، إِلَّا عَمِلْتُ بِهِ، وَإِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ، فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ، فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ، وَأَمَّا خَيْبَرُ، وَفَدَكُ، فَأَمْسَكَهُمَا عُمَرُ، وَقَالَ: هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ، وَنَوَائِبِهِ، وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ، قَالَ: فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ الْيَوْمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ مال غنیمت میں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جو ترکہ بنتا ہے، اس کی میراث تقسیم کر دیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ حضرت فاطمہ علیہا السلام کا اپنے ذہن میں اس پر کچھ بوجھ محسوس ہوا، چنانچہ انہوں نے اس معاملے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بات کرنا ہی چھوڑ دی اور یہ سلسلہ حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہما کی وفات تک رہا، یاد رہے کہ حضرت فاطمہ علیہا السلام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد صرف چھ ماہ ہی زندہ رہیں۔ اصل میں حضرت فاطمہ علیہا السلام ارض خیبر و فدک میں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ترکہ کا مطالبہ کر رہی تھیں، نیز صدقات مدینہ میں سے بھی اپنا حصہ وصول کرنا چاہتی تھیں، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس مطالبے کو پورا کرنے سے معذرت کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس طرح جو کام کرتے تھے، میں اسے چھوڑ نہیں سکتا بلکہ اسی طرح عمل کروں گا جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے، اس لئے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی عمل اور طریقے کو چھوڑا تو میں بہک جاؤں گا۔ بعد میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صدقات مدینہ کا انتظام حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے کر دیا تھا، جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ پر غالب آ گئے، جبکہ خیبر اور فدک کی زمینیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خلاف کے زیر انتظام ہی رکھیں اور فرمایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا صدقہ ہیں اور اس کا مصرف پیش آمدہ حقوق اور مشکل حالات ہیں اور ان کی ذمہ داری وہی سنبھالے گا جو خلیفہ ہو، یہی وجہ ہے کہ آج تک ان دونوں کی یہی صورت حال ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 25]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3092، م: 1759
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3092، م: 1759
حدیث نمبر: 26 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا تَمَثَّلَتْ بِهَذَا الْبَيْتِ، وَأَبُو بَكْرٍ يَقْضِي: وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ رَبِيعُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ :" ذَاكَ وَاللَّهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس دنیوی فانی زندگی کے آخری لمحات گزار رہے تھے تو میں نے ایک شعر پڑھا (جس کا ترجمہ یہ ہے) «وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ . . . رَبِيعُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ» کہ وہ ایسے خوبصورت چہرے والا ہے کہ جس کے روئے انور کی برکت سے طلب باران کی جاتی ہے، یتیموں کا سہارا اور بیواؤں کا محافظ ہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بخدا! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہی شان ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 26]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على ابن زيد وهو ابن جدعان
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على ابن زيد وهو ابن جدعان
حدیث نمبر: 27 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبِي ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي : أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَدْرُوا أَيْنَ يَقْبُرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى قَالَ أَبُو بَكْرٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَنْ يُقْبَرَ نَبِيٌّ إِلَّا حَيْثُ يَمُوتُ"، فَأَخَّرُوا فِرَاشَهُ، وَحَفَرُوا لَهُ تَحْتَ فِرَاشِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے یہ حدیث سنائی کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا تو لوگوں کے علم میں یہ بات نہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مبارک کہاں بنائی جائے؟ حتی کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس مسئلے کو حل کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کی قبر وہیں بنائی جاتی ہے جہاں ان کا انتقال ہوتا ہے، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بستر مبارک اٹھا کر اس کے نیچے قبر مبارک کھودی اور وہیں تدفین عمل میں آئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 27]
حکم دارالسلام
حديث قوي بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، وابن جريج: هو عبدالملك ابن عبدالعزيز بن جريج، ووالده لم يدرك أبا بكر، على لين فيه
الحكم: حديث قوي بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، وابن جريج: هو عبدالملك ابن عبدالعزيز بن جريج، ووالده لم يدرك أبا بكر، على لين فيه
حدیث نمبر: 28 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي، قَالَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا، یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئے جو میں نماز میں مانگ لیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں یہ دعا تلقین فرمائی: «اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» کہ اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا، تیرے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کر سکتا، اس لئے خاص اپنے فضل سے میرے گناہوں کو معاف فرما اور مجھ پر رحم فرما، بیشک تو بڑ ا بخشنے والا، مہربان ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 28]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 834، م: 2705
الحكم: إسناده صحيح، خ: 834، م: 2705
حدیث نمبر: 29 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٍ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: قَامَ أَبُو بَكْرٍ : فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ سورة المائدة آية 105 حَتَّى أَتَى عَلَى آخِرِ الْآيَةِ: أَلَا وَإِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الظَّالِمَ لَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ، أَوْشَكَ اللَّهُ أَنْ يَعُمَّهُمْ بِعِقَابِهِ، أَلَا وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ..." وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: وَإِنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: اے لوگو! تم اس آیت کی تلاوت کرتے ہو «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ» [5-المائدة:105] اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو، اگر تم راہ راست پر ہو تو کوئی گمراہ شخص تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یاد رکھو! جب لوگ گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو عنقریب ان سب کو اللہ کا عذاب گھیر لے گا۔ یاد رکھو! کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 29]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 30 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ: يا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ، أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمْ اللَّهُ بِعِقَابِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: اے لوگو! تم اس آیت کی تلاوت کرتے ہو۔ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ» [5-المائدة:105] اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو، اگر تم راہ راست پر ہو تو کوئی گمراہ شخص تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یاد رکھو! جب لوگ گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو عنقریب ان سب کو اللہ کا عذاب گھیر لے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 30]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 31 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٌ ، فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، وَعَفَّانُ ، همام ، فَرْقَدٍ ، مُرَّةُ الطَّيِّبُ ، أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ . وَعَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا همام ، قَالَ: أَخْبَرَنَا فَرْقَدٍ ، عَنْ مُرَّةُ الطَّيِّبُ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی بد اخلاق شخص جنت میں نہ جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 31]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي
حدیث نمبر: 32 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى ، فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، مُرَّةَ الطَّيِّبِ ، أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ مُرَّةَ الطَّيِّبِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ خَبٌّ، وَلَا بَخِيلٌ، وَلَا مَنَّانٌ، وَلَا سَيِّئُ الْمَلَكَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْمَمْلُوكُ إِذَا أَطَاعَ اللَّهَ وَأَطَاعَ سَيِّدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی دھوکہ باز، کوئی بخیل، کوئی احسان جتانے والا اور کوئی بداخلاق جنت میں داخل نہ ہو گا اور جنت کا دروازہ سب سے پہلے جو شخص بجائے گا وہ غلام ہو گا، بشرطیکہ وہ اللہ کی اطاعت بھی کرتا ہو اور اپنے آقا کی بھی اطاعت کرتا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 32]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 33 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ ، عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ أَفَاقَ مِنْ مَرْضَةٍ لَهُ، فَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ، فَاعْتَذَرَ بِشَيْءٍ، وَقَالَ: مَا أَرَدْنَا إِلَّا الْخَيْرَ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ يُقَالُ لَهَا خُرَاسَانُ، يَتْبَعُهُ أَقْوَامٌ كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن حریث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کچھ بیمار ہو گئے، جب صحت یاب ہوئے تو لوگوں سے ملنے باہر تشریف لائے لوگوں سے معذرت کی اور فرمایا ہم تو صرف خیر ہی چاہتے ہیں، پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث ارشاد فرمائی ہے کہ دجال ایک مشرقی علاقے سے خروج کرے گا جس کا نام خراسان ہو گا اور اس کی پیروی ایسے لوگ کریں گے جن کے چہرے چپٹی کمانوں کی طرح ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 33]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 34 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ ، أَوْسَطَ الْبَجَلِيَّ ، أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ مَرَّةً: قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسَطَ الْبَجَلِيَّ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَخْطُبُ النَّاسَ، وَقَالَ مَرَّةً: حِينَ اسْتُخْلِفَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَامَ الْأَوَّلِ مَقَامِي هَذَا، وَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ:" أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ، فَإِنَّ النَّاسَ لَمْ يُعْطَوْا بَعْدَ الْيَقِينِ شَيْئًا خَيْرًا مِنَ الْعَافِيَةِ، وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّهُ فِي الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ، وَهُمَا فِي النَّارِ، وَلَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اوسط کہتے ہیں کہ خلافت کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس جگہ گزشتہ سال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تھے، یہ کہہ کر آپ رو پڑے، پھر فرمایا: میں اللہ سے درگزر اور عافیت کی درخواست کرتا ہوں، کیونکہ ایمان کے بعد عافیت سے بڑھ کر نعمت کسی کو نہیں دی گئی، سچائی کو اختیار کرو، کیونکہ سچائی جنت میں ہو گی، جھوٹ بولنے سے اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ جھوٹ کا تعلق گناہ سے ہے اور یہ دونوں چیزیں جہنم میں ہوں گی، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بغض نہ کرو، قطع تعلقی مت کرو، ایک دوسرے سے منہ مت پھیرو اور اے اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 34]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 35 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَشَّرَاهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرات شیخین عنہما نے انہیں یہ خوشخبری دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص یہ چاہتا ہے کہ قرآن کریم جس طرح نازل ہوا ہے، اسی طرح اس کی تلاوت پر مضبوطی سے جما رہے، اسے چاہیے کہ قرآن کریم کی تلاوت ابن ام عبد یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرأت پر کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 35]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 36 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو بَكْرٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، قَالَ: غَضًّا، أَوْ: رَطْبًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے، البتہ اس میں «غضا» یا «رطبا» دونوں الفاظ آئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 36]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 37 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، أَبِي الْحُوَيْرِثِ ، مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عُثْمَانَ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ : أَنَّ عُثْمَانَ ، قَالَ: تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَاذَا يُنْجِينَا مِمَّا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِي أَنْفُسِنَا؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" يُنْجِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ أَنْ تَقُولُوا مَا أَمَرْتُ به عَمِّي، أَنْ يَقُولَهُ فَلْم يقُلْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس چیز کی بڑی تمنا تھی کہ کاش! میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال سے پہلے یہ دریافت کر لیتا کہ شیطان ہمارے دلوں میں جو وساوس اور خیالات ڈالتا ہے، ان سے ہمیں کیا چیز بچا سکتی ہے؟ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں یہ سوال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھ چکا ہوں، جس کا جواب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوں دیا تھا کہ تم وہی کلمہ توحید کہتے رہو جو میں نے اپنے چچا کے سامنے پیش کیا تھا لیکن انہوں نے وہ کلمہ کہنے سے انکار کر دیا تھا، اس کلمہ کی کثرت ہی تمہیں ان وساوس سے نجات دلا دے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 37]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، محمد بن جبير بن مطعم لم يسمع من عثمان، وأبو الحويرث مختلف فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، محمد بن جبير بن مطعم لم يسمع من عثمان، وأبو الحويرث مختلف فيه
حدیث نمبر: 38 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، أَبَا بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: َقالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ النَّاسَ لَمْ يُعْطَوْا فِي الدُّنْيَا خَيْرًا مِنَ الْيَقِينِ وَالْمُعَافَاةِ، فَسَلُوهُمَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگو! انسان کو دنیا میں ایمان اور عافیت سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں دی گئی، اس لئے اللہ سے ان دونوں چیزوں کی دعا کرتے رہا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 38]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يدرك أبا بكر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يدرك أبا بكر
حدیث نمبر: 39 مسند احمد
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَحْفِرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ يَضْرَحُ كَحَفْرِ أَهْلِ مَكَّةَ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ زَيْدُ بْنُ سَهْلٍ يَحْفِرُ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ فَكَانَ يَلْحَدُ، فَدَعَا الْعَبَّاسُ رَجُلَيْنِ، فَقَالَ لِأَحَدِهِمَا: اذْهَبْ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ، وَلِلْآخَرِ: اذْهَبْ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ، اللَّهُمَّ خِرْ لِرَسُولِكَ، قَالَ: فَوَجَدَ صَاحِبُ أَبِي طَلْحَةَ أَبَا طَلْحَةَ، فَجَاءَ بِهِ، فلحد لرسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ صحابہ کرام عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد جب قبر مبارک کی کھدوائی کا ارادہ کیا اور معلوم ہوا کہ سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ صندوقی قبر بناتے ہیں جیسے اہل مکہ اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ جن کا اصل نام زید بن سہل تھا اہل مدینہ کے لئے بغلی قبر بناتے ہیں، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں کو بلایا، ایک کو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور دوسرے کو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس اور دعا کی کہ اے اللہ! اپنے پیغمبر کے لئے جو بہتر ہو اسی کو پسند فرما لے، چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس جانے والے آدمی کو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مل گئے اور وہ انہی کو لے کر آ گیا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے بغلی قبر تیار کی گئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 39]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبد الله
الحكم: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبد الله
حدیث نمبر: 40 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَخْبَرَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَيَالٍ، وَعَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام يَمْشِي إِلَى جَنْبِهِ، فَمَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَلْعَبُ مَعَ غِلْمَانٍ، فَاحْتَمَلَهُ عَلَى رَقَبَتِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: وَا بِأَبِي شَبَهُ النَّبِيِّ لَيْسَ شَبِيهًا بِعَلِيِّ قَالَ: وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال مبارک کے چند دن بعد عصر کی نماز پڑھ کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد نبوی سے نکلا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک جانب تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ کا گزر سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جو اپنے ہم جولیوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں اٹھا کر اپنے کندھے پر بٹھا لیا اور فرمانے لگے میرے باپ قربان ہوں، یہ تو پورا پورا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشابہہ ہے علی کے مشابہہ تھوڑی ہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اللہ عنہ یہ سن کر مسکرا رہے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 40]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3542
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3542