مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَخْبَرَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَيَالٍ، وَعَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام يَمْشِي إِلَى جَنْبِهِ، فَمَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَلْعَبُ مَعَ غِلْمَانٍ، فَاحْتَمَلَهُ عَلَى رَقَبَتِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: وَا بِأَبِي شَبَهُ النَّبِيِّ لَيْسَ شَبِيهًا بِعَلِيِّ قَالَ: وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال مبارک کے چند دن بعد عصر کی نماز پڑھ کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد نبوی سے نکلا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک جانب تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ کا گزر سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جو اپنے ہم جولیوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں اٹھا کر اپنے کندھے پر بٹھا لیا اور فرمانے لگے میرے باپ قربان ہوں، یہ تو پورا پورا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشابہہ ہے علی کے مشابہہ تھوڑی ہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اللہ عنہ یہ سن کر مسکرا رہے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 40]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3542
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3542