بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 81
صفحہ 1 از 5
حدیث نمبر: 1 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسٍ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: قَامَ أَبُو بَكْرٍ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105، وَإِنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْمُنْكَرَ فَلَمْ يُغِّيِروه، أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرنے کے بعد فرمایا: اے لوگو! تم اس آیت کی تلاوت کرتے ہو: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [5-المائدة:105] اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو، اگر تم راہ راست پر ہو تو کوئی گمراہ شخص تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب لوگ گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو عنقریب ان سب کو اللہ کا عذاب گھیر لے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ ، عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ ، أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، نَفَعَنِي اللَّهُ بِمَا شَاءَ مِنْهُ، وَإِذَا حَدَّثَنِي عَنْهُ غَيْرِي، اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ حَدَّثَنِي، وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا، فَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، قَالَ مِسْعَرٌ: وَيُصَلِّي، وَقَالَ سُفْيَانُ: ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا غَفَرَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تھا تو اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا تھا، مجھے اس سے فائدہ پہنچاتا تھا اور جب کوئی دوسرا شخص مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتا تو میں اس سے اس پر قسم لیتا، جب وہ قسم کھا لیتا کہ یہ حدیث اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے تب کہیں جا کر میں اس کی بات کو سچا تسلیم کرتا تھا۔ مجھ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے اور وہ یہ حدیث بیان کرنے میں سچے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی کوئی گناہ کر بیٹھے، پھر وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ کو یقیناً معاف فرما دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 2]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3 مسند احمد
عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي الْعَنْقَزِيَّ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي الْعَنْقَزِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ مِنْ عَازِبٍ سَرْجًا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعَازِبٍ: مُرْ الْبَرَاءَ فَلْيَحْمِلْهُ إِلَى مَنْزِلِي، فَقَالَ: لَا، حَتَّى تُحَدِّثَنَا كَيْفَ صَنَعْتَ حِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتَ مَعَهُ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : خَرَجْنَا فَأَدْلَجْنَا، فَأَحْثَثْنَا يَوْمَنَا وَلَيْلَتَنَا، حَتَّى أَظْهَرْنَا، وَقَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ، فَضَرَبْتُ بِبَصَرِي هَلْ أَرَى ظِلًّا نَأْوِي إِلَيْهِ؟ فَإِذَا أَنَا بِصَخْرَةٍ، فَأَهْوَيْتُ إِلَيْهَا، فَإِذَا بَقِيَّةُ ظِلِّهَا، فَسَوَّيْتُهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَرَشْتُ لَهُ فَرْوَةً، وَقُلْتُ: اضْطَجِعْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاضْطَجَعَ، ثُمَّ خَرَجْتُ أَنْظُرُ هَلْ أَرَى أَحَدًا مِنَ الطَّلَبِ؟ فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ؟ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَسَمَّاهُ فَعَرَفْتُهُ، فَقُلْتُ: هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِي؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَمَرْتُهُ، فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْهَا، ثُمَّ أَمَرْتُهُ فَنَفَضَ ضَرْعَهَا مِنَ الْغُبَارِ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ فَنَفَضَ كَفَّيْهِ مِنَ الْغُبَارِ، وَمَعِي إِدَاوَةٌ عَلَى فَمِهَا خِرْقَةٌ، فَحَلَبَ لِي كُثْبَةً مِنَ اللَّبَنِ، فَصَبَبْتُ يَعْنِي الْمَاءَ عَلَى الْقَدَحِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَافَيْتُهُ وَقَدْ اسْتَيْقَظَ، فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ، ثُمَّ قُلْتُ: هَلْ أَنَى الرَّحِيلُ، قَالَ: فَارْتَحَلْنَا، وَالْقَوْمُ يَطْلُبُونَا، فَلَمْ يُدْرِكْنَا أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَّا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ لَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا، فَقَالَ:" لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا"، حَتَّى إِذَا دَنَا مِنَّا، فَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ قَدْرُ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا، وَبَكَيْتُ، قَالَ:" لِمَ تَبْكِي؟" قَالَ: قُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلَى نَفْسِي أَبْكِي، وَلَكِنْ أَبْكِي عَلَيْكَ، قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اكْفِنَاهُ بِمَا شِئْتَ"، فَسَاخَتْ قَوَائِمُ فَرَسِهِ إِلَى بَطْنِهَا فِي أَرْضٍ صَلْدٍ، وَوَثَبَ عَنْهَا، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ هَذَا عَمَلُكَ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُنْجِيَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ، فَوَاللَّهِ لَأُعَمِّيَنَّ عَلَى مَنْ وَرَائِي مِنَ الطَّلَبِ، وَهَذِهِ كِنَانَتِي، فَخُذْ مِنْهَا سَهْمًا، فَإِنَّكَ سَتَمُرُّ بِإِبِلِي وَغَنَمِي فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا، فَخُذْ مِنْهَا حَاجَتَكَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا"، قَالَ: وَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُطْلِقَ، فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَتَلَقَّاهُ النَّاسُ، فَخَرَجُوا فِي الطَّرِيقِ، وَعَلَى الْأَجَاجِيرِ، فَاشْتَدَّ الْخَدَمُ وَالصِّبْيَانُ فِي الطَّرِيقِ، يَقُولُونَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَ مُحَمَّدٌ، قَالَ: وَتَنَازَعَ الْقَوْمُ أَيُّهُمْ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْزِلُ اللَّيْلَةَ عَلَى بَنِي النَّجَّارِ، أَخْوَالِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لِأُكْرِمَهُمْ بِذَلِكَ"، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا حَيْثُ أُمِرَ. قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ: أَوَّلُ مَنْ كَانَ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْنَا ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى أَخُو بَنِي فِهْرٍ، ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ رَاكِبًا، فَقُلْنَا: مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: هُوَ عَلَى أَثَرِي، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ، قَالَ الْبَرَاءُ: وَلَمْ يَقْدَمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قرأت سُوَرًا مِنَ الْمُفَصَّلِ، قَالَ إِسْرَائِيلُ: وَكَانَ الْبَرَاءُ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میرے والد حضرت عازب رضی اللہ عنہ سے تیرہ درہم کے عوض ایک زین خریدی اور میرے والد سے فرمایا کہ اپنے بیٹے براء سے کہہ دیجیے کہ وہ اسے اٹھا کر میرے گھر تک پہنچا دے، انہوں نے کہا کہ پہلے آپ وہ واقعہ سنائیے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کی اور آپ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ شب ہجرت ہم لوگ رات کی تاریکی میں نکلے اور سارا دن اور ساری رات تیزی سے سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ ظہر کا وقت ہو گیا، میں نے نظر دوڑا کر دیکھا کہ کہیں کوئی سایہ نظر آتا ہے یا نہیں؟ مجھے اچانک ایک چٹان نظر آئی، میں اسی کی طرف لپکا تو وہاں کچھ سایہ موجود تھا، میں نے وہ جگہ برابر کی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیٹھنے کے لئے اپنی پوستین بچھا دی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آ کر عرض کیا یا رسول اللہ! کچھ دیر آرام فرما لیجیے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لیٹ گئے۔ ادھر میں یہ جائزہ لینے کے لئے نکلا کہ کہیں کوئی جاسوس تو نہیں دکھائی دے رہا؟ اچانک مجھے بکریوں کا ایک چرواہا مل گیا، میں نے اس سے پوچھا: بیٹا! تم کس کے ہو؟ اس نے قریش کے ایک آدمی کا نام لیا جسے میں جانتا تھا، میں نے اس سے فرمائش کی کہ کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، میں نے اس سے دودھ دوہ کر دینے کی فرمائش کی تو اس نے اس کا بھی مثبت جواب دیا اور میرے کہنے پر اس نے ایک بکری کو قابو میں کر لیا۔ پھر میں نے اس سے بکری کے تھن پر سے غبار صاف کرنے کو کہا جو اس نے کر دیا، پھر میں نے اس سے اپنے ہاتھ جھاڑنے کو کہا تاکہ وہ گرد و غبار دور ہو جائے چنانچہ اس نے اپنے ہاتھ بھی جھاڑ لیے، اس وقت میرے پاس ایک برتن تھا، جس کے منہ پر چھوٹا سا کپڑا لیپٹا ہوا تھا، اس برتن میں اس نے تھوڑا سا دودھ دوہا اور میں نے اس پر پانی چھڑک دیا تاکہ برتن نیچے سے ٹھنڈا ہو جائے۔ اس کے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو، جب میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہو چکے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وہ دودھ نوش فرمانے کی درخواست کی، جسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبول کر لیا اور اتنا دودھ پیا کہ میں مطمئن اور خوش ہو گیا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا اب روانگی کا وقت آ گیا ہے اور اب ہمیں چلنا چاہئے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایماء پر ہم وہاں سے روانہ ہو گئے، پوری قوم ہماری تلاش میں تھی، لیکن سراقہ بن مالک بن جعشم کے علاوہ جو اپنے گھوڑے پر سوار تھا ہمیں کوئی نہ پا سکا، سراقہ کو دیکھ کر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ جاسوس ہم تک پہنچ گیا ہے، اب کیا ہو گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آپ غمگین اور دل برداشتہ نہ ہوں، اللہ ہمارے ساتھ ہے، ادھر وہ ہمارے اور قریب ہو گیا اور ہمارے اور اس کے درمیان ایک یا دو تین نیزوں کے بقدر فاصلہ رہ گیا، میں نے پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ تو ہمارے قریب پہنچ گیا ہے اور یہ کہہ کر میں رو پڑا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے رونے کی وجہ پوچھی تو میں نے عرض کیا: بخدا! میں اپنے لئے نہیں رو رہا، میں تو آپ کے لئے رو رہا ہوں کہ اگر آپ کو پکڑ لیا گیا تو یہ نجانے کیا سلوک کریں گے؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سراقہ کے لئے بددعا فرمائی کہ اے اللہ! تو جس طرح چاہے، اس سے ہماری کفایت اور حفاظت فرما۔ اس وقت اس کے گھوڑے کے پاؤں پیٹ تک زمین میں دھنس گئے، حالانکہ وہ زمین انتہائی سپات اور سخت تھی اور سراقہ اس سے نیچے گر پڑا اور کہنے لگا کہ اے محمد! میں جانتاہوں کہ یہ آپ کا کوئی عمل ہے، آپ اللہ سے دعا کر دیجیے کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دے دے، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آپ کی تلاش میں اپنے پیچھے آنے والے تمام لوگوں پر آپ کو مخفی رکھوں گا اور کسی کو آپ کی خبر نہ ہونے دوں گا، نیز یہ میرا ترکش ہے، اس میں سے ایک تیر بطور نشانی کے آپ لے لیجئیے، فلاں فلاں مقام پر آپ کا گزر میرے اونٹوں اور بکریوں پر ہو گا، آپ کو ان میں سے جس چیز کی جتنی ضرورت ہو، آپ لے لیجیے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا کی اور اسے رہائی مل گئی، اس کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس لوٹ گیا اور ہم دونوں اپنی راہ پر ہو لئے یہاں تک کہ ہم لوگ مدینہ منورہ پہنچ گئے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کے لئے اپنے گھروں سے نکل پڑے، کچھ اپنے گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دیدار کرنے لگے۔ اور راستے ہی میں بچے اور غلام مل کر زور زور سے نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تشریف آوری پر لوگوں میں یہ جھگڑا ہونے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس قبیلے کے مہمان بنیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس جھگڑے کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: آج رات تو میں عبد المطلب کے اخوال بنو نجار کا مہمان بنوں گا تاکہ ان کے لئے باعث عزوشرف ہو جائے، چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں تشریف لے گئے جہاں کا آپ کو حکم ملا۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نقل فرماتے ہیں کہ مہاجرین میں سے ہمارے یہاں سب سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو عبدالدار سے تھا، تشریف لائے تھے، پھر بنوفہر سے تعلق رکھنے والے ایک نابینا صحابی حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیسں سواروں کے ساتھ ہمارے یہاں رونق افروز ہوئے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے، تو ہم نے ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کیا ارادہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ وہ بھی میرے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں، چنانچہ کچھ ہی عرصے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی مدینہ منورہ میں جلوہ افروز ہو گئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ساتھ آئے۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل ہی میں مفصلات کی متعدد سورتیں پڑھ اور یاد کر چکا تھا، راوی حدیث اسرائیل کہتے ہیں کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو حارثہ سے تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 3]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. خ: 3615، م: 2009
الحكم: إسناده صحيح. خ: 3615، م: 2009
حدیث نمبر: 4 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ ، أَبِي بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: قَالَ إِسْرَائِيلُ : قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ بِبَرَاءَةٌ لِأَهْلِ مَكَّةَ: لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِك، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدَّةٌ، فَأَجَلُهُ إِلَى مُدَّتِهِ، وَاللَّهُ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ، قَالَ: فَسَارَ بِهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ:" الْحَقْهُ، فَرُدَّ عَلَيَّ أَبَا بَكْرٍ، وَبَلِّغْهَا أَنْتَ"، قَالَ: فَفَعَلَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ بَكَى، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدَثَ فِيَّ شَيْءٌ؟ قَالَ:" مَا حَدَثَ فِيكَ إِلَّا خَيْرٌ، وَلَكِنْ أُمِرْتُ أَنْ لَا يُبَلِّغَهُ إِلَّا أَنَا، أَوْ رَجُلٌ مِنِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں امیر حج بنا کر بھیجتے وقت اہل مکہ سے اس برائت کا اعلان کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی تھی کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کر سکے گا، کوئی آدمی برہنہ ہو کر طواف نہیں کر سکے گا، جنت میں صرف وہی شخص داخل ہو سکے گا جو مسلمان ہو، جس شخص کا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی خاص مدت کے لئے کوئی معاہدہ پہلے سے ہوا ہو، وہ اپنی مدت کے اختتام تک برقرار رہے گا اور یہ کہ اللہ اور اس کا پیغمبر مشرکین سے بری ہیں۔ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس پیغام کو لے کر روانہ ہو گئے اور تین دن کی مسافت طے کر چکے، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ابوبکر کے پیچھے جاؤ اور انہیں میرے پاس واپس بلا کر لاؤ اور امارت حج نہیں لیکن صرف پیغام تم نے اہل مکہ تک پہنچانا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ روانہ ہو گئے، جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ واپس آئے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میرے بارے کوئی نئی بات پیش آ گئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آپ کے بارے تو صرف خیر ہی پیش آ سکتی ہے، اصل بات یہ ہے کہ اس پیغام کو اہل عرب کے رواج کے مطابق اہل مکہ تک یا خود میں پہنچا سکتا تھا یا میرے خاندان کا کوئی فرد، اس لئے میں نے صرف یہ ذمہ داری علی کے سپرد کر دی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 4]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لعلل، وسيأتي فى مسند على مختصرة برقم: 594، وهو المحفوظ
الحكم: إسناده ضعيف لعلل، وسيأتي فى مسند على مختصرة برقم: 594، وهو المحفوظ
حدیث نمبر: 5 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، أَوْسَطَ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَوْسَطَ ، قَالَ: خَطَبَنَا أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامِي هَذَا عَامَ الْأَوَّلِ، وَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:" سَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ، أَوْ قَالَ: الْعَافِيَةَ فَلَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ قَطُّ بَعْدَ الْيَقِينِ أَفْضَلَ مِنَ الْعَافِيَةِ، أَوْ الْمُعَافَاةِ، عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ مَعَ الْبِرِّ، وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ، وَهُمَا فِي النَّارِ، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمْ اللَّهُ تَعَالَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اوسط کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا کہ اس جگہ گزشتہ سال نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تھے، یہ کہہ کر آپ رو پڑے، پھر فرمایا اللہ سے درگزر کی درخواست کیا کرو، کیونکہ ایمان کے بعد عافیت سے بڑھ کر نعمت کسی کو نہیں دی گئی، سچائی کو اختیار کرو، کیونکہ سچائی کا تعلق نیکی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں چیزیں جنت میں ہوں گی، جھوٹ بولنے سے اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ جھوٹ کا تعلق گناہ سے ہے اور یہ دونوں چیزیں جہنم میں ہوں گی، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بغض نہ کرو، قطع تعلقی مت کرو، ایک دوسرے سے منہ مت پھیرو اور اے اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 5]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ ، رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ، يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ حِينَ ذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ، فِي هَذَا الْقَيْظِ عَامَ الْأَوَّلِ:" سَلُوا اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ، وَالْيَقِينَ فِي الْآخِرَةِ وَالْأُولَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رفاعہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو منبر رسول پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر کر کے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر گریہ طاری ہو گیا اور وہ رو پڑے، پھر جب حالت سنبھلی تو فرمایا کہ میں نے گزشتہ سال اسی جگہ پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اللہ سے اس کے عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو اور دنیا و آخرت میں یقین کی دعا مانگا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 6]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 7 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسواک منہ کی پاکیزگی اور پروردگار کی خوشنودی کا سبب ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 7]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا سند رجاله ثقات، إلا أن فيه انقطاع، والد ابن أبى عتيق لم يسمع من أبى بكر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا سند رجاله ثقات، إلا أن فيه انقطاع، والد ابن أبى عتيق لم يسمع من أبى بكر
حدیث نمبر: 8 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، اللَّيْثُ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، يُونُسُ ، حَسَنٌ الْأَشْيَبُ ، ابْنِ لَهِيعَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي، قَالَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ". وقَالَ يُونُسُ : كَبِيرًا، حَدَّثَنَاه حَسَنٌ الْأَشْيَبُ ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ ، قَالَ: كَبِيرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئے جو میں نماز میں مانگ لیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اس دعاء تلقین فرمائی «اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» کہ اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا، تیرے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کر سکتا، اس لئے خاص اپنے فضل سے میرے گناہوں کو معاف فرما اور مجھ پر رحم فرما، بیشک تو بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 8]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 834، م: 2705
الحكم: إسناده صحيح، خ: 834، م: 2705
حدیث نمبر: 9 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ فَاطِمَةَ وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ، يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَهُ مِنْ فَدَكَ، وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ، فَقَالَ لَهُمْ أَبُو بَكْرٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ"، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهِ إِلَّا صَنَعْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد ایک دن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میراث کا مطالبہ لے کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لائے، اس وقت ان دونوں کا مطالبہ ارض فدک اور خیبر کا حصہ تھا، ان دونوں بزرگوں کی گفتگو سننے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، بلکہ ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں، وہ سب صدقہ ہوتا ہے، البتہ آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مال میں سے کھا سکتی ہے اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جیسا کرتے ہوئے دیکھا ہے، میں اس طریقے کو کسی صورت نہیں چھوڑوں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 9]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4035، م: 1759
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4035، م: 1759
حدیث نمبر: 10 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ الْحَارِثِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ الْحَارِثِ ، يَقُولُ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مِنْ عَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ اسْتَعْبَرَ أَبُو بَكْرٍ وَبَكَى، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَمْ تُؤْتَوْا شَيْئًا بَعْدَ كَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ مِثْلَ الْعَافِيَةِ، فَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَة".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس منبر رسول پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ آج ہی کے دن گزشتہ سال میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا اور یہ کہہ کر آپ رو پڑے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، تھوڑی دیر کے بعد فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کلمہ توحید و اخلاص کے بعد تمہیں عافیت جیسی کوئی دوسری نعمت نہیں دی گئی، اس لئے اللہ سے عافیت کا سوال کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 10]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، عبدالملك بن الحارث مترجم فى التاريخ الكبير للبخاري : 409/5 ، والجرح والتعديل : 346/5، وذكره ابن حبان فى الثقات : 117/5 وقد توبع .
الحكم: حديث صحيح لغيره، عبدالملك بن الحارث مترجم فى التاريخ الكبير للبخاري : 409/5 ، والجرح والتعديل : 346/5، وذكره ابن حبان فى الثقات : 117/5 وقد توبع .
حدیث نمبر: 11 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ ، أَبَا بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْغَارِ، وَقَالَ مَرَّةً: وَنَحْنُ فِي الْغَارِ: لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ إِلَى قَدَمَيْهِ لَأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شب ہجرت کی یاد تازہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس وقت ہم لوگ غار ثور میں تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنے پاؤں کی طرف دیکھ لیا تو نیچے سے ہم نظر آ جائیں گے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 11]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3653، م: 2381
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3653، م: 2381
حدیث نمبر: 12 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ ، عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ يُقَالُ لَهَا: خُرَاسَانُ، يَتَّبِعُهُ أَقْوَامٌ كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دجال کا خروج مشرق کے ایک علاقے سے ہو گا جس کا نام خراسان ہو گا اور اس کی پیروی ایسے لوگ کریں گے جن کے چہرے چپٹی کمان کی طرح محسوس ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 12]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى صَاحِبُ الدَّقِيقِ ، فَرْقَدٍ ، مُرَّةَ بْنِ شَرَاحِيلَ ، أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى صَاحِبُ الدَّقِيقِ ، عَنْ فَرْقَدٍ ، عَنْ مُرَّةَ بْنِ شَرَاحِيلَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بَخِيلٌ، وَلَا خَبٌّ، وَلَا خَائِنٌ، وَلَا سَيِّئُ الْمَلَكَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ الْمَمْلُوكُونَ ؛ إِذَا أَحْسَنُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَفِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَوَالِيهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی بخیل، کوئی دھوکہ باز، کوئی خیانت کرنے والا اور کوئی بداخلاق شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا اور جنت کا دروازہ سب سے پہلے کھٹکھٹانے والے لوگ غلام ہوں گے لیکن اس سے مراد وہ غلام ہیں جو اللہ اور اپنے آقاؤں کے معاملے میں اچھے ثابت ہوں یعنی حقوق اللہ کی بھی فکر کرتے ہوں اور اپنے آقا کی خدمت میں بھی کسی قسم کی کمی نہ کرتے ہوں اور ان کے حقوق بھی مکمل طور پر ادا کرتے ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 13]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف صدقة بن موسي و فرقد السبخي.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف صدقة بن موسي و فرقد السبخي.
حدیث نمبر: 14 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ: أَنْتَ وَرِثْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْ أَهْلُهُ؟ قَالَ: فَقَالَ: لَا، بَلْ أَهْلُهُ، قَالَتْ: فَأَيْنَ سَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، إِذَا أَطْعَمَ نَبِيًّا طُعْمَةً، ثُمَّ قَبَضَهُ جَعَلَهُ لِلَّذِي يَقُومُ مِنْ بَعْدِهِ"، فَرَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، قَالَتْ: فَأَنْتَ، وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعْلَمُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال مبارک ہو گیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک قاصد کے ذریعے یہ پیغام بھجوایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وارث آپ ہیں یا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ؟ انہوں نے جواباً فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ ہی ان کے وارث ہیں، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تو پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حصہ کہاں ہے؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کوئی چیز کھلاتا ہے، پھر انہیں اپنے پاس بلا لیتا ہے تو اس کا نظم و نسق اس شخص کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو خلیفہ وقت ہو، اس لئے میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ اس مال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دوں، یہ تمام تفصیل سن کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آپ نے جو سنا ہے، آپ اسے زیادہ جانتے ہیں، چناچہ اس کے بعد انہوں نے اس کا مطالبہ کرنا چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 14]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِيُّ ، النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ الْمَازِنِيُّ ، أَبُو نَعَامَةَ ، أَبُو هُنَيْدَةَ الْبَرَاءُ بْنُ نَوْفَلٍ ، وَالَانَ الْعَدَوِيِّ ، حُذَيْفَةَ ، أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ الْمَازِنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو نَعَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُنَيْدَةَ الْبَرَاءُ بْنُ نَوْفَلٍ ، عَنْ وَالَانَ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَصَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ جَلَسَ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الضُّحَى، ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَلَسَ مَكَانَهُ حَتَّى صَلَّى الْأُولَى، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، كُلُّ ذَلِكَ لَا يَتَكَلَّمُ، حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ النَّاسُ لِأَبِي بَكْرٍ: أَلَا تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُهُ؟ صَنَعَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ يَصْنَعْهُ قَطُّ، قَالَ: فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" نَعَمْ، عُرِضَ عَلَيَّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا، وَأَمْرِ الْآخِرَةِ، فَجُمِعَ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ بِصَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَفَظِعَ النَّاسُ بِذَلِكَ، حَتَّى انْطَلَقُوا إِلَى آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام، وَالْعَرَقُ يَكَادُ يُلْجِمُهُمْ، فَقَالُوا: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ، وَأَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، قَالَ: لَقَدْ لَقِيتُ مِثْلَ الَّذِي لَقِيتُمْ، انْطَلِقُوا إِلَى أَبِيكُمْ بَعْدَ أَبِيكُمْ، إِلَى نُوحٍ: إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ سورة آل عمران آية 33، قَالَ: فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَام، فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَأَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ، وَاسْتَجَابَ لَكَ فِي دُعَائِكَ، وَلَمْ يَدَعْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا، فَيَقُولُ: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، انْطَلِقُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اتَّخَذَهُ خَلِيلًا، فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، وَلَكِنْ انْطَلِقُوا إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَلَّمَهُ تَكْلِيمًا، فَيَقُولُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، وَلَكِنْ انْطَلِقُوا إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، فَإِنَّهُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَيُحْيِي الْمَوْتَى، فَيَقُولُ عِيسَى عليه السلام: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، وَلَكِنْ انْطَلِقُوا إِلَى سَيِّدِ وَلَدِ آدَمَ، فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، انْطَلِقُوا إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَشْفَعَ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ، فَيَأْتِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام رَبَّهُ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ بِهِ جِبْرِيلُ، فَيَخِرُّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ، وَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، قَالَ: فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَإِذَا نَظَرَ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، خَرَّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ أُخْرَى، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، قَالَ: فَيَذْهَبُ لِيَقَعَ سَاجِدًا، فَيَأْخُذُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِضَبْعَيْهِ، فَيَفْتَحُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ مِنَ الدُّعَاءِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى بَشَرٍ قَطُّ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ خَلَقْتَنِي، سَيِّدَ وَلَدِ آدَمَ، وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا فَخْرَ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ أَكْثَرُ مِمَّا بَيْنَ صَنْعَاءَ، وَأَيْلَةَ، ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُوا الصِّدِّيقِينَ فَيَشْفَعُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُوا الْأَنْبِيَاءَ، قَالَ: فَيَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الْخَمْسَةُ وَالسِّتَّةُ، وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُوا الشُّهَدَاءَ فَيَشْفَعُونَ لِمَنْ أَرَادُوا، وَقَالَ: فَإِذَا فَعَلَتْ الشُّهَدَاءُ ذَلِكَ، قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، أَدْخِلُوا جَنَّتِي، مَنْ كَانَ لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا، قَالَ: فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا فِي النَّارِ، هَلْ تَلْقَوْنَ مِنْ أَحَدٍ عَمِلَ خَيْرًا قَطُّ؟ قَالَ: فَيَجِدُونَ فِي النَّارِ رَجُلًا، فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُسَامِحُ النَّاسَ فِي الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَسْمِحُوا لِعَبْدِي كَإِسْمَاحِهِ إِلَى عَبِيدِي، ثُمَّ يُخْرِجُونَ مِنَ النَّارِ رَجُلًا، فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا، غَيْرَ أَنِّي قَدْ أَمَرْتُ وَلَدِي إِذَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي بِالنَّارِ، ثُمَّ اطْحَنُونِي، حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِثْلَ الْكُحْلِ، فَاذْهَبُوا بِي إِلَى الْبَحْرِ، فَاذْرُونِي فِي الرِّيحِ، فَوَاللَّهِ لَا يَقْدِرُ عَلَيَّ رَبُّ الْعَالَمِينَ أَبَدًا، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ مَخَافَتِكَ، قَالَ: فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرْ إِلَى مُلْكِ أَعْظَمِ مَلِكٍ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَهُ وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهِ، قَالَ: فَيَقُولُ: لِمَ تَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟ قَالَ: وَذَاكَ الَّذِي ضَحِكْتُ مِنْهُ مِنَ الضُّحَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صبح فجر کی نماز پڑھائی اور نماز پڑھا کر چاشت کے وقت تک اپنے مصلی پر ہی بیٹھے رہے، چاشت کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ضحک کے آثار نمودار ہوئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی جگہ ہی تشریف فرما رہے، تآنکہ ظہر، عصر اور مغرب بھی پڑھ لی، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی سے کوئی بات نہیں کی، حتیٰ کہ عشاء کی نماز بھی پڑھ لی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر تشریف لے گئے۔ لوگوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آج کے احوال سے متعلق کیوں نہیں دریافت کرتے؟ آج تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا کام کیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں کیا؟ چناچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس دن کے متعلق دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! میں بتاتا ہوں، دراصل آج میرے سامنے دنیا و آخرت کے وہ تمام امور پیش کئے گئے جو آئندہ رونما ہونے والے ہیں، چنانچہ مجھے دکھایا گیا کہ تمام اولین و آخرین ایک ٹیلے پر جمع ہیں، لوگ پسینے سے تنگ آ کر بہت گھبرائے ہوئے ہیں، اسی حال میں وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جاتے ہیں اور پسینہ گویا ان کے منہ میں لگام کی طرح ہے، وہ لوگ حضرت آدم علیہ السلام سے کہتے ہیں کہ اے آدم! آپ ابوالبشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا برگزیدہ بنایا ہے اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ میرا بھی وہی حال ہے جو تمہارا ہے اپنے باپ آدم کے بعد دوسرے باپ ابوالبشر ثانی حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ کیونکہ اللہ نے انہیں بھی اپنا برگزیدہ بندہ قرار دیا ہے، چنانچہ وہ سب لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ آپ اپنے پروردگار سے ہماری سفارش کر دیجئے، اللہ نے آپ کو بھی اپنا برگزیدہ بندہ قرار دیا ہے، آپ کی دعاؤں کو قبول کیا ہے اور زمین پر کسی کافر کا گھر باقی نہیں چھوڑا، وہ جواب دیتے ہیں کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے، تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ کیونکہ اللہ نے انہیں اپنا خلیل قرار دیا ہے۔ چنانچہ وہ سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاتے ہیں، لیکن وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے، البتہ تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ کیونکہ اللہ نے ان سے براہ راست کلام فرمایا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی معزرت کر رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ وہ پیدائشی اندھے اور برص کے مریض کو ٹھیک کر دیتے تھے اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتے تھے، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی معذرت کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ تم اس ہستی کے پاس جاؤ جو تمام اولاد آدم کی سردار ہے وہی وہ پہلے شخص ہیں جن کی قبر قیامت کے دن سب سے پہلے کھولی گئی، تم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جاؤ وہ تمہاری سفارش کریں گے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارگاہ الٰہی میں جاتے ہیں، ادھر سے حضرت جبرائیل علیہ السلام بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوتے ہیں، اللہ کی طرف سے حکم ہوتا ہے کہ میرے پیغمبر کو آنے کی اجازت دو اور انہیں جنت کی خوشخبری بھی دو، چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ پیغام نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچاتے ہیں جسے سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور متواتر ایک ہفتہ تک سر بسجود رہتے ہیں، ایک ہفتہ گزرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر تو اٹھائیے، آپ جو کہیں گے ہم اسے سننے کے لئے تیار ہیں، آپ جس کی سفارش کریں گے، اس کی سفارش قبول کر لی جائے گی۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سر اٹھاتے ہیں اور جوں ہی اپنے رب کے رخ تاباں پر نظر پڑتی ہے، اسی وقت دوبارہ سجدہ ریز ہو جاتے ہیں اور مزید ایک ہفتہ تک سر بسجود رہتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اپنا سر تو اٹھائیے، آپ جو کہیں گے اس کی شنوائی ہو گی اور جس کی سفارش کریں گے قبول ہو گی، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ ریز ہی رہنا چاہیں گے لیکن حضرت جبرائیل علیہ السلام آ کر بازو سے پکڑ کر اٹھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب منور ایسی دعاؤں کا دروازہ کھولتا ہے جو اب سے پہلے کسی بشر پر کبھی نہیں کھولا تھا۔ چنانچہ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: پروردگار! تو نے مجھے اولاد آدم کا سردار بنا کر پیدا کیا اور میں اس پر کوئی فخر نہیں کرتا، قیامت کے دن سب سے پہلے زمین میرے لئے کھولی گئی، میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس آنے والے اتنے زیادہ ہیں جو صنعاء اور ایلہ کے درمیانی فاصلے سے بھی ز یادہ جگہ کو پُر کیے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد کہا جائے گا کہ صدیقین کو بلاؤ، وہ آکر سفارش کریں گے، پھر کہا جائے گا کہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کو بلاؤ، چنانچہ بعض انبیاء علیہم السلام تو ایسے آئیں گے جن کے ساتھ اہل ایمان کی ایک بڑی جماعت ہو گی، بعض کے ساتھ پانچ، چھ آدمی ہوں گے، بعض کے ساتھ کوئی بھی نہ ہو گا، پھر شہداء کو بلانے کا حکم ہو گا چنانچہ وہ اپنی مرضی سے جس کی چاہیں گے سفارش کریں گے۔ جب شہدا بھی سفارش کر چکیں گے، تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں ارحم الراحمین ہوں، جنت میں وہ تمام لوگ داخل ہو جائیں جو میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، چنانچہ ایسے تمام لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو جہنم میں کوئی ایسا آدمی تو نہیں ہے جس نے کبھی کوئی نیکی کا کام کیا ہو؟ تلاش کرنے پر نہیں ایک آدمی ملے گا، اسی کو بارہ گاہ الہٰی میں پیش کر دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھیں گے کیا کبھی تو نے کوئی نیکی کا کام بھی کیا ہے؟ وہ جواب میں کہے گا نہیں! البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں بیع و شراء اور تجارت کے درمیان غریبوں سے نرمی کر لیا کرتا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جس طرح یہ میرے بندوں سے نرمی کرتا تھا، تم بھی اس سے نرمی کرو، چنانچہ اسے بخش دیا جائے گا۔ اس کے بعد فرشتے جہنم سے ایک اور آدمی کو نکال کر لائیں گے، اللہ تعالیٰ اس سے بھی یہی پوچھیں گے کہ تم نے کبھی کوئی نیکی کا کام بھی کیا ہے؟ وہ کہے گا ک نہیں! البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں نے اپنی اولاد کو یہ وصیت کی تھی کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلا کر میری راکھ کا سرمہ بنانا اور سمندر کے پاس جا کر اس راکھ کو ہوا میں بکھیر دینا، اس طرح رب العالمین بھی مجھ پر قادر نہ ہو سکے گا، اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ تو نے یہ کام کیوں کیا؟ وہ جواب دے گا، تیرے خوف کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ سب سے بڑے بادشاہ کا ملک دیکھو، تمہیں وہ اور اس جیسے دس ملکوں کی حکومت ہم نے عطا کر دی، وہ کہے گا کہ پروردگار! تو بادشاہوں کا بادشاہ ہو کر مجھ سے کیوں مذاق کرتا ہے؟ اس بات پر مجھے چاشت کے وقت ہنسی آئی تھی اور میں ہنس پڑا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 15]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 16 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسٌ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، قَالَ: قَامَ أَبُو بَكْرٍ ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَإِنَّكُمْ تَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَوْضِعِهَا، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْمُنْكَرَ، وَلَا يُغَيِّرُوهُ، أَوْشَكَ اللَّهُ أَنْ يَعُمَّهُمْ بِعِقَابِهِ"، قَالَ: وَسَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ، يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّ الْكَذِبَ مُجَانِبٌ لِلْإِيمَانِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرنے کے بعد فرمایا: اے لوگو! تم اس آیت کی تلاوت کرتے ہو۔ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [5-المائدة:105] اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو، اگر تم راہ راست پر ہو تو کوئی گمراہ شخص تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ لیکن تم اسے اس کے صحیح مطلب پر محمول نہیں کرتے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب لوگ گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو عنقریب ان سب کو اللہ کا عذاب گھیر لے گا نیز میں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا کہ جھوٹ سے اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ جھوٹ ایمان سے الگ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 16]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ ، سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ ، أَوْسَطَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَوْسَطَ الْبَجَلِيِّ ، أَبِي بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ رَجُلًا مِنْ حِمْيَرَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَوْسَطَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَوْسَطَ الْبَجَلِيِّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ : أَنَّهُ سَمِعَهُ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَوَّلِ مَقَامِي هَذَا، ثُمَّ بَكَى، ثُمَّ قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّهُ مَعَ الْبِرِّ، وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ، وَهُمَا فِي النَّارِ، وَسَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ، فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ رَجُلٌ بَعْدَ الْيَقِينِ شَيْئًا خَيْرًا مِنَ الْمُعَافَاةِ"، ثُمَّ قَالَ:" لَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اوسط کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس جگہ گزشتہ سال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے تھے، یہ کہہ کر آپ رو پڑے، پھر فرمایا: سچائی کو اختیار کرو، کیونکہ سچائی کا تعلق نیکی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں چیزیں جنت میں ہوں گی، جھوٹ بولنے سے اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ جھوٹ کا تعلق گناہ سے ہے اور یہ دونوں چیزیں جہنم میں ہوں گی اور اللہ سے عافیت کی دعا مانگا کرو کیونکہ ایمان کے بعد عافیت سے بڑھ کر نعمت کسی کو نہیں دی گئی، پھر فرمایا کہ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بغض نہ کرو، قطع تعلقی مت کرو، ایک دوسرے سے منہ مت پھیرو اور اے اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 17]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي طَائِفَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَجَاءَ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، فَقَبَّلَهُ، وَقَالَ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، مَا أَطْيَبَكَ حَيًّا وَمَيِّتًا، مَاتَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَبِّ الْكَعْبَةِ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ يَتَقَاوَدَانِ، حَتَّى أَتَوْهُمْ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، وَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا أُنْزِلَ فِي الْأَنْصَارِ وَلَا ذَكَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَأْنِهِمْ، إِلَّا وَذَكَرَهُ، وَقَالَ: وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا، سَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ"، وَلَقَدْ عَلِمْتَ يَا سَعْدُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَأَنْتَ قَاعِدٌ:" قُرَيْشٌ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ، فَبَرُّ النَّاسِ تَبَعٌ لِبَرِّهِمْ، وَفَاجِرُهُمْ تَبَعٌ لِفَاجِرِهِمْ"، قَالَ: فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: صَدَقْتَ، نَحْنُ الْوُزَرَاءُ، وَأَنْتُمْ الْأُمَرَاءُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ جس وقت حضور نبی مکرم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے قریبی علاقے میں تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انتقال کی خبر سنتے ہی تشریف لائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور سے کپڑا ہٹایا، اسے بوسہ دیا اور فرمایا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ زندگی میں اور اس دنیوی زندگی کے بعد بھی کتنے پاکیزہ ہیں، رب کعبہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تیزی کے ساتھ سقیفہ بنی ساعدہ کی طرف روانہ ہوئے جہاں تمام انصار مسئلہ خلافت طے کرنے کے لئے جمع تھے، یہ دونوں حضرات وہاں پہنچے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی، اس دوران انہوں نے قرآن کریم کی وہ تمام آیات اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ تمام احادیث جو انصار کی فضیلت سے تعلق رکھتی تھیں، سب بیان کر دیں اور فرمایا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ اگر لوگ ایک راستے پر چلتے اور انصار دوسرے پر تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انصار کا راستہ اختیار کرتے۔ پھر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ سعد! آپ بھی جانتے ہیں کہ ایک مجلس میں جس میں آپ بھی موجود تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ خلافت کے حقدار قریش ہوں گے، لوگوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ قریش کے نیک افراد کے تابع ہوں گے اور جو بدکار ہوں گے وہ بدکاروں کے تابع ہوں گے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ سچ کہتے ہیں، اب ہم وزیر ہوں گے اور آپ امیر یعنی خلیفہ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 18]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، لشواهد وهو مرسل، فإن حميد بن عبدالرحمن الحميري تابعي ولم يدرك أبا بكر ولا عمر، ولم يصرح هنا بذكر من حدثه.
الحكم: صحيح لغيره، لشواهد وهو مرسل، فإن حميد بن عبدالرحمن الحميري تابعي ولم يدرك أبا بكر ولا عمر، ولم يصرح هنا بذكر من حدثه.
حدیث نمبر: 19 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، رَجُلٌ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أَبِي ، أَبَاهُ ، أَبَا بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، أَنَّ أَبَاهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ ، وَهُوَ يَقُولُ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَعْمَلُ عَلَى مَا فُرِغَ مِنْهُ، أَوْ عَلَى أَمْرٍ مُؤْتَنَفٍ؟ قَالَ:" بَلْ عَلَى أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ"، قَالَ: قُلْتُ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! ہم جو عمل کرتے ہیں، کیا وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے یا ہمارا عمل پہلے ہوتا ہے؟ فرمایا: نہیں! بلکہ وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! پھر عمل کا کیا فائدہ؟ فرمایا: جو شخص جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کے اسباب مہیا کر دئیے جاتے ہیں اور وہ عمل اس کے لئے آسان کر دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 19]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن طلحة بن عبيد الله.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن طلحة بن عبيد الله.
حدیث نمبر: 20 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، رَجُلٌ ، عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَهْلِ الْفِقْهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَحِمَهُ اللَّهُ يُحَدِّثُ، أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَزِنُوا عَلَيْهِ، حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يُوَسْوِسُ، قَالَ عُثْمَانُ: وَكُنْتُ مِنْهُمْ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي ظِلِّ أُطُمٍ مِنَ الْآطَامِ مَرَّ عَلَيَّ عُمَرُ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ، فَلَمْ أَشْعُرْ أَنَّهُ مَرَّ وَلَا سَلَّمَ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ: مَا يُعْجِبُكَ أَنِّي مَرَرْتُ عَلَى عُثْمَانَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ؟ وَأَقْبَلَ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي وِلَايَةِ أَبِي بَكْرٍ، حَتَّى سَلَّمَا عَلَيَّ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: جَاءَنِي أَخُوكَ عُمَرُ، فَذَكَرَ أَنَّهُ مَرَّ عَلَيْكَ، فَسَلَّمَ، فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَمَا الَّذِي حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا فَعَلْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: بَلَى، وَاللَّهِ لَقَدْ فَعَلْتَ، وَلَكِنَّهَا عُبِّيَّتُكُمْ يَا بَنِي أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّكَ مَرَرْتَ بِي، وَلَا سَلَّمْتَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقَ عُثْمَانُ، وَقَدْ شَغَلَكَ عَنْ ذَلِكَ أَمْرٌ؟ فَقُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: مَا هُوَ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: تَوَفَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ نَجَاةِ هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَنْتَ أَحَقُّ بِهَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَبِلَ مِنِّي الْكَلِمَةَ الَّتِي عَرَضْتُ عَلَى عَمِّي، فَرَدَّهَا عَلَيَّ، فَهِيَ لَهُ نَجَاةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غمگین رہنے لگے بلکہ بعض حضرات کو طرح طرح کے وساوس نے گھیرنا شروع کر دیا تھا، میری بھی کچھ ایسی ہی کیفیت تھی، اسی تناظر میں ایک دن میں کسی ٹیلے کے سائے میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، انہوں نے مجھے سلام کیا، لیکن مجھے پتہ ہی نہ چل سکا کہ وہ یہاں سے گزر کر گئے ہیں یا انہوں نے مجھے سلام کیا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہاں سے ہو کر سیدھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور ان سے کہا کہ آپ کو ایک حیرانگی کی بات بتاؤں؟ میں ابھی عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا تھا، میں نے انہیں سلام کیا لیکن انہوں نے میرے سلام کا جواب ہی نہیں دیا؟ یہ خلافت صدیقی کا واقعہ ہے، اس مناسبت سے تھوڑی دیر بعد سامنے سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آتے ہوئے دکھائی دئیے، ان دونوں نے آتے ہی مجھے سلام کیا۔ اس کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میرے پاس ابھی تمہارے بھائی عمر آئے تھے، وہ کہہ رہے تھے کہ ان کا آپ کے پاس سے گزر ہوا، انہوں نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے اس کا کوئی جواب ہی نہیں دیا، آپ نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے کہا کہ میں نے تو ایسا کچھ نہیں کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کیوں نہیں! میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آپ نے ایسا کیا ہے، اصل بات یہ ہے کہ اے بنو امیہ! آپ لوگ اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھتے ہیں، میں نے کہا: کہ اللہ کی قسم! مجھے آپ کے گزرنے کا احساس ہوا اور نہ ہی مجھے آپ کے سلام کرنے کی خبر ہو سکی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عثمان ٹھیک کہہ رہے ہیں، اچھا یہ بتائیے کہ آپ کسی سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ کن خیالات میں مستغرق تھے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو اپنے پاس بلا لیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بھی نہ پوچھ سکا کہ اس حادثہ سے صحیح سالم نجات پانے کا کیا راستہ ہو گا؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کے متعلق میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے معلوم کر چکا ہوں، یہ سن کر میں کھڑا ہو گیا اور میں نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ ہی اس سوال کے زیادہ حقدار تھے، اس لئے اب مجھے بھی اس کا جواب بتا دیجئے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا تھا، یا رسول اللہ! اس حادثہ جانکاہ سے نجات کا راستہ کیا ہو گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میری طرف سے وہ کلمہ توحید قبول کر لے جو میں نے اپنے چچا خواجہ ابوطالب پر پیش کیا تھا اور انہوں نے وہ کلمہ کہنے سے انکار کر دیا تھا، وہ کلمہ ہی ہر شخص کے لئے نجات کا راستہ اور سبب ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 20]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح بشواهده، رجاله ثقات رجال الشيخين غير الرجال الذى روي عنه الزهري
الحكم: المرفوع منه صحيح بشواهده، رجاله ثقات رجال الشيخين غير الرجال الذى روي عنه الزهري