بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 14
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 14
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ: أَنْتَ وَرِثْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْ أَهْلُهُ؟ قَالَ: فَقَالَ: لَا، بَلْ أَهْلُهُ، قَالَتْ: فَأَيْنَ سَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، إِذَا أَطْعَمَ نَبِيًّا طُعْمَةً، ثُمَّ قَبَضَهُ جَعَلَهُ لِلَّذِي يَقُومُ مِنْ بَعْدِهِ"، فَرَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، قَالَتْ: فَأَنْتَ، وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعْلَمُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال مبارک ہو گیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک قاصد کے ذریعے یہ پیغام بھجوایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وارث آپ ہیں یا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ؟ انہوں نے جواباً فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ ہی ان کے وارث ہیں، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تو پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حصہ کہاں ہے؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کوئی چیز کھلاتا ہے، پھر انہیں اپنے پاس بلا لیتا ہے تو اس کا نظم و نسق اس شخص کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو خلیفہ وقت ہو، اس لئے میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ اس مال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دوں، یہ تمام تفصیل سن کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آپ نے جو سنا ہے، آپ اسے زیادہ جانتے ہیں، چناچہ اس کے بعد انہوں نے اس کا مطالبہ کرنا چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 14]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
← پچھلی حدیث (13) باب پر واپس اگلی حدیث (15) →