عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، رَجُلٌ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أَبِي ، أَبَاهُ ، أَبَا بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، أَنَّ أَبَاهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ ، وَهُوَ يَقُولُ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَعْمَلُ عَلَى مَا فُرِغَ مِنْهُ، أَوْ عَلَى أَمْرٍ مُؤْتَنَفٍ؟ قَالَ:" بَلْ عَلَى أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ"، قَالَ: قُلْتُ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! ہم جو عمل کرتے ہیں، کیا وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے یا ہمارا عمل پہلے ہوتا ہے؟ فرمایا: ”نہیں! بلکہ وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے“، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! پھر عمل کا کیا فائدہ؟ فرمایا: ”جو شخص جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کے اسباب مہیا کر دئیے جاتے ہیں اور وہ عمل اس کے لئے آسان کر دیا جاتا ہے۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 19]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن طلحة بن عبيد الله.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن طلحة بن عبيد الله.