أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، أَبِي الْحُوَيْرِثِ ، مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عُثْمَانَ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ : أَنَّ عُثْمَانَ ، قَالَ: تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَاذَا يُنْجِينَا مِمَّا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِي أَنْفُسِنَا؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" يُنْجِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ أَنْ تَقُولُوا مَا أَمَرْتُ به عَمِّي، أَنْ يَقُولَهُ فَلْم يقُلْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس چیز کی بڑی تمنا تھی کہ کاش! میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال سے پہلے یہ دریافت کر لیتا کہ شیطان ہمارے دلوں میں جو وساوس اور خیالات ڈالتا ہے، ان سے ہمیں کیا چیز بچا سکتی ہے؟ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں یہ سوال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھ چکا ہوں، جس کا جواب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوں دیا تھا کہ تم وہی کلمہ توحید کہتے رہو جو میں نے اپنے چچا کے سامنے پیش کیا تھا لیکن انہوں نے وہ کلمہ کہنے سے انکار کر دیا تھا، اس کلمہ کی کثرت ہی تمہیں ان وساوس سے نجات دلا دے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 37]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، محمد بن جبير بن مطعم لم يسمع من عثمان، وأبو الحويرث مختلف فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، محمد بن جبير بن مطعم لم يسمع من عثمان، وأبو الحويرث مختلف فيه