بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 42
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 42
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، يَزِيدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ ذِي عَصْوَانَ الْعنسي ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّخْمِيِّ ، رَافِعٍ الطَّائِيِّ ، أَبِي بَكْرٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: وأَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ ذِي عَصْوَانَ الْعنسي ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ رَافِعٍ الطَّائِيِّ رَفِيقِ أَبِي بَكْرٍ فِي غَزْوَةِ السُّلَاسِلِ، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَمَّا قِيلَ مِنْ بَيْعَتِهِمْ، فَقَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُهُ عَمَّا تَكَلَّمَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ، وَمَا كَلَّمَهُمْ بِهِ، وَمَا كَلَّمَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْأَنْصَارَ، وَمَا ذَكَّرَهُمْ بِهِ مِنْ إِمَامَتِي إِيَّاهُمْ:" بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَبَايَعُونِي لِذَلِكَ، وَقَبِلْتُهَا مِنْهُمْ، وَتَخَوَّفْتُ أَنْ تَكُونَ فِتْنَةٌ، تَكُونُ بَعْدَهَا رِدَّةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع طائی جو غزوہ ذات السلاسل میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے رفیق تھے کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے انصار کی بیعت کے بارے میں کہی جانے والی باتوں کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے وہ باتیں بیان فرمائیں جو انصار نے کہی تھیں، یا جو خود انہوں نے فرمائی تھیں، یا جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انصار سے کی تھیں ور انہیں یہ بھی یاد دلایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے آپ کے مرض الوفات میں وہ لوگ میری امامت میں نماز ادا کرتے رہے ہیں، اس پر تمام انصار نے میری بیعت کر لی اور میں نے اسے ان کی طرف سے قبول کر لیا، بعد میں مجھے اندیشہ ہو کہ کہیں یہ کسی امتحان کا سبب نہ بن جائے چناچہ اس کے بعد فتنہ ارتداد پیش آ کر رہا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 42]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
← پچھلی حدیث (41) باب پر واپس اگلی حدیث (43) →