أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ :" يَا زَيْدُ بْنَ ثَابِتٍ، أَنْتَ غُلَامٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ، قَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَتَبَّعْ الْقُرْآنَ، فَاجْمَعْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے جنگ یمامہ میں شہید ہونے والے حفاظ کی خبر بھجوائی اور مجھ سے فرمایا کہ زید! تم ایک سمجھ دار نوجوان ہو، ہم تمہیں کسی غلط کام کے ساتھ متہم بھی نہیں پاتے، تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کاتب وحی بھی رہ چکے ہو، اس لیے قرآن کریم کو مختلف جگہوں سے تلاش کر کے یکجا اکٹھا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 57]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4986
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4986