بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مِنْ حَدِيثِ أَسْمَاءَ ابْنَةِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 55
صفحہ 2 از 3
حدیث نمبر: 27580 مسند احمد
هَاشِمٌ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ ، شَهْرٌ ، أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: ثَنَا شَهْرٌ ، قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ مَجْلِسًا مَرَّةً يُحَدِّثُهُمْ، عَنْ أَعْوَرِ الدَّجَّالِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَزَادَ فِيهِ، فَقَالَ:" مَهْيَمْ"، وَكَانَتْ كَلِمَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ، يَقُولُ:" مَهْيَمْ"، وَزَادَ فِيهِ:" فَمَنْ حَضَرَ مَجْلِسِي وَسَمِعَ قَوْلِي، فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ مِنْكُمْ الْغَائِبَ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ صَحِيحٌ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَأَنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ بھی موجود ہے کہ جو شخص میری مجلس میں حاضر ہو اور میری باتیں سنے، تو تم میں سے حاضرین کو غائبین تک یہ باتیں پہنچا دینی چاہئیں اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ صحیح سالم ہیں، وہ کانے نہیں ہیں، جبکہ دجال ایک آنکھ سے کانا ہو گا اور ایک آنکھ پونچھ دی گئی ہو گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا، جسے مومن خواہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہیں پڑھ لے گا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27580]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، و بعضه صحيح لغيره
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، و بعضه صحيح لغيره
حدیث نمبر: 27581 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ ، أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهَا: أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ ، قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، صَاحَتْ أُمُّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا يَرْفَأُ دَمْعُكِ , وَيَذْهَبُ حُزْنُكِ؟، فَإِنَّ ابْنَكِ أَوَّلُ مَنْ ضَحِكَ اللَّهُ لَهُ، وَاهْتَزَّ لَهُ الْعَرْشُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی والدہ رونے چلانے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:تمہارے آنسو تھم کیوں نہیں رہے اور تمہارا غم دور کیوں نہیں ہو رہا جبکہ تمہارا بیٹا وہ پہلا آدمی ہے جسے دیکھ کر اللہ کو ہنسی آئی ہے اور اس کا عرش ہل رہا ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27581]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة إسحاق بن راشد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة إسحاق بن راشد
حدیث نمبر: 27582 مسند احمد
هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، ثَابِتِ بْنِ الْعَجْلَانِ ، مُجَاهِدٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْعَجْلَانِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْعَقِيقَةُ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27582]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن إن ثبت سماع مجاهد من أسماء بنت يزيد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن إن ثبت سماع مجاهد من أسماء بنت يزيد
حدیث نمبر: 27583 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَفْصٌ السَّرَّاجُ ، شَهْرًا ، أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: ثَنَا حَفْصٌ السَّرَّاجُ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَهْرًا ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ قُعُودٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ:" لَعَلَّ رَجُلًا يَقُولُ مَا يَفْعَلُ بِأَهْلِهِ، وَلَعَلَّ امْرَأَةً تُخْبِرُ بِمَا فَعَلَتْ مَعَ زَوْجِهَا"، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقُلْتُ: إِي وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُنَّ لَيَقُلْنَ , وَإِنَّهُمْ لَيَفْعَلُونَ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّمَا ذَلِكَ مِثْلُ الشَّيْطَانِ، لَقِيَ شَيْطَانَةً فِي طَرِيقٍ، فَغَشِيَهَا وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس وقت بہت سے مرد اور عورت جمع تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ ایک زمانے میں مرد یہ بتانے لگے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ کیا کرتا ہے اور عورت یہ بتانے لگے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ کیا کرتی ہے؟ لوگ اس پر خاموش رہے، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! یہ باتیں تو عورتیں کہتی ہیں اور مرد بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لیکن تم ایسا نہ کرو، کیونکہ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شیطان کسی شیطانیہ سے راستے میں ملے اور لوگوں کے سامنے ہی اس سے بدکاری کرنے لگے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27583]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب، ولجهالة حفص السراج
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب، ولجهالة حفص السراج
حدیث نمبر: 27584 مسند احمد
أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، هِشَامٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، مَحْمُودِ بْنِ عَمْرٍو ، أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: ثَنَا هِشَامٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ حَدَّثَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَحَلَّتْ قِلَادَةً مِنْ ذَهَبٍ، جُعِلَ فِي عُنُقِهَا مِثْلُهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصًا مِنْ ذَهَبٍ، جُعِلَ فِي أُذُنِهَا مِثْلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو عورت سونے کا ہار پہنتی ہے، قیامت کے دن اس کے گلے میں ویسا ہی آگ کا ہار پہنایا جائے گا اور جو عورت اپنے کانوں میں سونے کی بالیاں پہنتی ہے، اس کے کانوں میں قیامت کے دن ویسی ہی آگ کی بالیاں ڈالی جائیں گی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27584]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة محمود بن عمرو
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة محمود بن عمرو
حدیث نمبر: 27585 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، مُعَاوِيَةُ يَعْنِى ابْنَ صَالِحٍ ، الْمُهَاجِرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: ثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِى ابْنَ صَالِحٍ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , إِنَّهُ لَيُدْرِكُ الْفَارِسَ فَيُدَعْثِرُهُ"، قَال: قُلْتُ: مَا يَعْنِي؟ قَالَ: الْغِيلَةُ، يَأْتِي الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماءبنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنی اولاد کو خفیہ قتل نہ کیا کرو، کیونکہ حالت رضاعت میں بیوی سے قربت کے نتیجے میں دودھ پینے والا بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو گھوڑا اسے اپنی پشت سے گرا دیتا ہے (وہ جم کر گھوڑے پر نہیں بیٹھ سکتا)۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27585]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة مهاجر، وقد انفرد به، ومثله لا يحتمل تفرده ، ثم إنه معارض بحديث صحيح
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة مهاجر، وقد انفرد به، ومثله لا يحتمل تفرده ، ثم إنه معارض بحديث صحيح
حدیث نمبر: 27586 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ ، وَذَكَرَ الْجَهْمِيَّةَ، فقال: " إِنَّمَا يُحَاوِلُونَ أَنْ لَيْسَ فِي السَّمَاءِ شَيْءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حماد بن زید نے ایک مرتبہ فرقہ جہمیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ آپس میں یہ باتیں کرتے ہیں کہ آسمان میں کچھ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27586]
حکم دارالسلام
هذا اثر صحيح الي حماد بن زيد
الحكم: هذا اثر صحيح الي حماد بن زيد
حدیث نمبر: 27587 مسند احمد
هَاشِمٌ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ ، شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُوُفِّيَ يَوْمَ تُوُفِّيَ، وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ بِوَسْقٍ مِنْ شَعِيرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جس وقت وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چادر ایک یہودی کے پاس ایک وسق جَو کے عوض رہن رکھی ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27587]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: "بوسق من شعير"ر، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: "بوسق من شعير"ر، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27588 مسند احمد
هَاشِمٌ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ ، شَهْرٌ ، أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: ثَنَا شَهْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ خِدْمَتِهِ , آوَى إِلَى الْمَسْجِدِ، فَكَانَ هُوَ بَيْتُهُ، يَضْطَجِعُ فِيهِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ لَيْلَةً، فَوَجَدَ أَبَا ذَرٍّ نَائِمًا مُنْجَدِلًا فِي الْمَسْجِدِ، فَنَكَتَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِجْلِهِ حَتَّى اسْتَوَى جَالِسًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا؟"، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ أَنَامُ، هَلْ لِي مِنْ بَيْتٍ غَيْرُهُ؟، فَجَلَسَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهُ:" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ؟"، قَالَ: إِذَنْ أَلْحَقَ بِالشَّامِ، فَإِنَّ الشَّامَ أَرْضُ الْهِجْرَةِ، وَأَرْضُ الْمَحْشَرِ، وَأَرْضُ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَكُونُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهَا، قَالَ لَهُ:" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنَ الشَّامِ؟"، قَالَ: إِذَنْ أَرْجِعَ إِلَيْهِ، فَيَكُونَ هُوَ بَيْتِي وَمَنْزِلِي، قَالَ لَهُ:" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ الثَّانِيَةَ؟"، قَالَ: إِذَنْ آخُذَ سَيْفِي , فَأُقَاتِلَ عَنِّي حَتَّى أَمُوتَ، قَالَ: فَكَشَّرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَثْبَتَهُ بِيَدِهِ، قَالَ:" أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟"، قَالَ: بَلَى، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَنْقَادُ لَهُمْ حَيْثُ قَادُوكَ، وَتَنْسَاقُ لَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ، حَتَّى تَلْقَانِي، وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے بحوالہ ابوذر رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، جب اپنے کام سے فارغ ہوتا تو مسجد میں آ کر لیٹ جاتا، ایک دن میں لیٹا ہوا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے اور مجھے اپنے مبارک پاؤں سے ہلایا، میں سیدھا ہو کر اٹھ بیٹھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! تم اس وقت کیا کرو گے جب تم مدینہ سے نکال دیئے جاؤ گے؟ عرض کیا: میں مسجد نبوی اور اپنے گھر لوٹ جاؤں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اور جب تمہیں یہاں سے بھی نکال دیا جائے گا تو کیا کرو گے؟ میں نے عرض کیا کہ میں شام چلا جاؤں گا جو ارض ہجرت اور ارض محشر اور ارض انبیاء ہے، میں اس کی رہائش اختیار کر لوں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا! اگر تمہیں وہاں سے بھی نکال دیا گیا تو کیا کرو گے؟ عرض کیا: میں دوبارہ وہاں چلا جاؤں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: اگر دوبارہ وہاں سے نکال دیا گیا؟ میں نے عرض کیا کہ اس وقت میں اپنی تلوار پکڑوں گا اور جو مجھے نکالنے کی کوشش کرے گا اسے اپنی تلوار سے ماروں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا اور تین مرتبہ فرمایا: ابوذر! درگزر سے کام لو، وہ تمہیں جہاں لے جائیں وہاں چلے جانا اگرچہ تمہارا حکمران کوئی حبشی غلام ہی ہو، یہاں تک کہ تم اس حال میں مجھ سے آ ملو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27588]
حکم دارالسلام
اسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقصة السمع والطاعة صحيحة ثابتة من احاديث اخري، انظر: 21428
الحكم: اسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقصة السمع والطاعة صحيحة ثابتة من احاديث اخري، انظر: 21428
حدیث نمبر: 27589 مسند احمد
هَاشِمٌ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ ، شَهْرٌ ، أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حدثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَهْرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةَ ، تُحَدِّثُ، زَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا، وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ، فَأَلْوَى بِيَدِهِ إِلَيْهِنَّ بِالسَّلَامِ، قَالَ:" إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَانَ الْمُنَعَّمِينَ، إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَانَ الْمُنَعَّمِينَ"، قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مِنْ كُفْرَانِ اللَّهِ، قَالَ: " بَلَى، إِنَّ إِحْدَاكُنَّ تَطُولُ أَيْمَتُهَا، وَيَطُولُ تَعْنِيسُهَا، ثُمَّ يُزَوِّجُهَا اللَّهُ الْبَعْلَ، وَيُفِيدُهَا الْوَلَدَ، وَقُرَّةَ الْعَيْنِ، ثُمَّ تَغْضَبُ الْغَضْبَةَ، فَتُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا رَأَتْ مِنْهُ سَاعَةَ خَيْرٍ قَطُّ، فَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ الْمُنَعَّمِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا جن کا تعلق بنی عبدالاشہل سے ہے کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے، ہم کچھ عورتوں کے ساتھ تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں سلام کیا اور فرمایا: احسان کرنے والوں کی ناشکری سے اپنے آپ کو بچاؤ، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! احسان کرنے والوں کی ناشکری سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی عورت اپنے ماں باپ کے یہاں طویل عرصے تک رشتے کے انتظار میں بیٹھی رہے، پھر اللہ اسے شوہر عطاء فرما دے اور اس سے اسے مال و دولت بھی عطاء فرما دے اور وہ پھر کسی دن غصے میں آکر یوں کہہ دے کہ میں نے تو تجھ سے کبھی خیر نہیں دیکھی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27589]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقد توبع
حدیث نمبر: 27590 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، وَعَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ ، أَبِي ، أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ الْأَنْصَارِيَّةِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، وَعَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ الْأَنْصَارِيَّةِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا، فَإِنَّ الْغَيْلَ يُدْرِكُ الْفَارِسَ فَيُدَعْثِرُهُ مِنْ فَوْقِ فَرَسِهِ" ، قَالَ عَلِيٌّ: أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةُ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنی اولاد کو خفیہ قتل نہ کیا کرو، کیونکہ حالت رضاعت میں بیوی سے قربت کے نتیجے میں دودھ پینے والا بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو گھوڑا اسے اپنی پشت سے گرا دیتا ہے (وہ جم کر گھوڑے پر نہیں بیٹھ سکتا)۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27590]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة مهاجر، وقد انفرد به، ومثله لا يحتمل تفرده، ثم إنه معارض بحديث صحيح
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة مهاجر، وقد انفرد به، ومثله لا يحتمل تفرده، ثم إنه معارض بحديث صحيح
حدیث نمبر: 27591 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُسَيْنٍ ، شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُسَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ ، إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَقَالَ: لَا أَشْتَهِيهِ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَيَّنْتُ عَائِشَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جِئْتُهُ، فَدَعَوْتُهُ لِجِلْوَتِهَا، فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِهَا، فَأُتِيَ بِعُسِّ لَبَنٍ، فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَفَضَتْ رَأْسَهَا وَاسْتَحْيَا، قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَانْتَهَرْتُهَا، وَقُلْتُ لَهَا: خُذِي مِنْ يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَخَذَتْ، فَشَرِبَتْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِي تِرْبَكِ"، قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلْ خُذْهُ، فَاشْرَبْ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوِلْنِيهِ مِنْ يَدِكَ، فَأَخَذَهُ، فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوَلَنِيهِ، قَالَتْ: فَجَلَسْتُ، ثُمَّ وَضَعْتُهُ عَلَى رُكْبَتِي، ثُمَّ طَفِقْتُ أُدِيرُهُ، وَأَتْبَعُهُ بِشَفَتَيَّ لِأُصِيبَ مِنْهُ مَشْرَبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِنِسْوَةٍ عِنْدِي:" نَاوِلِيهِنَّ"، فَقُلْنَ: لَا نَشْتَهِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا"، فَهَلْ أَنْتِ مُنْتَهِيَةٌ أَنْ تَقُولِي لَا أَشْتَهِيهِ؟، فَقُلْتُ: أَيْ أُمَّهْ، لَا أَعُودُ أَبَدًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو تیار کرنے والی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں انہیں پیش کرنے والی میں ہی تھی، میرے ساتھ کچھ اور عورتیں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، جسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے خود نوش فرمایا پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہ پیالہ پکڑا دیا، وہ شرما گئیں، ہم نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہاتھ واپس نہ لوٹاؤ، بلکہ یہ برتن لے لو، چنانچہ انہوں نے شرماتے ہوئے وہ پیالہ پکڑ لیا اور اس میں سے تھوڑا سا دودھ پی لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ مجھے دے دو، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ نوش کر کے مجھے پکڑا دیا، میں بیٹھ گئی اور پیالے کو اپنے گھٹنے پر رکھ لیا اور اسے گھمانے لگی تاکہ وہ جگہ مل جائے جہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہونٹ لگائے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ اپنی سہیلیوں کو دے دو، ہم نے عرض کیا کہ ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بھوک اور جھوٹ کو اکٹھا نہ کرو، اب بھی تم باز آؤ گی یا نہیں؟ میں نے کہا: اماں جان! آئندہ کبھی نہیں کروں گی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27591]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27592 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، لَيْثٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: " نَزَلَتْ سُورَةُ الْمَائِدَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا، إِنْ كَادَتْ مِنْ ثِقَلِهَا لَتَكْسِرُ النَّاقَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورۃ مائدہ مکمل نازل ہوئی تو ان کی اونٹنی عضباء کی لگام میں نے پکڑی ہوئی تھی اور وحی کے بوجھ سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اونٹنی کا بازو ٹوٹ جائے گا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27592]
حکم دارالسلام
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، وشهر بن حوشب
الحكم: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، وشهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27593 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ ارْتَبَطَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَنْفَقَ عَلَيْهِ احْتِسَابًا، كَانَ شِبَعُهُ وَجُوعُهُ، وَرِيُّهُ، وَظَمَؤُهُ، وَبَوْلُهُ، وَرَوْثُهُ، فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ ارْتَبَطَ فَرَسًا رِيَاءً وَسُمْعَةً، كَانَ ذَلِكَ خُسْرَانًا فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ان گھوڑوں کو اللہ کی راہ میں ساز و سامان کے طور پر باندھتا ہے اور ثواب کی نیت سے ان پر خرچ کرتا ہے تو ان کا سیر ہونا اور بھوکا رہنا، سیراب ہونا اور پیاسا رہنا اور ان کا بول و براز تک قیامت کے دن اس کے نامہ اعمال میں کامیابی کا سبب ہوگا اور جو شخص ان گھوڑوں کو نمود و نمائش اور اتراہٹ اور تکبر کے اظہار کے لئے باندھتا ہے تو ان کا پیٹ بھرنا اور بھوکا رہنا، سیر ہونا اور پیاسا رہنا اور ان کو بول و براز قیامت کے دن اس کے نامہ اعمال میں خسارے کا سبب ہوگا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27593]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27594 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَسْتُ أُصَافِحُ النِّسَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27594]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27595 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ: إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ آیت اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے: «إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ» ۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27595]
حکم دارالسلام
حديث حسن بشاهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: حديث حسن بشاهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27596 مسند احمد
حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ: " يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا سورة الزمر آية 53 ," وَلَا يُبَالِي , إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ آیت اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے: «يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا [سورة الزمر آية 53] وَلَا يُبَالِي , إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27596]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27597 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يَصْلُحُ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: كَذِبُ الرَّجُلِ مَعَ امْرَأَتِهِ لِتَرْضَى عَنْهُ، أَوْ كَذِبٌ فِي الْحَرْبِ، فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ، أَوْ كَذِبٌ فِي إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹ بولنا کسی صورت صحیح نہیں سوائے تین جگہوں کے، ایک تو وہ آدمی جو اپنی بیوی کو خوش رکھنے کے لئے جھوٹ بولے، دوسرے وہ آدمی جو جنگ میں جھوٹ بولے، تیسرے وہ آدمی جو دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے جھوٹ بولے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27597]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، واختلف فيه على سفيان الثوري
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، واختلف فيه على سفيان الثوري
حدیث نمبر: 27598 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: كُنَّا فِيمَنْ جَهَّزَ عَائِشَةَ وَزَفَّهَا، قَالَتْ: فَعَرَضَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَنًا، فَقُلْنَا: لَا نُرِيدُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو تیار کرنے والی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں انہیں پیش کرنے والی میں ہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے سامنے دودھ کا پیالہ پیش کیا: تو ہم نے عرض کیا کہ ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بھوک اور جھوٹ کو اکٹھا نہ کرو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27598]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27599 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ خُثَيْمٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟"، قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" الَّذِينَ إِذَا رُءُوا ذُكِرَ اللَّهُ تَعَالَى"، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشِرَارِكُمْ؟، الْمَشَّاءُونَ بِالنَّمِيمَةِ، الْمُفْسِدُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ، الْبَاغُونَ لِلْبُرَآءِ الْعَنَتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہترین آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ کہ جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آ جائے، پھر فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بدترین آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ وہ لوگ جو چغلخوری کرتے پھریں، دوستوں میں پھوٹ ڈالتے پھریں، باغی، آدم بیزار اور متعصب لوگ۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27599]
حکم دارالسلام
حسن بشواهده ، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقد اختلف عليه فيه
الحكم: حسن بشواهده ، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقد اختلف عليه فيه