أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُسَيْنٍ ، شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُسَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ ، إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَقَالَ: لَا أَشْتَهِيهِ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَيَّنْتُ عَائِشَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جِئْتُهُ، فَدَعَوْتُهُ لِجِلْوَتِهَا، فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِهَا، فَأُتِيَ بِعُسِّ لَبَنٍ، فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَفَضَتْ رَأْسَهَا وَاسْتَحْيَا، قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَانْتَهَرْتُهَا، وَقُلْتُ لَهَا: خُذِي مِنْ يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَخَذَتْ، فَشَرِبَتْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِي تِرْبَكِ"، قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلْ خُذْهُ، فَاشْرَبْ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوِلْنِيهِ مِنْ يَدِكَ، فَأَخَذَهُ، فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوَلَنِيهِ، قَالَتْ: فَجَلَسْتُ، ثُمَّ وَضَعْتُهُ عَلَى رُكْبَتِي، ثُمَّ طَفِقْتُ أُدِيرُهُ، وَأَتْبَعُهُ بِشَفَتَيَّ لِأُصِيبَ مِنْهُ مَشْرَبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِنِسْوَةٍ عِنْدِي:" نَاوِلِيهِنَّ"، فَقُلْنَ: لَا نَشْتَهِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا"، فَهَلْ أَنْتِ مُنْتَهِيَةٌ أَنْ تَقُولِي لَا أَشْتَهِيهِ؟، فَقُلْتُ: أَيْ أُمَّهْ، لَا أَعُودُ أَبَدًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو تیار کرنے والی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں انہیں پیش کرنے والی میں ہی تھی، میرے ساتھ کچھ اور عورتیں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، جسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے خود نوش فرمایا پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہ پیالہ پکڑا دیا، وہ شرما گئیں، ہم نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہاتھ واپس نہ لوٹاؤ، بلکہ یہ برتن لے لو، چنانچہ انہوں نے شرماتے ہوئے وہ پیالہ پکڑ لیا اور اس میں سے تھوڑا سا دودھ پی لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مجھے دے دو“، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ نوش کر کے مجھے پکڑا دیا، میں بیٹھ گئی اور پیالے کو اپنے گھٹنے پر رکھ لیا اور اسے گھمانے لگی تاکہ وہ جگہ مل جائے جہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہونٹ لگائے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اپنی سہیلیوں کو دے دو“، ہم نے عرض کیا کہ ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بھوک اور جھوٹ کو اکٹھا نہ کرو، اب بھی تم باز آؤ گی یا نہیں؟“ میں نے کہا: اماں جان! آئندہ کبھی نہیں کروں گی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27591]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب