عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ خُثَيْمٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟"، قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" الَّذِينَ إِذَا رُءُوا ذُكِرَ اللَّهُ تَعَالَى"، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشِرَارِكُمْ؟، الْمَشَّاءُونَ بِالنَّمِيمَةِ، الْمُفْسِدُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ، الْبَاغُونَ لِلْبُرَآءِ الْعَنَتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہترین آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں؟“ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ کہ جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آ جائے“، پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بدترین آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ وہ لوگ جو چغلخوری کرتے پھریں، دوستوں میں پھوٹ ڈالتے پھریں، باغی، آدم بیزار اور متعصب لوگ۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27599]
حکم دارالسلام
حسن بشواهده ، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقد اختلف عليه فيه
الحكم: حسن بشواهده ، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقد اختلف عليه فيه