عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَفْصٌ السَّرَّاجُ ، شَهْرًا ، أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: ثَنَا حَفْصٌ السَّرَّاجُ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَهْرًا ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ قُعُودٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ:" لَعَلَّ رَجُلًا يَقُولُ مَا يَفْعَلُ بِأَهْلِهِ، وَلَعَلَّ امْرَأَةً تُخْبِرُ بِمَا فَعَلَتْ مَعَ زَوْجِهَا"، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقُلْتُ: إِي وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُنَّ لَيَقُلْنَ , وَإِنَّهُمْ لَيَفْعَلُونَ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّمَا ذَلِكَ مِثْلُ الشَّيْطَانِ، لَقِيَ شَيْطَانَةً فِي طَرِيقٍ، فَغَشِيَهَا وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس وقت بہت سے مرد اور عورت جمع تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے کہ ایک زمانے میں مرد یہ بتانے لگے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ کیا کرتا ہے اور عورت یہ بتانے لگے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ کیا کرتی ہے؟“ لوگ اس پر خاموش رہے، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! یہ باتیں تو عورتیں کہتی ہیں اور مرد بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن تم ایسا نہ کرو، کیونکہ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شیطان کسی شیطانیہ سے راستے میں ملے اور لوگوں کے سامنے ہی اس سے بدکاری کرنے لگے۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27583]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب، ولجهالة حفص السراج
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب، ولجهالة حفص السراج