هَاشِمٌ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ ، شَهْرٌ ، أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: ثَنَا شَهْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ خِدْمَتِهِ , آوَى إِلَى الْمَسْجِدِ، فَكَانَ هُوَ بَيْتُهُ، يَضْطَجِعُ فِيهِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ لَيْلَةً، فَوَجَدَ أَبَا ذَرٍّ نَائِمًا مُنْجَدِلًا فِي الْمَسْجِدِ، فَنَكَتَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِجْلِهِ حَتَّى اسْتَوَى جَالِسًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا؟"، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ أَنَامُ، هَلْ لِي مِنْ بَيْتٍ غَيْرُهُ؟، فَجَلَسَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهُ:" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ؟"، قَالَ: إِذَنْ أَلْحَقَ بِالشَّامِ، فَإِنَّ الشَّامَ أَرْضُ الْهِجْرَةِ، وَأَرْضُ الْمَحْشَرِ، وَأَرْضُ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَكُونُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهَا، قَالَ لَهُ:" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنَ الشَّامِ؟"، قَالَ: إِذَنْ أَرْجِعَ إِلَيْهِ، فَيَكُونَ هُوَ بَيْتِي وَمَنْزِلِي، قَالَ لَهُ:" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ الثَّانِيَةَ؟"، قَالَ: إِذَنْ آخُذَ سَيْفِي , فَأُقَاتِلَ عَنِّي حَتَّى أَمُوتَ، قَالَ: فَكَشَّرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَثْبَتَهُ بِيَدِهِ، قَالَ:" أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟"، قَالَ: بَلَى، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَنْقَادُ لَهُمْ حَيْثُ قَادُوكَ، وَتَنْسَاقُ لَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ، حَتَّى تَلْقَانِي، وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے بحوالہ ابوذر رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، جب اپنے کام سے فارغ ہوتا تو مسجد میں آ کر لیٹ جاتا، ایک دن میں لیٹا ہوا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے اور مجھے اپنے مبارک پاؤں سے ہلایا، میں سیدھا ہو کر اٹھ بیٹھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تم اس وقت کیا کرو گے جب تم مدینہ سے نکال دیئے جاؤ گے؟“ عرض کیا: میں مسجد نبوی اور اپنے گھر لوٹ جاؤں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اور جب تمہیں یہاں سے بھی نکال دیا جائے گا تو کیا کرو گے؟“ میں نے عرض کیا کہ میں شام چلا جاؤں گا جو ارض ہجرت اور ارض محشر اور ارض انبیاء ہے، میں اس کی رہائش اختیار کر لوں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا! ”اگر تمہیں وہاں سے بھی نکال دیا گیا تو کیا کرو گے؟“ عرض کیا: میں دوبارہ وہاں چلا جاؤں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”اگر دوبارہ وہاں سے نکال دیا گیا؟“ میں نے عرض کیا کہ اس وقت میں اپنی تلوار پکڑوں گا اور جو مجھے نکالنے کی کوشش کرے گا اسے اپنی تلوار سے ماروں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا اور تین مرتبہ فرمایا: ”ابوذر! درگزر سے کام لو، وہ تمہیں جہاں لے جائیں وہاں چلے جانا اگرچہ تمہارا حکمران کوئی حبشی غلام ہی ہو، یہاں تک کہ تم اس حال میں مجھ سے آ ملو۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27588]
حکم دارالسلام
اسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقصة السمع والطاعة صحيحة ثابتة من احاديث اخري، انظر: 21428
الحكم: اسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقصة السمع والطاعة صحيحة ثابتة من احاديث اخري، انظر: 21428