بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 27420 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ , فَقَالَ:" هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟" , قُلْتُ: لَا , إِلَّا عَظْمًا أُعْطِيَتْهُ مَوْلَاةٌ لَنَا مِنَ الصَّدَقَةِ , قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَقَرِّبِيهِ , فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، البتہ نسیبہ نے ہمارے یہاں اسی بکری کا کچھ حصہ بھیجا ہے جو آپ نے ان کے یہاں بھیجی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ چکی، اب اسے لے آؤ۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27420]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1073
الحكم: إسناده صحيح، م: 1073
حدیث نمبر: 27421 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كُرَيْبًا ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، جُوَيْرِيَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آل طَلْحَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ , قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى جُوَيْرِيَةَ بَكَرًا , وَهِيَ فِي الْمَسْجِدِ تَدْعُو , ثُمَّ مَرَّ عَلَيْهَا قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ , فَقَالَ:" مَا زِلْتِ عَلَى حَالِكِ؟" , قَالَتْ: نَعَمْ , قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُعَلِّمُكِ كَلِمَاتٍ تَعْدِلُهُنَّ بِهِنَّ , وَلَوْ وُزِنَ بِهِنَّ وُزِنَ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ , ثَلَاثًا , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ" , وَكَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ , فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُوَيْرِيَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جویریہ س رضی اللہ عنہا ے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں اس وقت تسبیحات پڑھ رہی تھی، کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی کام سے چلے گئے، پھر نصف النہار کے وقت واپس آئے تو فرمایا: کیا تم اس وقت سے یہاں بیٹھی ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن کا وزن اگر تمہاری لمبی تسبیحات سے کیا جائے تو ان کا پلڑا جھک جائے گا اور وہ یہ ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ» تین مرتبہ، «سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ» تین مرتبہ، «سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ» تین مرتبہ، «سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ» تین مرتبہ۔ حضرت جویریہ کا نام پہلے برہ تھا، جسے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود بدل کر جویریہ کر دیا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27421]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27422 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي أَيُّوبَ ، جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ , وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ وَهِيَ صَائِمَةٌ , فَقَالَ لَهَا:" أَصُمْتِ أَمْسِ؟" , قَالَتْ: لَا , قَالَ:" أَفَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا؟" , قَالَتْ: لَا، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَفْطِرِي إِذًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن جبکہ وہ روزے سے تھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ آئندہ کل کا روزہ رکھو گی؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اپنا روزہ ختم کر دو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27422]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1986
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1986
حدیث نمبر: 27423 مسند احمد
أَسْوَدُ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، جَابِرٍ ، أُمِّ عُثْمَانَ ، الطُّفَيْلِ ، جُوَيْرِيَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ جَابِرٍ , عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ , عَنِ الطُّفَيْلِ ابْنِ أَخِي جُوَيْرِيَةَ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ حَرِيرٍ فِي الدُّنْيَا , أَلْبَسَهُ اللَّهُ تَعَالَى ثَوْبَ مَذَلَّةٍ , أَوْ ثَوْبًا مِنْ نَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ریشمی لباس پہنتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ کا لباس پہنائے گا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27423]
حکم دارالسلام
إسناده مسلسل بالضعفاء والمجاهيل على نسق
الحكم: إسناده مسلسل بالضعفاء والمجاهيل على نسق
حدیث نمبر: 27424 مسند احمد
هاشم ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدَ بْنَ السَّبَّاقِ ، جُوَيْرِيَةَ
حَدَّثَنَا هاشم , حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ , قَالَ: إِنَّ عُبَيْدَ بْنَ السَّبَّاقِ يَزْعُمُ , أَنَّ جُوَيْرِيَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا , فَقَالَ:" هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟" , قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ , مَا عِنْدَنَا طَعَامٌ إِلَّا عَظْمًا مِنْ شَاةٍ أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاتِي مِنَ الصَّدَقَةِ , فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرِّبِيهِ , فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، البتہ نسیبہ نے ہمارے یہاں اسی بکری کا کچھ حصہ بھیجا ہے جو آپ نے ان کے یہاں بھیجی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ چکی، اب اسے لے آؤ۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27424]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1073
الحكم: إسناده صحيح، م: 1073
حدیث نمبر: 27425 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبُو أَيُّوبَ الْعَتَكِيُّ ، جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْعَتَكِيُّ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ جُمُعَةٍ وَهِيَ صَائِمَةٌ , فَقَالَ لَهَا: " أَصُمْتِ أَمْس؟" , قَالَتْ: لَا , قَالَ:" أَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا؟" , قَالَتْ: لَا , قَالَ:" فَأَفْطِرِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن جبکہ وہ روزے سے تھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ آئندہ کل کا روزہ رکھو گی؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اپنا روزہ ختم کر دو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27425]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح