مُحَمَّدٌ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي أَيُّوبَ ، جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ , وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ وَهِيَ صَائِمَةٌ , فَقَالَ لَهَا:" أَصُمْتِ أَمْسِ؟" , قَالَتْ: لَا , قَالَ:" أَفَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا؟" , قَالَتْ: لَا، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَفْطِرِي إِذًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن ”جبکہ وہ روزے سے تھیں“ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ آئندہ کل کا روزہ رکھو گی؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اپنا روزہ ختم کر دو۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27422]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1986
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1986