عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبُو أَيُّوبَ الْعَتَكِيُّ ، جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْعَتَكِيُّ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ جُمُعَةٍ وَهِيَ صَائِمَةٌ , فَقَالَ لَهَا: " أَصُمْتِ أَمْس؟" , قَالَتْ: لَا , قَالَ:" أَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا؟" , قَالَتْ: لَا , قَالَ:" فَأَفْطِرِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن ”جبکہ وہ روزے سے تھیں“ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ آئندہ کل کا روزہ رکھو گی؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اپنا روزہ ختم کر دو۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27425]
الحكم: إسناده صحيح