سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ , فَقَالَ:" هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟" , قُلْتُ: لَا , إِلَّا عَظْمًا أُعْطِيَتْهُ مَوْلَاةٌ لَنَا مِنَ الصَّدَقَةِ , قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَقَرِّبِيهِ , فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، البتہ نسیبہ نے ہمارے یہاں اسی بکری کا کچھ حصہ بھیجا ہے جو آپ نے ان کے یہاں بھیجی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ چکی، اب اسے لے آؤ۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27420]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1073
الحكم: إسناده صحيح، م: 1073