بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 40
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 20036 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَيْضًا: وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَوَضَعَهَا عَلَى فَرْجِهِ.
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20037 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، بَهْزٍ ، أَبِي ، جَدِّي
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَهْزٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ أُولَاءِ وَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى أَنْ لَا آتِيَكَ، وَلَا آتِيَ دِينَكَ، وَإِنِّي قَدْ جِئْتُ امْرَأً لَا أَعْقِلُ شَيْئًا إِلَّا مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ، بِمَ بَعَثَكَ رَبُّنَا إِلَيْنَا؟ قَالَ:" بِالْإِسْلَامِ" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا آيَةُ الْإِسْلَامِ؟ قَالَ:" أَنْ تَقُولَ: أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَتَخَلَّيْتُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَكُلُّ مُسْلِمٍ عَلَى مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ، أَخَوَانِ نَصِيرَانِ , لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ مُشْرِكٍ يُشْرِكُ، بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلًا، أَوْ يُفَارِقُ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ، مَا لِي أُمْسِكُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ! أَلَا إِنَّ رَبِّي دَاعِيَّ، وَإِنَّهُ سَائِلِي , هَلْ بَلَّغْتَ عِبَادِي؟ وَأَنَا قَائِلٌ لَهُ: رَبِّ قَدْ بَلَّغْتُهُمْ , أَلَا فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ مِنْكُمْ الْغَائِبَ , ثُمَّ إِنَّكُمْ مَدْعُوُّونَ وَمُفَدَّمَةٌ أَفْوَاهُكُمْ بِالْفِدَامِ، وَإِنَّ أَوَّلَ مَا يُبِينُ" , وَقَالَ بِوَاسِطٍ" يُتَرْجِمُ" , قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا دِينُنَا؟ قَالَ:" هَذَا دِينُكُمْ، وَأَيْنَمَا تُحْسِنْ يَكْفِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے اتنی مرتبہ (اپنے ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر کہا) قسم کھائی تھی (کہ آپ کے پاس نہیں آؤں گا، اب میں آپ کے پاس آگیا ہوں تو) مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کے ساتھ بھیجا ہے، پوچھا اسلام کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یوں کہوں کہ میں نے اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جھکا دیا اور اس کے لئے یکسو ہوگیا اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور یاد رکھو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے قابل احترام ہے۔ یہی دونوں چیزیں مددگار ہیں اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اسلام قبول کرنے کے بعد یا مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں کے پاس آنے کے بعد دوبارہ شرک میں مبتلا ہوجائے۔ یہ کیا معاملہ ہے کہ میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر جہنم سے بچا رہا ہوں، یاد رکھو! میرا پروردگار مجھے بتائے گا اور مجھ سے پوچھے گا کہ کیا آپ نے میرے بندوں تک میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ اور میں عرض کروں گا کہ پروردگار! میں نے ان تک پیغام دیا تھا، یاد رکھو! تم میں سے جو حاضر ہیں: وہ غائب تک یہ بات پہنچا دیں۔ قیامت کے دن جب تم لوگ پیش ہوں گے تو تمہارے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور سب سے پہلے جو چیز بولے گی وہ ران ہوگی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا یہ ہمارا دین ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارا دین ہے اور تم جہاں بھی اچھا کام کرو گے وہ تمہاری کفایت کرے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20037]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20038 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، بَهْزٌ ، أَبِي ، جَدِّي
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ، فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، لَا تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا، فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنَعَهَا، فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ، عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى , لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْء" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سائمہ اونٹوں کی ہر چالیس تعداد پر ایک بنت لبون واجب ہوگی اور زکوٰۃ کے اس حساب سے کسی اونٹ کو الگ نہیں کیا جائے گا، جو شخص ثواب کی نیت سے خود ہی زکوٰۃ ادا کر دے تو اسے اس کا ثواب مل جائے گا اور جو شخص زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا تو ہم اس سے جبراً بھی وصول کرسکتے ہیں، اس کے اونٹ کا حصہ ہمارے پروردگار کا فیصلہ ہے اور اس میں سے آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کچھ بھی حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20038]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20039 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، بَهْزٌ ، وَيَزِيدُ ، بَهْزٌ ، أَبِي ، جَدِّي
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَيَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا بَهْزٌ الْمَعْنَى، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّهُ كَانَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ، أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا، وَكَانَ لَا يَدِينُ اللَّهَ دِينًا" , قَالَ يَزِيدُ:" فَلَبِثَ حَتَّى ذَهَبَ عُمُرٌ وَبَقِيَ عُمُرٌ، تَذَكَّرَ، فَعَلِمَ أَنْ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى خَيْرًا، دَعَا بَنِيهِ , فقَالَ: يَا بَنِيَّ، أَيَّ أَبٍ تَعْلَمُونَ؟ قَالُوا: خَيْرَهُ يَا أَبَانَا , قَالَ: فَوَاللَّهِ، لَا أَدَعُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْكُمْ مَالًا هُوَ مِنِّي إِلَّا أَنَا آخِذُهُ مِنْهُ، أَوْ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ بِهِ , قَالَ: فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا، قَالَ: أَمَّا لَا، فَإِذَا مُتُّ، فَخُذُونِي فَأَلْقُونِي فِي النَّارِ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ حُمَمًا فَدُقُّونِي , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: اسْحَقُونِي ثُمَّ ذَرُّونِي فِي الرِّيحِ، لَعَلِّي أَضِلُّ اللَّهَ! قَالَ فَفُعِلَ بِهِ ذَلِكَ وَرَبِّ مُحَمَّدٍ حِينَ مَاتَ" , قَالَ:" فَجِيءَ بِهِ أَحْسَنَ مَا كَانَ، فَعُرِضَ عَلَى رَبِّهِ , فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى النَّارِ؟ قَالَ: خَشِيتُكَ يَا رَبَّاهُ , قَالَ:" إِنِّي لَأَسْمَعَنَّ الرَّاهِبَةَ , قَالَ يَزِيدُ: أَسْمَعُكَ رَاهِبًا فَتِيبَ عَلَيْهِ" , قَالَ بَهْزٌ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ الْحَسَنَ , وَقَتَادَةَ، وَحَدَّثَانِيهِ" فَتِيبَ عَلَيْهِ، أَوْ فَتَابَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ" شَكَّ يَحْيَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جسے اللہ تعالیٰ نے خوب مال و دولت اور اولاد سے نواز رکھا تھا، وقت گذرتا رہا حتیٰ کہ ایک زمانہ چلا گیا اور دوسرا زمانہ آگیا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بچوں سے کہا کہ میرے بچو! میں تمہارے لئے کیسا باپ ثابت ہوا؟ انہوں نے کہا بہترین باپ، اس نے کہا کیا اب تم میری ایک بات مانوگے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا دیکھو، جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا اور کوئلہ بن جانے تک مجھے آگ ہی میں رہنے دینا، پھر اس کوئلے کو ہاون دستے میں اس طرح کوٹنا (ہاتھ کے اشارے سے بتایا) پھر جس دن ہوا چل رہی ہو، میری راکھ کو سمندر میں بہا دینا، شاید اس طرح میں اللہ کو نہ مل سکوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم! ان لوگوں نے اسی طرح کیا، لیکن وہ اسی لمحے اللہ کے قبضے میں تھا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن آدم! تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا پروردگار! تیرے خوف نے، اللہ تعالیٰ نے اس خوف کی برکت سے اس کی توبہ قبول فرما لی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20039]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20040 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: " احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ، أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ" قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ؟ قَالَ:" إِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَاهَا" قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا؟ قَالَ:" فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنَ النَّاسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! ہم اپنی شرمگاہ کا کتنا حصہ چھپائیں اور اور کتنا چھوڑ سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنی بیوی اور باندی کے علاوہ ہر ایک سے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! بعض لوگوں کے رشتہ دار ان کے ساتھ رہتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہاں تک ممکن ہو کہ وہ تمہاری شرمگاہ نہ دیکھیں، تم انہیں مت دکھاؤ، میں نے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے کوئی شخص تنہا بھی تو ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20040]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20041 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ، فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، لَا يُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا، فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنَعَهَا، فَإِنَّا آخِذُوهَا مِنْهُ وَشَطْرَ مَالِهِ وَقَالَ مَرَّةً: إِبِلِهِ عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا، لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهُ شَيْءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سائمہ اونٹوں کی ہر چالیس تعداد پر ایک بنت لبون واجب ہوگی اور زکوٰۃ کے اس حساب سے کسی اونٹ کو الگ نہیں کیا جائے گا، جو شخص ثواب کی نیت سے خود ہی زکوٰۃ ادا کر دے تو اسے اس کا ثواب مل جائے گا اور جو شخص زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا تو ہم اس سے جبراً بھی وصول کرسکتے ہیں، اس کے اونٹ کا حصہ ہمارے پروردگار کا فیصلہ ہے اور اس میں سے آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کچھ بھی حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20041]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20042 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنَّ أَخَاهُ أَوْ عَمَّهُ قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَال: جِيرَانِي بِمَا أُخِذُوا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، قَالَ: جِيرَانِي بِمَا أُخِذُوا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: جِيرَانِي بِمَا أُخِذُوا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فقَالَ: لَئِنْ قُلْتُ ذَلكَ، لَقَدْ زَعَمَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَنْهَى عَنِ الْغَيِّ، وَيَسْتَخْلِي بِهِ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قَالَ؟" فَقَامَ أَخُوهُ، أَوْ ابْنُ أَخِيهِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ إِنَّهُ , فَقَالَ:" أَمَا لَقَدْ قُلْتُمُوهَا أَوْ قَالَ قَائِلُكُمْ؟ وَلَئِنْ كُنْتُ أَفْعَلُ ذَلِكَ، إِنَّهُ لَعَلَيَّ وَمَا هُوَ عَلَيْكُمْ، خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے والد یا چچا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پڑوسیوں کو کیوں پکڑا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی بات سے اعراض کیا، دو مرتبہ اسی طرح ہوا پھر والد یا چچا نے کہا کہ بخدا! اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہ بولتا جا رہا تھا اور میں اپنی چادر گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ صاحب کیا کہہ رہے تھے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہا تھا اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا لوگ ایسی بات کہہ سکتے ہیں، اگر میں نے ایسا کیا بھی تو اس کا اثر مجھ پر ہوگا، ان پر تو کچھ نہیں ہوگا، اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20042]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20043 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ أُولَاءِ أَنْ لَا آتِيَكَ، وَلَا آتِيَ دِينَكَ وَجَمَعَ بَهْزٌ بَيْنَ كَفَّيْهِ , وَقَدْ جِئْتُ امْرَأً لَا أَعْقِلُ شَيْئًا، إِلَّا مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَرَسُولُهُ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ، بِمَ بَعَثَكَ اللَّهُ إِلَيْنَا؟ قَالَ:" بِالْإِسْلَامِ" قُلْتُ: وَمَا آيَاتُ الْإِسْلَامِ؟ قَالَ:" أَنْ تَقُولَ: أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ، وَتَخَلَّيْتُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، كُلُّ مُسْلِمٍ عَلَى مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ، أَخَوَانِ نَصِيرَانِ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْ مُشْرِكٍ أَشْرَكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلًا، وَتُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ، مَا لِي أُمْسِكُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ , أَلَا إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ دَاعِيَّ، وَإِنَّهُ سَائِلِي: هَلْ بَلَّغْتُ عِبَادَهُ؟ وَإِنِّي قَائِلٌ: رَبِّ إِنِّي قَدْ بَلَّغْتُهُمْ , فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ مِنْكُمْ الْغَائِبَ، ثُمَّ إِنَّكُمْ مَدْعُوُّونَ مُفَدَّمَةً أَفْوَاهُكُمْ بِالْفِدَامِ , ثُمَّ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُبِينُ عَنْ أَحَدِكُمْ لَفَخِذُهُ وَكَفُّهُ" قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَذَا دِينُنَا؟ قَالَ:" هَذَا دِينُكُمْ، وَأَيْنَمَا تُحْسِنْ يَكْفِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے اتنی مرتبہ (اپنے ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر کہا) قسم کھائی تھی (کہ آپ کے پاس نہیں آؤں گا، اب میں آپ کے پاس آگیا ہوں تو) مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کے ساتھ بھیجا ہے، پوچھا اسلام کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یوں کہوں کہ میں نے اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جھکا دیا اور اس کے لئے یکسو ہوگیا اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور یاد رکھو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے قابل احترام ہے۔ یہ دونوں چیزیں مددگار ہیں اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اسلام قبول کرنے کے بعد یا مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں کے پاس آنے کے بعد دوبارہ شرک میں مبتلا ہوجائے۔ یہ کیا معاملہ ہے کہ میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر جہنم سے بچا رہا ہوں، یاد رکھو! میرا پروردگار مجھے بتائے گا اور مجھ سے پوچھے گا کہ کیا آپ نے میرے بندوں تک میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ اور میں عرض کروں گا کہ پروردگار! میں نے ان تک پیغام دیا تھا، یاد رکھو! تم میں سے جو حاضر ہیں: وہ غائب تک یہ بات پہنچا دیں۔ قیامت کے دن جب تم لوگ پیش ہوگے تو تمہارے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور سب سے پہلے جو چیز بولے گی وہ ران ہوگی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا یہ ہمارا دین ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارا دین ہے اور تم جہاں بھی اچھا کام کرو گے وہ تمہاری کفایت کرے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20043]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20044 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّهُ كَانَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا، فَكَانَ لَا يَدِينُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى دِينًا، فَلَبِثَ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ مِنْهُ عُمُرٌ، أَوْ بَقِيَ عُمُرٌ، تَذَكَّرَ فَعَلِمَ أَنَّهُ لَنْ يَبْتَئِرَ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى خَيْرًا، دَعَا بَنِيهِ فَقَالَ:" أَيَّ أَبٍ تَعْلَمُونِي؟ قَالُوا: خَيْرَهُ يَا أَبَانَا , قَالَ: فوَاللَّهِ لَا أَدَعُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَالًا هُوَ مِنِّي إِلَّا أَنَا آخِذُهُ مِنْهُ، وَلَتَفْعَلُنَّ بِي مَا آمُرُكُمْ , قَالَ: فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا وَرَبِّي، فَقَالَ: أَمَّا لَا، فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَأَلْقُونِي فِي النَّارِ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ حُمَمًا فَدُقُّونِي , قَالَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ، لَعَلِّي أَضِلُّ اللَّهَ! قَالَ: فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ , وَرَبِّ مُحَمَّدٍ حِينَ مَاتَ، فَجِيءَ بِهِ فِي أَحْسَنِ مَا كَانَ قَطُّ، فَعُرِضَ عَلَى رَبِّهِ , فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى النَّارِ؟ قَالَ: خَشْيَتُكَ يَا رَبَّاهُ , قَالَ: إِنِّي أَسْمَعُكَ لَرَاهِبًا , فَتِيبَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جسے اللہ تعالیٰ نے خوب مال و دولت اور اولاد سے نواز رکھا تھا، وقت گذرتا رہا حتیٰ کہ ایک زمانہ چلا گیا اور دوسرا زمانہ آگیا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بچوں سے کہا کہ میرے بچو! میں تمہارے لئے کیسا باپ ثابت ہوا؟ انہوں نے کہا بہترین باپ، اس نے کہا کیا اب تم میری ایک بات مانوگے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا دیکھو، جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا اور کوئلہ بن جانے تک مجھے آگ ہی میں رہنے دینا، پھر اس کوئلے کو ہاون دستے میں اس طرح کوٹنا (ہاتھ کے اشارے سے بتایا) پھر جس دن ہوا چل رہی ہو، میری راکھ کو سمندر میں بہا دینا، شاید اس طرح میں اللہ کو نہ مل سکوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم! ان لوگوں نے اسی طرح کیا، لیکن وہ اسی لمحے اللہ کے قبضے میں تھا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن آدم! تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا پروردگار! تیرے خوف نے، اللہ تعالیٰ نے اس خوف کی برکت سے اس کی توبہ قبول فرما لی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20044]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20045 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيِّ ، أَبِي ، جَدِّي
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِي مِنْهُنَّ وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: " حَرْثُكَ، ائْتِ حَرْثَكَ أَنَّى شِئْتَ فِي أَنْ لَا تَضْرِبَ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ، وَأَطْعِمْ إِذَا أُطْعِمْتَ، وَاكْسُ إِذَا اكْتَسَيْتَ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ، كَيْفَ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ، إِلَّا بِمَا حَلَّ عَلَيْهِنَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم اپنی عورتوں کے کس حصے میں آئیں اور کس حصے کو چھوڑیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہاری بیوی تمہارا کھیت ہے، تم اپنے کھیت میں جہاں سے چاہو آؤ، البتہ جب تم کھاؤ تو اسے کھلاؤ، جب پہنو تو اسے بھی پہناؤ اس کے چہرے پر نہ مارو، اسے گالیاں مت دو اور اسے قطع تعلقی اگر کرو تو صرف گھر کی حد تک رکھو، یہ کیسے مناسب ہے جبکہ تم ایک دوسرے کے پاس حلال طریقے سے آتے بھی ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20045]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20046 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي ، جَدِّي
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ، وَيْلٌ لَهُ، وَيْلٌ له" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اس شحص کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں کے سامنے انہیں ہنسانے کے لئے جھوٹی باتیں کہتا ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20046]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20047 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي ، جَدِّي
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَأْتِي رَجُلٌ مَوْلًى لَهُ يَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلٍ عِنْدَهُ فَيَمْنَعُهُ، إِلَّا دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ يَتَلَمَّظُ، فَضْلَهُ الَّذِي مَنَعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا و ہے کہ جس شخص سے اس کا چچا زاد بھائی اس کے مال کا زائد حصہ مانگے اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اسے گنجا سانپ بنادیا جائے گا جو اس کے زائد حصے کو چبا جائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20047]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20048 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، بَهْزٌ ، أَبِي ، جَدِّي
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ:" أُمَّكَ" قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ" أُمَّكَ" قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" أُمَّكَ , ثُمَّ أَبَاكَ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میں کس کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنی والدہ کے ساتھ، تین مرتبہ میں نے یہی سوال کیا اور تینوں مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی جواب دیا، چوتھی مرتبہ کے سوال پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے والد کے ساتھ، پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20048]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20049 مسند احمد
يَحْيَى ، بَهْزٍ ، أَبِي ، جَدِّي
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ بَهْزٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّكُمْ وَفَيْتُمْ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم لوگ کامل ستر امتوں کی شکل میں ہو گے اور سب سے آخری امت تم ہوگے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہو گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20049]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20050 مسند احمد
يَحْيَى ، بَهْزٍ ، أَبِي ، جَدِّي
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ بَهْزٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَأْمُرُنِي، خِرْ لِي؟ فَقَالَ بِيَدِهِ نَحْوَ الشَّامِ، وَقَالَ:" إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ رِجَالًا وَرُكْبَانًا، وَتُجَرُّونَ عَلَى وُجُوهِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ مجھے کہاں جانے کا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم سب یہاں (شام کی طرف اشارہ کیا) جمع کئے جاؤ گے، تم میں سے بعض سوار ہوں گے، بعض پیدل اور بعض چہروں کے بل۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20050]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20051 مسند احمد
يَحْيَى ، بَهْزٍ ، أَبِي ، جَدِّي
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ بَهْزٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَوْمٌ نَتَسَاءَلُ أَمْوَالَنَا , قَالَ: " يَسْأَلُ أَحَدُكُمْ فِي الْجَائِحَةِ وَالْفَتْقِ لِيُصْلِحَ بَيْنَ قَوْمِهِ، فَإِذَا بَلَغَ أَوْ كَرَبَ، اسْتَعَفَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم لوگ آپس میں ایک دوسرے کا مال مانگتے رہتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان اپنی قوم میں صلح کرانے کے لئے کسی زخم یا نشان کا تاوان مانگ سکتا ہے، جب وہ منزل پر پہنچ جائے یا تکلیف باقی رہے تو وہ اپنے آپ کو سوال کرنے سے بچائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20051]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20052 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْجُرَيْرِيُّ ، حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَبِي بَهْزٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَبِي بَهْزٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فِي الْجَنَّةِ بَحْرُ اللَّبَنِ، وَبَحْرُ الْمَاءِ، وَبَحْرُ الْعَسَلِ، وَبَحْرُ الْخَمْرِ، ثُمَّ تَشَقَّقُ الْأَنْهَارُ مِنْهَا بَعْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جنت میں دودھ کا سمندر ہوگا، پانی کا، شہد کا اور شراب کا سمندر ہوگا، جس سے نہریں پھوٹیں گی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20052]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20053 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي قَزَعَةَ الْبَاهِلِيِّ ، حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقْبَلُ اللَّهُ تَوْبَةَ عَبْدٍ أَشْرَكَ بِاللَّهِ بَعْدَ إِسْلَامِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ اس شخص کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ شرک میں مبتلا ہوجائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20053]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20054 مسند احمد
مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالشَّيْءِ سَأَلَ عَنْهُ: " أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ؟" فَإِنْ قَالُوا: هَدِيَّةٌ، بَسَطَ يَدَهُ، َإِنْ قَالُوا: صَدَقَةٌ , قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" خُذُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جب کوئی چیز لائی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے متعلق یہ سوال کرتے کہ یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟ اگر لوگ کہتے کہ ہدیہ ہے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے اور اگر لوگ کہتے کہ صدقہ ہے تو اپنے ساتھیوں سے فرما دیتے کہ یہ تم لے لو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20054]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20055 مسند احمد
يَزِيدُ ، بَهْزٌ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ، وَيْلٌ لَهُ، وَيْلٌ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اس شخص کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں کے سامنے انہیں ہنسانے کے لئے جھوٹی باتیں کہتا ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20055]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن