بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 20039
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 20039
حدیث نمبر: 20039 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، بَهْزٌ ، وَيَزِيدُ ، بَهْزٌ ، أَبِي ، جَدِّي
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَيَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا بَهْزٌ الْمَعْنَى، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّهُ كَانَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ، أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا، وَكَانَ لَا يَدِينُ اللَّهَ دِينًا" , قَالَ يَزِيدُ:" فَلَبِثَ حَتَّى ذَهَبَ عُمُرٌ وَبَقِيَ عُمُرٌ، تَذَكَّرَ، فَعَلِمَ أَنْ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى خَيْرًا، دَعَا بَنِيهِ , فقَالَ: يَا بَنِيَّ، أَيَّ أَبٍ تَعْلَمُونَ؟ قَالُوا: خَيْرَهُ يَا أَبَانَا , قَالَ: فَوَاللَّهِ، لَا أَدَعُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْكُمْ مَالًا هُوَ مِنِّي إِلَّا أَنَا آخِذُهُ مِنْهُ، أَوْ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ بِهِ , قَالَ: فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا، قَالَ: أَمَّا لَا، فَإِذَا مُتُّ، فَخُذُونِي فَأَلْقُونِي فِي النَّارِ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ حُمَمًا فَدُقُّونِي , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: اسْحَقُونِي ثُمَّ ذَرُّونِي فِي الرِّيحِ، لَعَلِّي أَضِلُّ اللَّهَ! قَالَ فَفُعِلَ بِهِ ذَلِكَ وَرَبِّ مُحَمَّدٍ حِينَ مَاتَ" , قَالَ:" فَجِيءَ بِهِ أَحْسَنَ مَا كَانَ، فَعُرِضَ عَلَى رَبِّهِ , فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى النَّارِ؟ قَالَ: خَشِيتُكَ يَا رَبَّاهُ , قَالَ:" إِنِّي لَأَسْمَعَنَّ الرَّاهِبَةَ , قَالَ يَزِيدُ: أَسْمَعُكَ رَاهِبًا فَتِيبَ عَلَيْهِ" , قَالَ بَهْزٌ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ الْحَسَنَ , وَقَتَادَةَ، وَحَدَّثَانِيهِ" فَتِيبَ عَلَيْهِ، أَوْ فَتَابَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ" شَكَّ يَحْيَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جسے اللہ تعالیٰ نے خوب مال و دولت اور اولاد سے نواز رکھا تھا، وقت گذرتا رہا حتیٰ کہ ایک زمانہ چلا گیا اور دوسرا زمانہ آگیا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بچوں سے کہا کہ میرے بچو! میں تمہارے لئے کیسا باپ ثابت ہوا؟ انہوں نے کہا بہترین باپ، اس نے کہا کیا اب تم میری ایک بات مانوگے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا دیکھو، جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا اور کوئلہ بن جانے تک مجھے آگ ہی میں رہنے دینا، پھر اس کوئلے کو ہاون دستے میں اس طرح کوٹنا (ہاتھ کے اشارے سے بتایا) پھر جس دن ہوا چل رہی ہو، میری راکھ کو سمندر میں بہا دینا، شاید اس طرح میں اللہ کو نہ مل سکوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم! ان لوگوں نے اسی طرح کیا، لیکن وہ اسی لمحے اللہ کے قبضے میں تھا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن آدم! تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا پروردگار! تیرے خوف نے، اللہ تعالیٰ نے اس خوف کی برکت سے اس کی توبہ قبول فرما لی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20039]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
← پچھلی حدیث (20038) باب پر واپس اگلی حدیث (20040) →