بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 40
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 20016 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ، فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، لَا تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا، فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنَعَهَا، فَإِنَّا آخِذُوهَا مِنْهُ وَشَطْرًا إِبِلِه، عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا جَلَّ وَعَزَّ , لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سائمہ اونٹوں کی ہر چالیس تعداد پر ایک بنت لبون واجب ہوگی اور زکوٰۃ کے اس حساب سے کسی اونٹ کو الگ نہیں کیا جائے گا، جو شخص ثواب کی نیت سے خود ہی زکوٰۃ ادا کر دے تو اسے اس کا ثواب مل جائے گا اور جو شخص زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا تو ہم اس سے جبراً بھی وصول کرسکتے ہیں، اس کے اونٹ کا حصہ ہمارے پروردگار کا فیصلہ ہے اور اس میں سے آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کچھ بھی حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20016]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20017 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنَّ أَبَاهُ أَوْ عَمَّهَ قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: جِيرَانِي بِمَ أُخِذُوا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرْنِي بِمَ أُخِذُوا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَقَالَ: لَئِنْ قُلْتُ ذَلكَ إِنَّهُمْ لَيَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَنْهَى عَنِ الْغَيِّ وَتَسْتَخْلِي بِهِ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قَالَ؟" فَقَامَ أَخُوهُ أَوْ ابْنُ أَخِيهِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَالَ , فَقَالَ:" لَقَدْ قُلْتُمُوهَا أَوْ قَائِلُكُمْ؟ وَلَئِنْ كُنْتُ أَفْعَلُ ذَلِكَ، إِنَّهُ لَعَلَيَّ وَمَا هُوَ عَلَيْكُمْ، خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے والد یا چچا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پڑوسیوں کو کیوں پکڑا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی بات سے اعراض کیا، دو مرتبہ اسی طرح ہوا پھر والد یا چچا نے کہا کہ بخدا! اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہ بولتا جا رہا تھا اور میں اپنی چادر گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ صاحب کیا کہہ رہے تھے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہا تھا اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کا کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا لوگ ایسی بات کہہ سکتے ہیں، اگر میں نے ایسا کیا بھی تو اس کا اثر مجھ پر ہوگا، ان پر تو کچھ نہیں ہوگا، اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20017]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20018 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٍ ، أَبُو قَزَعَةَ ، حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَزَعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدٍ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ اس شخص کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ شرک میں مبتلا ہوجائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20018]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20019 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ قَوْمِي فِي تُهْمَةٍ فَحَبَسَهُمْ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، عَلَامَ تَحْبِسُ جِيرَتِي؟ فَصَمَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّ نَاسًا لَيَقُولُونَ إِنَّكَ تَنْهَى عَنِ الشَّرِّ وَتَسْتَخْلِي بِهِ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَقُولُ؟" قَالَ: فَجَعَلْتُ أَعْرِضُ بَيْنَهُمَا بِالْكَلَامِ مَخَافَةَ أَنْ يَسْمَعَهَا، فَيَدْعُوَ عَلَى قَوْمِي دَعْوَةً لَا يُفْلِحُونَ بَعْدَهَا أَبَدًا، فَلَمْ يَزَلْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ حَتَّى فَهِمَهَا، فَقَالَ:" قَدْ قَالُوهَا أَوْ قَائِلُهَا مِنْهُمْ؟ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتُ لَكَانَ عَلَيَّ وَمَا كَانَ عَلَيْهِمْ، خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے والد یا چچا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پڑوسیوں کو کیوں پکڑا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی بات سے اعراض کیا، دو مرتبہ اسی طرح ہوا پھر والد یا چچا نے کہا کہ بخدا! اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہ بولتا جا رہا تھا اور میں میں اپنی چادر گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ صاحب کیا کہہ رہے تھے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہا تھا اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کا کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا لوگ ایسی بات کہہ سکتے ہیں، اگر میں نے ایسا کیا بھی تو اس کا اثر مجھ پر ہوگا، ان پر تو کچھ نہیں ہوگا، اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20019]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20020 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ سَأَلَهُ مَوْلَاهُ فَضْلَ مَالِهِ، فَلَمْ يُعْطِهِ، جُعِلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص سے اس کا چچا زاد بھائی اس کے مال کا زائد حصہ مانگے اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اسے گنجا سانپ بنادیا جائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20020]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20021 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ الْقَوْمَ، ثُمَّ يَكْذِبُ لِيُضْحِكَهُمْ، وَيْلٌ لَهُ، وَوَيْلٌ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اس شحص کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں کے سامنے انہیں ہنسانے کے لئے جھوٹی باتیں کہتا ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20021]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20022 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو قَزَعَةَ الْبَاهِلِيُّ ، حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو قَزَعَةَ الْبَاهِلِيُّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ عَدَدَ أَصَابِعِي هَذِهِ أَنْ لَا آتِيَكَ أَرَانَا عَفَّانُ وَطَبَّقَ كَفَّيْهِ، فَبِالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا الَّذِي بَعَثَكَ بِهِ؟ قَالَ:" الْإِسْلَامُ" قَالَ: وَمَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: " أَنْ يُسْلِمَ قَلْبُكَ لِلَّهِ، وَأَنْ تُوَجِّهَ وَجْهَكَ إِلَى اللَّهِ، وَتُصَلِّيَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، أَخَوَانِ نَصِيرَانِ، لَا يَقْبَلُ اللَّهَُّ مِنْ أَحَدٍ تَوْبَةً أَشْرَكَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ" . قُلْتُ: مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ؟ قَالَ: " تُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ، وَلَا تَضْرِبْ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ" . قَالَ: " تُحْشَرُونَ هَاهُنَا وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى نَحْوِ الشَّامِ , مُشَاةً وَرُكْبَانًا وَعَلَى وُجُوهِكُمْ، تُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى وَعَلَى أَفْوَاهِكُمْ الْفِدَامُ، وَأَوَّلُ مَا يُعْرِبُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے اتنی مرتبہ (اپنے ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر کہا) قسم کھائی تھی (کہ آپ کے پاس نہیں آؤں گا، اب میں آپ کے پاس آگیا ہوں تو) مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کے ساتھ بھیجا ہے، پوچھا اسلام کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ یہی دونوں چیزیں مددگار ہیں اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ شرک میں مبتلا ہوجائے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم پر اپنی بیوی کا کیا حق بنتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم کھاؤ تو اسے کھلاؤ، جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرے پر نہ مارو، اسے گالیاں مت دو اور اس سے قطع تعلقی اگر کرو تو صرف گھر کی حد تک رکھو۔ پھر فرمایا تم سب یہاں (شام کی طرف اشارہ کیا) جمع کئے جاؤ گے، تم میں سے بعض سوار ہوں گے، بعض پیدل اور بعض چہروں کے بل۔ قیامت کے دن جب تم لوگ پیش ہوگے تو تمہارے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور سب سے پہلے جو چیز بولے گی، وہ ران ہوگی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے اس کا چچا زاد بھائی اس کے مال کا زائد حصہ مانگے اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن فیصلہ سے پہلے اسے گنجا سانپ بنادیا جائے گا، جو اسے ڈستا رہے گا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جسے اللہ تعالیٰ نے خوب مال و دولت اور اولاد سے نواز رکھا تھا، وقت گذرتا رہا حتیٰ کہ ایک زمانہ چلا گیا اور دوسرا زمانہ آگیا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بچوں سے کہا کہ میرے بچو! میں تمہارے لئے کیسا باپ ثابت ہوا؟ انہوں نے کہا بہترین باپ، اس نے کہا کیا اب تم میری ایک بات مانوگے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا دیکھو، جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا اور کوئلہ بن جانے تک مجھے آگ ہی میں رہنے دینا، پھر اس کوئلے کو ہاون دستے میں اس طرح کوٹنا (ہاتھ کے اشارے سے بتایا) پھر جس دن ہوا چل رہی ہو، میری راکھ کو سمندر میں بہا دینا، شاید اس طرح میں اللہ کو نہ مل سکوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم! ان لوگوں نے اسی طرح کیا، لیکن وہ اسی لمحے اللہ کے قبضے میں تھا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن آدم! تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا پروردگار! تیرے خوف نے، اللہ تعالیٰ نے اس خوف کی برکت سے اس کی تلافی فرمادی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20022]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20023 مسند احمد
وَقَالَ: " مَا مِنْ مَوْلًى يَأْتِي مَوْلًى لَهُ، فَيَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلٍ عِنْدَهُ فَيَمْنَعُهُ، إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ شُجَاعًا يَنْهَسُهُ قَبْلَ الْقَضَاءِ" , قَالَ عَفَّانُ: يَعْنِي بِالْمَوْلَى ابْنَ عَمِّهِ..
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20024 مسند احمد
مُهَنَّا أَبُو شِبْلٍ ، حَمَّادٍ
قَالَ: قَالَ: وَقَالَ: " إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَغَسَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَالًا وَوَلَدًا، حَتَّى ذَهَبَ عَصْرٌ وَجَاءَ آخَرُ، فَلَمَّا احْتُضِرَ قَالَ لِوَلَدِهِ: أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ؟ قَالُوا: خَيْرَ أَبٍ , فَقَالَ: هَلْ أَنْتُمْ مُطِيعِيَّ، وَإِلَّا أَخَذْتُ مَالِي مِنْكُمْ؟ انْظُرُوا إِذَا أَنَا مُتُّ أَنْ تُحَرِّقُونِي حَتَّى تَدَعُونِي حُمَمًا، ثُمَّ اهْرُسُونِي بِالْمِهْرَاسِ" , وَأَدَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حِذَاءَ رُكْبَتَيْهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَفَعَلُوا وَاللَّهِ"، وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ هَكَذَا:" ثُمَّ اذْرُونِي فِي يَوْمٍ رَاحٍ لَعَلِّي أَضِلُّ اللَّهَ" كَذَا قَالَ عَفَّانُ , وَقَالَ مُهَنَّا أَبُو شِبْلٍ ، عَنْ حَمَّادٍ :" أَضِلُّ اللَّهَ , فَفَعَلُوا وَاللَّهِ ذَاكَ، فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ تَعَالَى , فَقَالَ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَهُ؟ قَالَ: مِنْ مَخَافَتِكَ , فَتَلَافَاهُ اللَّهُ بِهَا".
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20025 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادٌ ، الْجُرَيْرِيَّ ، حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ فِيمَا سَمِعْتُهُ , قَالَ: وَسَمِعْتُ الْجُرَيْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَنْتُمْ تُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً، أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ" . " وَمَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ عَامًا، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ يَوْمٌ وَإِنَّهُ لَكَظِيظٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم لوگ کامل ستر امتوں کی شکل میں ہو گے اور سب سے آخری امت تم ہو گے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیدہ باعزت ہو گے اور جنت کے دو کو اڑوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے لیکن ایک دن وہاں بھی رش لگا ہو اہو گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20025]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20026 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْجُرَيْرِيُّ أَبُو مَسْعُودٍ ، حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ أَبُو مَسْعُودٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَجِيئُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَفْوَاهِكُمْ الْفِدَامُ، وَإِنَّ أَوَّلَ مَا يَتَكَلَّمُ مِنَ الْآدَمِيِّ فَخِذُهُ وَكَفُّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب تم لوگ پیش ہو گے تو تمہارے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور سب سے پہلے جو چیز بولے گی، وہ ران ہوگی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20026]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20027 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو قَزَعَةَ ، وعطاء ، رَجُلٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حدثنا أَبُو قَزَعَةَ ، وعطاء , عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي قُشَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا حَقُّ امْرَأَتِي عَلَيَّ؟ قَالَ: " تُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ، وَلَا تَضْرِبْ الْوَجْهَ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم پر اپنی بیوی کا کیا حق بنتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم کھاؤ تو اسے کھلاؤ، جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرے پر نہ مارو، اسے گالیاں مت دو اور اس سے قطع تعلقی اگر کرو تو صرف گھر کی حد تک رکھو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20027]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20028 مسند احمد
يَزِيدُ ، بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ:" أُمَّكَ" قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" أُمَّكَ" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" أُمَّكَ" قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ أَبَاكَ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میں کس کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنی والدہ کے ساتھ، تین مرتبہ میں نے یہی سوال کیا اور تینوں مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی جواب دیا، چوتھی مرتبہ کے سوال پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے والد کے ساتھ، پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20028]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20029 مسند احمد
يَزِيدُ ، بَهْزٌ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَلَا إِنَّكُمْ تُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً، أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم لوگ کامل ستر امتوں کی شکل میں ہو گے اور سب سے آخری امت تم ہوں گے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہوگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20029]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20030 مسند احمد
يَزِيدُ ، بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: " حَرْثُكَ، ائْتِ حَرْثَكَ أَنَّى شِئْتَ، غَيْرَ أَنْ لَا تَضْرِبَ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ، وَأَطْعِمْ إِذَا طَعِمْتَ، وَاكْسُ إِذَا اكْتَسَيْتَ، كَيْفَ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ إِلَّا بِمَا حَلَّ عَلَيْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم اپنی عورتوں کے کس حصے میں آئیں اور کس حصے کو چھوڑیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہاری بیوی تمہارا کھیت ہے، تم اپنے کھیت میں جہاں سے چاہو آؤ، البتہ جب تم کھاؤ تو اسے کھلاؤ، جب پہنو تو اسے بھی پہناؤ اس کے چہرے پر نہ مارو، اسے گالیاں مت دو اور اس سے قطع تعلقی اگر کرو تو صرف گھر کی حد تک رکھو، یہ کیسے مناسب ہے جبکہ تم ایک دوسرے کے پاس حلال طریقے سے آتے بھی ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20030]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20031 مسند احمد
يَزِيدُ ، بَهْزٌ بْنُ حَكِيمُ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزٌ بْنُ حَكِيمُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ:" هَاهُنَا" وَنَحَا بِيَدِهِ نَحْوَ الشَّامِ، قَالَ:" إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ رِجَالًا وَرُكْبَانًا، وَتُجَرُّونَ عَلَى وُجُوهِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ مجھے کہاں جانے کا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم سب یہاں (شام کی طرف اشارہ کیا) جمع کئے جاؤ گے، تم میں سے بعض سوار ہوں گے، بعض پیدل اور بعض چہروں کے بل۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20031]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20032 مسند احمد
يَزِيدُ ، بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَأْتِي رَجُلٌ مَوْلَاهُ، فَيَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلٍ هُوَ عِنْدَهُ، فَيَمْنَعُهُ إِيَّاهُ، إِلَّا دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ يَتَلَمَّظُ، فَضْلُهُ الَّذِي مَنَعَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص سے اس کا چچازاد بھائی اس کے مال کا زائد حصہ مانگے اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اسے گنجا سانپ بنادیا جائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20032]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20033 مسند احمد
يَزِيدُ ، بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَوْمٌ نَتَسَاءَلُ أَمْوَالَنَا، قَالَ: " يَتَسَاءَلُ الرَّجُلُ فِي الحاجة أَوْ الْفَتْقِ لِيُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ قَوْمِهِ، فَإِذَا بَلَغَ أَوْ كَرَبَ، اسْتَعَفَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ (بن حیدہ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی قوم ہیں جو آپس میں ایک دوسرے سے مال مانگتے ہیں (یعنی مالی مدد لیتے ہیں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آدمی (صرف اس وقت) سوال کرے جب اسے کوئی (سخت) ضرورت ہو یا (قوم کے درمیان) کوئی ایسا بگاڑ/جداگی پیدا ہو جائے جسے ختم کرنے اور صلح کرانے کے لیے (وہ مال جمع کر رہا ہو)۔ پھر جب وہ (مطلوبہ رقم تک) پہنچ جائے یا اس کے قریب پہنچ جائے، تو اسے (سوال سے) باز رہنا چاہیے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20033]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20034 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، بَهْزٍ ، أَبِي ، جَدِّي
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ بَهْزٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: " احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ، أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ" , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ؟ قَالَ:" إِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَيَنَّهَا" قُلْتُ: فَإِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا , قَالَ:" فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم اپنی شرمگاہ کا کتنا حصہ چھپائیں اور اور کتنا چھوڑ سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنی بیوی اور باندی کے علاوہ ہر ایک سے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! بعض لوگوں کے رشتہ دار ان کے ساتھ رہتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہاں تک ممکن ہو کہ وہ تمہاری شرمگاہ نہ دیکھیں، تم انہیں مت دکھاؤ، میں نے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے کوئی شخص تنہا بھی تو ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20034]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20035 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، بَهْزٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ بَهْزٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وقَالَ:" فَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ" وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَرْجِهِ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20035]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن