بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 20033
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 20033
حدیث نمبر: 20033 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ ، بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَوْمٌ نَتَسَاءَلُ أَمْوَالَنَا، قَالَ: " يَتَسَاءَلُ الرَّجُلُ فِي الحاجة أَوْ الْفَتْقِ لِيُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ قَوْمِهِ، فَإِذَا بَلَغَ أَوْ كَرَبَ، اسْتَعَفَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ (بن حیدہ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی قوم ہیں جو آپس میں ایک دوسرے سے مال مانگتے ہیں (یعنی مالی مدد لیتے ہیں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آدمی (صرف اس وقت) سوال کرے جب اسے کوئی (سخت) ضرورت ہو یا (قوم کے درمیان) کوئی ایسا بگاڑ/جداگی پیدا ہو جائے جسے ختم کرنے اور صلح کرانے کے لیے (وہ مال جمع کر رہا ہو)۔ پھر جب وہ (مطلوبہ رقم تک) پہنچ جائے یا اس کے قریب پہنچ جائے، تو اسے (سوال سے) باز رہنا چاہیے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20033]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
← پچھلی حدیث (20032) باب پر واپس اگلی حدیث (20034) →