بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 20048
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 20048
حدیث نمبر: 20048 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، بَهْزٌ ، أَبِي ، جَدِّي
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ:" أُمَّكَ" قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ" أُمَّكَ" قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" أُمَّكَ , ثُمَّ أَبَاكَ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میں کس کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنی والدہ کے ساتھ، تین مرتبہ میں نے یہی سوال کیا اور تینوں مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی جواب دیا، چوتھی مرتبہ کے سوال پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے والد کے ساتھ، پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20048]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
← پچھلی حدیث (20047) باب پر واپس اگلی حدیث (20049) →