بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 20054
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 20054
حدیث نمبر: 20054 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالشَّيْءِ سَأَلَ عَنْهُ: " أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ؟" فَإِنْ قَالُوا: هَدِيَّةٌ، بَسَطَ يَدَهُ، َإِنْ قَالُوا: صَدَقَةٌ , قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" خُذُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جب کوئی چیز لائی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے متعلق یہ سوال کرتے کہ یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟ اگر لوگ کہتے کہ ہدیہ ہے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے اور اگر لوگ کہتے کہ صدقہ ہے تو اپنے ساتھیوں سے فرما دیتے کہ یہ تم لے لو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20054]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
← پچھلی حدیث (20053) باب پر واپس اگلی حدیث (20055) →