بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
وَمِنْ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 110
صفحہ 3 از 6
حدیث نمبر: 19192 مسند احمد
حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ قَوْمٍ يَعْمَلُونَ بِالْمَعَاصِي وَفِيهِمْ رَجُلٌ أَعَزُّ مِنْهُمْ وَأَمْنَعُ لَا يُغَيِّرُونَ إِلَّا عَمَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعِقَابٍ" . أَوْ قَالَ:" أَصَابَهُمْ الْعِقَابُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو قوم بھی کوئی گناہ کرتی ہے اور ان میں کوئی باعزت اور باوجاہت آدمی ہوتا ہے اگر وہ انہیں روکتا نہیں ہے تو اللہ کا عذاب ان سب پر آجاتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19192]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، ثم إنه خولف
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، ثم إنه خولف
حدیث نمبر: 19193 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، جَرِيرًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرًا ، يَقُولُ حِينَ مَاتَ الْمُغِيرَةُ وَاسْتَعْمَلَ قَرَابَتَهُ يَخْطُبُ، فَقَامَ جَرِيرٌ، فَقَالَ: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنْ تَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمِيرٌ، اسْتَغْفِرُوا لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ غَفَرَ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ الْعَافِيَةَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَايِعُهُ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ" والنُّصْحَ" فَوَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ إِنِّي لَكُمْ لَنَاصِحٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس دن حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم اللہ سے ڈرتے رہو اور جب تک تمہارا دوسرا امیر نہیں آجاتا اس وقت تک وقار اور سکون کو لازم پکڑو کیونکہ تمہارا امیرآتاہی ہوگا پھر فرمایا اپنے امیر کے سامنے سفارش کردیا کرو کیونکہ وہ درگذر کرنے کو پسند کرتا ہے اور امابعد " کہہ کر فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے سامنے ہر مسلمان کی خیرخواہی کی شرط رکھی میں نے اس شرط پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کرلی اس مسجد کے رب کی قسم! میں تم سب کا خیرخواہ ہوں۔ " [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19193]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 58، م: 56
الحكم: إسناده صحيح، خ: 58، م: 56
حدیث نمبر: 19194 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبَا إِسْحَاقَ ، جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، قَالَ: كَانَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي بَعْثٍ بِأَرْمِينِيَّةَ، قَالَ: فَأَصَابَتْهُمْ مَخْمَصَةٌ أَوْ مَجَاعَةٌ، قَالَ: فَكَتَبَ جَرِيرٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ لَمْ يَرْحَمْ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَقْفَلَهُمْ وَمَتَّعَهُمْ . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَكَانَ أَبِي فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ، فَجَاءَ بِقَطِيفَةٍ مِمَّا مَتَّعَهُ مُعَاوِيَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ آرمینیہ کے لشکر میں شامل تھے اہل لشکر کو قحط سالی نے ستایا تو حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط میں لکھا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بلابھیجاوہ آئے تو پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں! حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر انہیں جنگ میں شریک کیجئے اور انہیں فائدہ پہنچائیے۔ ابواسحاق کہتے ہیں کہ اس لشکر میں میرے والد بھی تھے اور وہ ایک چادرلے کر آئے تھے جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دی تھی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19194]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح، خ: 6013، م: 2319، وهذا إسناد اختلف فيه على أبي إسحاق السبيعي، فرواه عنه شعبة، واختلف عليه فيه
الحكم: مرفوعه صحيح، خ: 6013، م: 2319، وهذا إسناد اختلف فيه على أبي إسحاق السبيعي، فرواه عنه شعبة، واختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 19195 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، سَيَّارٌ ، الشَّعْبِيِّ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا سَيَّارٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، قَالَ: فَلَقَّنِّني، فَقَالَ: " فِيمَا اسْتَطَعْتَ" وَالنُّصْحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات سننے اور ماننے کی شرط پر بیعت کی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس جملے کی تلقین کی " حسب استطاعت " نیزہر مسلمان کی خیرخواہی کی شرط بھی لگائی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19195]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7204، م: 56
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7204، م: 56
حدیث نمبر: 19196 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يُونُسُ ، عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عُمَرٍو ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عُمَرٍو ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتِلُ عُرْفَ فَرَسٍ بِأُصْبُعَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ: " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی انگلیوں سے گھوڑے کی ایال بٹتے ہوئے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے کہ گھوڑوں کی پیشانی میں خیر، اجر اور غنیمت قیامت تک کے لئے باندھ دی گئی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19196]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1872
الحكم: إسناده صحيح، م: 1872
حدیث نمبر: 19197 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يُونُسُ ، عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ، فَأَمَرَنِي، فَقَالَ: " اصْرِفْ بَصَرَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نامحرم پر اچانک نظرپڑجانے کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نگاہیں پھیرلیا کروں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19197]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2159
الحكم: إسناده صحيح، م: 2159
حدیث نمبر: 19198 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، دَاوُدَ ، الشَّعْبِيِّ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِيَصْدُرْ الْمُصَدِّقُ مِنْ عِنْدِكُمْ وَهُوَ رَاضٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زکوٰۃ لینے والاجب تمہارے یہاں سے نکلے تو اسے تم سے خوش ہو کر نکلنا چاہئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19198]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 989
الحكم: إسناده صحيح، م: 989
حدیث نمبر: 19199 مسند احمد
سُفْيَانُ ، زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، جَرِيرًا ، مِسْعَرٌ ، زِيَادٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرًا ، يَقُولُ: " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ" . قَالَ مِسْعَرٌ ، عَنْ زِيَادٍ : فَإِنِّي لَكُمْ لَنَاصِحٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنے کی شرط پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19199]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 58، م: 56
الحكم: إسناده صحيح، خ: 58، م: 56
حدیث نمبر: 19200 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَاصِمِ ابْنِ أَبِي النَّجُودِ ، أَبِي وَائِلٍ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، أَنَّ قَوْمًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَعْرَابِ مُجْتَابِي النِّمَارِ، فَحَثَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَبْطَئُوا حَتَّى رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِقِطْعَةِ تِبْرٍ فَطَرَحَهَا، فَتَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً، فَعُمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً عُمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلَا يُنْقِصُ ذَلِكَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ آئے جو برہنہ پا، برہنہ جسم، چیتے کی کھالیں لپیٹے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دی لوگوں نے اس میں تاخیر کی جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور کا رنگ اڑگیا، پھر ایک انصاری آدمی چاندی کا ایک ٹکڑا لے کر آیا اور ڈال دیا اس کے بعد لوگ مسلسل آنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگا اور یوں محسوس ہوا جیسے وہ سونے کا ہو اور فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی عمدہ طریقہ رائج کرتا ہے اسے اس کا اجر بھی ملتا ہے اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی اور جو شخص اسلام میں کوئی براطریقہ رائج کرتا ہے اس میں اس کا بھی گناہ ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19200]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1017، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 1017، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19201 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، هَمَّامٍ ، جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَتَوَضَّأُ مِنْ مِطْهَرَةٍ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقَالُوا: أَتَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَرَّةً: يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ" . فَكَانَ هَذَا الْحَدِيثُ يُعْجِبُ أَصْحَابَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُونَ: إِنَّمَا كَانَ إِسْلَامُهُ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہمام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کرکے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا کسی نے ان سے کہا کہ آپ موزوں پر مسح کیسے کررہے ہیں جبکہ ابھی تو آپ نے پیشاب کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی دیکھا ہے کہ انہوں نے پیشاب کرکے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔ ابراہیم کہتے ہیں کہ محدثیین اس حدیث کو بہت اہمیت دیتے کیونکہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے سورت امائدہ (میں آیت وضو) ' کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19201]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 387، م: 272
الحكم: إسناده صحيح، خ: 387، م: 272
حدیث نمبر: 19202 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَثَّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَبْطَأَ النَّاسُ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ، وَقَالَ مَرَّةً: حَتَّى بَانَ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ، فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ فَأَعْطَوْا حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ السُّرُورُ، فَقَالَ: " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَمِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ" . قَالَ مَرَّةً يَعْنِي أَبَا مُعَاوِيَةَ:" مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ آئے جو برہنہ پا، برہنہ جسم، چیتے کی کھالیں لپیٹے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دی لوگوں نے اس میں تاخیر کی جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور کا رنگ اڑگیا، پھر ایک انصاری آدمی چاندی کا ایک ٹکڑالے کر آیا اور ڈال دیا اس کے بعد لوگ مسلسل آنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگا اور یوں محسوس ہوا جیسے وہ سونے کا ہو اور فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی عمدہ طریقہ رائج کرتا ہے اسے اس کا اجر بھی ملتا ہے اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی اور جو شخص اسلام میں کوئی براطریقہ رائج کرتا ہے اس میں اس کا بھی گناہ ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19202]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1017
الحكم: إسناده صحيح، م: 1017
حدیث نمبر: 19203 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُوَ الضَّرِيرُ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُوَ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَا يَرْحَمْ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر بھی رحم نہیں کرتا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19203]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6013، م: 2319
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6013، م: 2319
حدیث نمبر: 19204 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، إِسْمَاعِيلَ ، قَيْسٌ ، جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ؟" وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ. قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِئَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ، وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ فِي صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا"، فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا، فَكَسَّرَهَا وَحَرَّقَهَا، فَأَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ، فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ، فَبَارَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تم مجھے ذی الخلصہ سے راحت کیوں نہیں دلادیتے؟ یہ قبیلہ خثعم میں ایک گرجا تھا جسے کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا چناچہ میں اپنے ساتھ ایک سو پچاس آدمی احمس کے لے کر روانہ ہوا وہ سب شہسوار تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ میں گھوڑے کی پشت پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا دست مبارک مارا یہاں تک کہ میں نے ان کی انگلیوں کے نشان اپنے سینے پر دیکھے اور دعاء کی کہ اے اللہ! اسے مضبوطی اور جماؤعطاء فرما اور اسے ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ بنا پھر میں روانہ ہو اور وہاں پہنچ کر اسے آگ لگادی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی کو یہ خوشخبری سنانے کے لئے بھیج دیا اور اس نے کہ اس نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں آپ کے پاس اسے اس حال میں چھوڑ کر آیاہوں جیسے ایک خارشی اونٹ ہوتا ہے، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احمس اور اس کے شہسواروں کے لئے پانچ مرتبہ برکت کی دعاء فرمائی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19204]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3020، م: 2476
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3020، م: 2476
حدیث نمبر: 19205 مسند احمد
يَحْيَى ، إِسْمَاعِيلَ ، قَيْسٌ ، جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، قَالَ: قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: " أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا، لَا تُضَامُونَ أَوْ لَا تُضَارُّونَ" شَكَّ إِسْمَاعِيلُ" فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا، فَافْعَلُوا" ثُمَّ قَالَ: وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا سورة طه آية 130 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ چاند کی چود ہویں رات کو ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمانے لگے عنقریب تم اپنے رب کو اس طرح دیکھوگے جیسے چاند کو دیکھتے ہو تمہیں اپنے رب کو دیکھنے میں کوئی مشقت نہیں ہوگی اس لئے اگر تم طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے والی نمازوں سے مغلوب نہ ہونے کی طاقت رکھتے ہو تو ایساہی کرو (ان نمازوں کا خوب اہتمام کرو) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ " اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کیجئے سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے کے بعد۔ " [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19205]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 573، م: 633
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 573، م: 633
حدیث نمبر: 19206 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ ، جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ ، قَالَ: قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَسُنُّ عَبْدٌ سُنَّةً صَالِحَةً يَعْمَلُ بِهَا مَنْ بَعْدَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يُنْقَصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَلَا يَسُنُّ عَبْدٌ سُنَّةَ سُوءٍ يَعْمَلُ بِهَا مَنْ بَعْدَهُ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يُنْقَصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی اچھاطریقہ رائج کرے تو اسے اس عمل کا اور اس پر بعد میں عمل کرنے والوں کا ثواب بھی ملے گا اور ان کے اجروثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور جو شخص اسلام میں کوئی براطریقہ رائج کرے، اسے اس کا گناہ بھی ہوگا اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی ہوگا اور ان گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی، راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کچھ دیہاتی لوگ آئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! ہمارے پاس آپ کی طرف سے جو لوگ زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے آتے ہیں وہ ہم پر ظلم کرتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے خوش کرکے بھیجا کرو، انہوں نے عرض کیا اگرچہ وہ ہم پر ظلم ہی کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اسے خوش کرکے بھیجا کرو جب سے میں نے یہ حدیث سنی ہے میں نے اپنے پاس زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے آنے والے کو خوش کرکے ہی بھیجا ہے [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19206]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1017
الحكم: إسناده صحيح، م: 1017
حدیث نمبر: 19207 مسند احمد
: قَالَ: وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، يَأْتِينَا نَاسٌ مِنْ مُصَدِّقِيكَ يَظْلِمُونَا. قَالَ: " أَرْضُوا مُصَدِّقَكُمْ" قالوا: وَإِنْ ظَلَمَ؟ قَالَ" أَرْضُوا مُصَدِّقَكُمْ" . قَالَ جَرِيرٌ: فَمَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 989
الحكم: إسناده صحيح، م: 989
حدیث نمبر: 19208 مسند احمد
قَالَ: قَالَ: وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يُحْرَمْ الرِّفْقَ يُحْرَمْ الْخَيْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو شخص نرمی سے محروم رہاوہ ساری بھلائی سے محروم رہا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19208]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2592
الحكم: إسناده صحيح، م: 2592
حدیث نمبر: 19209 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِي حَيَّانَ ، الضَّحَّاكُ ، مُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ خَالُ الْمُنْذِرِ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي جَرِيرٍ بِالْبَوَارِيجِ فِي السَّوَادِ، فَرَاحتُ الْبَقَرَ، فَرَأَى بَقَرَةً أَنْكَرَهَا، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْبَقَرَةُ؟ قَالَ: بَقَرَةٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ، فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى تَوَارَتْ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يُؤْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
منذربن جریررحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد حضرت جریر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بوازیج " نامی جگہ میں ایک ریوڑ میں تھا وہاں آگے پیچھے گائیں آجارہی تھیں انہوں نے ایک گائے دیکھی تو وہ انہیں نامانوس معلوم ہوئی انہوں نے پوچھا یہ گائے کیسی ہے؟ چرواہے نے بتایا کہ یہ کسی کی ہے جو ہمارے جانوروں میں آکر مل گئی ہے ان کے حکم پر اسے وہاں سے نکال دیا گیا یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی پھر فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ گمشدہ چیز کو وہی آدمی ٹھکانہ دیتا ہے جو خود گمراہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19209]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الضحاك خال المنذر مجهول، وأبو حيان اضطرب فيه
الحكم: إسناده ضعيف، الضحاك خال المنذر مجهول، وأبو حيان اضطرب فيه
حدیث نمبر: 19210 مسند احمد
أَبُو أُسَامَةَ ، إِسْمَاعِيلَ ، قَيْسٍ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: " مَا حَجَبَنِي عَنْهُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے جب سے اسلام قبول کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی مجھ سے حجاب نہیں فرمایا اور جب بھی مجھے دیکھا تو مسکراکرہی دیکھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19210]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3035، م: 2475
الحكم: حديث صحيح، خ: 3035، م: 2475
حدیث نمبر: 19211 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ، بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو غلام بھی اپنے آقا کے پاس سے بھاگ جائے کسی پر اس کی ذمہ داری باقی نہیں رہتی ختم ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19211]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، المغيرة بن شبل لا يدري هل سمع من جرير أم لا؟ لكنه توبع، وقد اختلف فيه على حبيب بن أبى ثابت
الحكم: حديث صحيح، المغيرة بن شبل لا يدري هل سمع من جرير أم لا؟ لكنه توبع، وقد اختلف فيه على حبيب بن أبى ثابت