بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
وَمِنْ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 110
صفحہ 1 از 6
حدیث نمبر: 19152 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبِي عَوَانَةَ ، زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَامَ يَخْطُبُ يَوْمَ تُوُفِّيَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَقَالَ: عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالْوَقَارِ وَالسَّكِينَةِ حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمِيرٌ، فَإِنَّمَا يَأْتِيكُمْ الْآنَ، ثُمّ قَالَ: اشْفَعُوا لِأَمِيرِكُم، فَإِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ الْعَفْوَ، وَقَالَ: أَمَّا بَعْدُ , فَإِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أُبَايِعُكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشْتَرِطُ عَلَى: " النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ" فَبَايَعْتُهُ عَلَى هَذَا، وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ إِنِّي لَكُمْ لَنَاصِحٌ جَمِيعًا. ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس دن حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم اللہ سے ڈرتے رہو اور جب تک تمہارا دوسرا امیر نہیں آجاتا اس وقت تک وقار اور سکون کو لازم پکڑو کیونکہ تمہارا امیرآتاہی ہوگا پھر فرمایا اپنے امیر کے سامنے سفارش کردیا کرو کیونکہ وہ درگذر کرنے کو پسند کرتا ہے اور امابعد " کہہ کر فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے سامنے ہر مسلمان کی خیرخواہی کی شرط رکھی میں نے اس شرط پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کرلی اس مسجد کے رب کی قسم! میں تم سب کا خیرخواہ ہوں، پھر وہ استغفار پڑھتے ہوئے نیچے اترآئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19152]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 58، م: 56
الحكم: إسناده صحيح، خ: 58، م: 56
حدیث نمبر: 19153 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، أَبِي وَائِلٍ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اشْتَرِطْ عَلَيَّ، فَقَالَ: " تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُصَلِّي الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَنْصَحُ لِلْمُسْلِمِ، وَتَبْرَأُ مِنَ الْكَافِرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبول اسلام کے وقت میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کوئی شرط ہو تو وہ مجھے بتادیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ فرض نماز پڑھو، فرض زکوٰۃ ادا کرو ہر مسلمان کی خیرخواہی کرو اور کافر سے بیزاری ظاہر کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19153]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 58، م: 56، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى وائل
الحكم: حديث صحيح، خ: 58، م: 56، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى وائل
حدیث نمبر: 19154 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَابِرٍ ، رَجُلٌ ، طَارِقٍ التَّمِيمِيِّ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ طَارِقٍ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنِسَاءٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خواتین کے پاس سے گذرے تو انہیں سلام کیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19154]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، جابر الجعفي ضعيف، وقد اختلف عليه فيه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، جابر الجعفي ضعيف، وقد اختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 19155 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، حَبِيبٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ أَوْ شِبْلٍ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: الْمُغِيرَةُ بْنُ شُبَيْلٍ، يَعْنِي ابْنَ عَوْفٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو غلام بھی اپنے آقا کے پاس سے بھاگ جائے کسی پر اس کی ذمہ داری باقی نہیں رہتی ختم ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19155]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، المغيرة بن شبيل لا يدري هل سمع من جرير أم لا؟ لكنه توبع، ثم إنه قد اختلف فيه على حبيب بن ابي ثابت
الحكم: حديث صحيح، المغيرة بن شبيل لا يدري هل سمع من جرير أم لا؟ لكنه توبع، ثم إنه قد اختلف فيه على حبيب بن ابي ثابت
حدیث نمبر: 19156 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، شُعْبَةُ ، عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی اچھاطریقہ رائج کرے تو اسے اس عمل کا اور اس پر بعد میں عمل کرنے والوں کا ثواب بھی ملے گا اور ان کے اجروثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور جو شخص اسلام میں کوئی براطریقہ رائج کرے، اسے اس کا گناہ بھی ہوگا اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی ہوگا اور ان گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19156]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1017
الحكم: إسناده صحيح، م: 1017
حدیث نمبر: 19157 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، عَوْنَ بْنَ أَبِي جَحْفَةَ ، الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ الْبَجَلِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَوْنَ بْنَ أَبِي جَحْفَةَ ، سمعت الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ الْبَجَلِيِّ ، عَن أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ النَّهَارِ، فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ يُصَلِّي، وَقَالَ: كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1017
الحكم: إسناده صحيح، م: 1017
حدیث نمبر: 19158 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، الْحَجَّاجِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، زَاذَانَ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ، فَدَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ الْإِسْلَامَ وَهُوَ فِي مَسِيرِهِ، فَدَخَلَ خُفُّ بَعِيرِهِ فِي جُحْرِ يَرْبُوعٍ، فَوَقَصَهُ بَعِيرُهُ، فَمَاتَ، فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا" قَالَهَا حَمَّادٌ ثَلَاثًا" اللَّحْدُ لَنَا، وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اسلام کے حلقے میں داخل ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے احکام اسلام سکھاتے تھے ایک مرتبہ وہ سفر پر جارہا تھا کہ اس کے اونٹ کا کھر کسی جنگلی چوہے کے بل میں داخل ہوگیا اس کے اونٹ نے اسے زور سے نیچے پھینکا اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہوگیا نبی کریم کی خدمت میں اس کا جنازہ لایا گیا تو فرمایا کہ اس نے عمل تو تھوڑا کیا لیکن اجر بہت پایا (حمادنے یہ جملہ تین مرتبہ ذکر کیا) لحد ہمارے لئے ہے اور صندوقی قبر دوسروں کے لئے ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19158]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحجاج
الحكم: حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحجاج
حدیث نمبر: 19159 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عُثْمَانُ الْبَجَلِيُّ ، زَاذَانَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الْبَجَلِيُّ ، عَنْ زَاذَانَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحجاج
الحكم: حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحجاج
حدیث نمبر: 19160 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ ، عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، جَرِيرٌ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، قَالَ: قَالَ جَرِيرٌ :" سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نامحرم پر اچانک نظرپڑجانے کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نگاہیں پھیرلیا کروں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19160]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2159
الحكم: إسناده صحيح، م: 2159
حدیث نمبر: 19161 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرٍ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أُبَايِعُكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَقَبَضَ يَدَهُ، وَقَالَ:" النُّصْحُ لِكُلِّ مُسْلِمٍ" ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ مَنْ لَمْ يَرْحَمْ النَّاسَ لَمْ يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبول اسلام کے وقت میں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! میں اسلام پر بیعت کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ کر فرمایا ہر مسلمان کی خیرخواہی کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر بھی رحم نہیں کرتا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19161]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 58، م: 56، وهذا إسناد اختلف فيه على سماك بن حرب
الحكم: حديث صحيح، خ: 58، م: 56، وهذا إسناد اختلف فيه على سماك بن حرب
حدیث نمبر: 19162 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، أَبَا وَائِلٍ ، رَجُلٍ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِلْمُسْلِمِ، وَعَلَى فِرَاقِ الْمُشْرِكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نماز قائم کرنے زکوٰۃ ادا کرنے ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنے اور کافروں سے بیزاری ظاہر کرنے کی شرائط پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19162]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 57، م: 56، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى وائل
الحكم: حديث صحيح، خ: 57، م: 56، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى وائل
حدیث نمبر: 19163 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَة ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي وَائِلٍ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَة ، عَنْ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ، وَعَلَى فِرَاقِ الْمُشْرِكِ. أَوْ كَلِمَةٍ مَعْنَاهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نماز قائم کرنے زکوٰۃ ادا کرنے ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنے اور کافروں سے بیزاری ظاہر کرنے کی شرائط پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19163]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 57، م: 56، وهذا إسناد أختلف فيه على أبى وائل
الحكم: حديث صحيح، خ: 57، م: 56، وهذا إسناد أختلف فيه على أبى وائل
حدیث نمبر: 19164 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبَا ظَبْيَانَ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ظَبْيَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ لَمْ يَرْحَمْ النَّاسَ لَمْ يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس پر بھی رحم نہیں کرتا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19164]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7376، م: 2319
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7376، م: 2319
حدیث نمبر: 19165 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، أَبِي وَائِلٍ ، جَرِيرًا
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، أَنَّ جَرِيرًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اشْتَرِطْ عَلَيَّ، قَالَ: " تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُصَلِّي الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَنْصَحُ الْمُسْلِمَ، وَتَبْرَأُ مِنَ الْكَافِرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبول اسلام کے وقت میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کوئی شرط ہو تو وہ مجھے بتادیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ فرض نماز پڑھو، فرض زکوٰۃ ادا کرو ہر مسلمان کی خیرخواہی کرو اور کافر سے بیزاری ظاہر کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19165]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 58، م: 56، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى وائل
الحكم: حديث صحيح، خ: 58، م: 56، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى وائل
حدیث نمبر: 19166 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَرْحَمُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس پر بھی رحم نہیں کرتا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19166]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6013، م: 2319، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 6013، م: 2319، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19167 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، أَبَا زُرْعَةَ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ جَرِيرٍ ، وَهُوَ جَدُّهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" يَا جَرِيرُ، اسْتَنْصِتْ النَّاسَ"، ثُمَّ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم نے حجۃ الوداع میں ان سے فرمایا اے جریر! لوگوں کو خاموش کراؤ پھر اپنے خطبے کے دوران فرمایا میرے پیچھے کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو! [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19167]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 121، م: 65
الحكم: إسناده صحيح، خ: 121، م: 65
حدیث نمبر: 19168 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، هَمَّامٍ ، جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ: بَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: تَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ بُلْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ،" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ" . قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَكَانَ يُعْجِبُهُ هَذَا الْحَدِيثُ، لِأَنَّ إِسْلَامَ جَرِيرٍ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہمام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کرکے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا کسی نے ان سے کہا کہ آپ موزوں پر مسح کیسے کررہے ہیں جبکہ ابھی تو آپ نے پیشاب کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی دیکھا ہے کہ انہوں نے پیشاب کرکے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔ ابراہیم کہتے ہیں کہ محدثیین اس حدیث کو بہت اہمیت دیتے کیونکہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے سورت امائدہ (میں آیت وضو) ' کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19168]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 272
الحكم: إسناده صحيح، م: 272
حدیث نمبر: 19169 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، جَرِيرًا
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرًا ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَا يَرْحَمْ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس پر بھی رحم نہیں کرتا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19169]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6013، م: 2319
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6013، م: 2319
حدیث نمبر: 19170 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7376، م: 2319
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7376، م: 2319
حدیث نمبر: 19171 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، جَرِيرِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ جَرِيرِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَا يَرْحَمْ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس پر بھی رحم نہیں کرتا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19171]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6013، م: 2319
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6013، م: 2319