عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، الْحَجَّاجِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، زَاذَانَ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ، فَدَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ الْإِسْلَامَ وَهُوَ فِي مَسِيرِهِ، فَدَخَلَ خُفُّ بَعِيرِهِ فِي جُحْرِ يَرْبُوعٍ، فَوَقَصَهُ بَعِيرُهُ، فَمَاتَ، فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا" قَالَهَا حَمَّادٌ ثَلَاثًا" اللَّحْدُ لَنَا، وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اسلام کے حلقے میں داخل ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے احکام اسلام سکھاتے تھے ایک مرتبہ وہ سفر پر جارہا تھا کہ اس کے اونٹ کا کھر کسی جنگلی چوہے کے بل میں داخل ہوگیا اس کے اونٹ نے اسے زور سے نیچے پھینکا اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہوگیا نبی کریم کی خدمت میں اس کا جنازہ لایا گیا تو فرمایا کہ اس نے عمل تو تھوڑا کیا لیکن اجر بہت پایا (حمادنے یہ جملہ تین مرتبہ ذکر کیا) لحد ہمارے لئے ہے اور صندوقی قبر دوسروں کے لئے ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19158]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحجاج
الحكم: حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحجاج