بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
وَمِنْ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 110
صفحہ 2 از 6
حدیث نمبر: 19172 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي ظَبْيَانَ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنْ جَرِيرٍ مِثْلَ ذَلِكَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7376، م: 2319
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7376، م: 2319
حدیث نمبر: 19173 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٍ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: " مَا حَجَبَنِي عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے جب سے اسلام قبول کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی مجھ سے حجاب نہیں فرمایا اور جب بھی مجھے دیکھا تو مسکراکرہی دیکھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19173]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3035، م: 2475
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3035، م: 2475
حدیث نمبر: 19174 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ النَّهَارِ، قَالَ: فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ، أَوْ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ، عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ، بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ، قَالَ: فَدَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَذَّنَ، وَأَقَامَ، فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1، وَقَرَأَ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْحَشْرِ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ سورة الحشر آية 18" تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ، مِنْ دِرْهَمِهِ، مِنْ ثَوْبِهِ، مِنْ صَاعِ بُرِّهِ، مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ"، حَتَّى قَالَ:" وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ" قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا، بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَعْنِي كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دن کے آغاز میں ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے کچھ لوگ آئے جو برہنہ پا، برہنہ جسم، چیتے کی کھالیں لپیٹے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے ان میں سے اکثریت کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا بلکہ سب ہی قبیلہ مضر کے لوگ تھے ان کے اس فقروفاقہ کو دیکھ کر غم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور کا رنگ اڑ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھرکے اندرچلے گئے باہر آئے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذن دے کر اقامت کہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے یہ آیت پڑھی " اے لوگو! اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا۔۔۔۔۔ پھر سورت حشر کی یہ آیت تلاوت فرمائی کہ " ہر شخص دیکھ لے کہ اس نے کل کے لئے کیا بھیجا ہے " جسے سن کر کسی نے اپنا دینار صدقہ کردیا، کسی نے درہم، کسی نے کپڑا کسی نے گندم کا ایک صاع اور کسی نے کھجور کا ایک صاع حتیٰ کہ کسی نے کھجور کا ایک ٹکڑا، پھر ایک انصاری ایک تھیلی لے کر آیا جسے اٹھانے سے اس کے ہاتھ عاجز آچکے تھے پھر مسلسل لوگ آتے رہے یہاں تک کہ میں نے کھانے اور کپڑے کے دو بلندو بالا ڈھیر لگے ہوئے دیکھے اور میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگا اور یوں محسوس ہوا جیسے وہ سونے کا ہو اور فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی عمدہ طریقہ رائج کرتا ہے اسے اس کا اجر بھی ملتا ہے اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کرتا ہے اس میں اس کا بھی گناہ ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے وانوں کا بھی اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19174]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1017
الحكم: إسناده صحيح، م: 1017
حدیث نمبر: 19175 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، عَوْنَ بْنَ أَبِي جَحْفَةَ ، مُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَوْنَ بْنَ أَبِي جَحْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَ النَّهَارِ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى، وَقَالَ: كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1017
الحكم: إسناده صحيح، م: 1017
حدیث نمبر: 19176 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَبُو جَنَابٍ ، زَاذَانَ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا بَرَزْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ إِذَا رَاكِبٌ يُوضِعُ نَحْوَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَأَنَّ هَذَا الرَّاكِبَ إِيَّاكُمْ يُرِيدُ" قَالَ: فَانْتَهَى الرَّجُلُ إِلَيْنَا، فَسَلَّمَ، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟" قَالَ: مِنْ أَهْلِي وَوَلَدِي وَعَشِيرَتِي، قَالَ:" فَأَيْنَ تُرِيدُ؟" قَالَ: أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فَقَدْ أَصَبْتَهُ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي مَا الْإِيمَانُ، قَالَ: " تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ" قَالَ: قَدْ أَقْرَرْتُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ بَعِيرَهُ دَخَلَتْ يَدُهُ فِي شَبَكَةِ جُرْذَانٍ، فَهَوَى بَعِيرُهُ وَهَوَى الرَّجُلُ، فَوَقَعَ عَلَى هَامَتِهِ، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيَّ بِالرَّجُلِ" قَالَ: فَوَثَبَ إِلَيْهِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، وَحُذَيْفَةُ فَأَقْعَدَاهُ، فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُبِضَ الرَّجُلُ، قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنْهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا رَأَيْتُمَا إِعْرَاضِي عَنِ الرَّجُلَ، فَإِنِّي رَأَيْتُ مَلَكَيْنِ يَدُسَّانِ فِي فِيهِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ مَاتَ جَائِعًا" ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا وَاللَّهِ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ سورة الأنعام آية 82، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" دُونَكُمْ أَخَاكُمْ" قَالَ: فَاحْتَمَلْنَاهُ إِلَى الْمَاءِ، فَغَسَّلْنَاهُ وَحَنَّطْنَاهُ، وَكَفَّنَّاهُ وَحَمَلْنَاهُ إِلَى الْقَبْرِ، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ، قَالَ: فَقَالَ:" أَلْحِدُوا وَلَا تَشُقُّوا، فَإِنَّ اللَّحْدَ لَنَا، وَالشَّقَّ لِغَيْرِنَا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے جب مدینہ منورہ سے نکلے تو دیکھا کہ ایک سوار ہماری طرف دوڑتا ہوا آرہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایسالگتا ہے کہ یہ سوارتمہارے پاس آرہا ہے اور وہی ہوا کہ وہ آدمی ہمارے قریب آپہنچا اس نے سلام کیا ہم نے اسے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں سے آرہے ہو؟ اس نے کہا اپنے گھربار اور اولاد اور خاندان سے نکل کر آرہاہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہاں کا ارادہ رکھتے ہو؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم ان تک پہنچ چکے ہو اس نے کہا یا رسول اللہ! مجھے یہ بتائیے کہ ایمان کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس بات کبی گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو اس نے کہا کہ میں ان سب چیزوں کا اقرار کرتا ہوں۔ تھوڑی دیربع اس کے اونٹ کا کھر کسی جنگلی چوہے کے بل میں داخل ہوگیا اس کے اونٹ نے اسے زور سے نیچے پھین کا اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس شخص کو اٹھا کر میرے پاس لاؤ تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تیزی سے اس کی طرف لپکے اور اسے بٹھایا پھر کہنے لگے یا رسول اللہ! یہ تو فوت ہوچکا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے اعراض کیا اور تھوڑی دیر بعد فرمایا جب میں نے تم دونوں سے اعراض کیا تو میں اس وقت دو فرشتوں کو دیکھ رہا تھا جو اس کے منہ میں جنت کے پھل ٹھونس رہے تھے جس سے معلوم ہوگیا کہ یہ بھوک کی حالت میں فوت ہوا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بخدا! یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا " وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہیں ملایا انہی لوگوں کو امن ملے گا اور یہی ہدایت یافتہ ہوں گے " پھر فرمایا اپنے بھائی کو سنبھالو، چناچہ ہم اسے اٹھا کر پانی کے قریب لے گئے اسے غسل دیا، حنوط لگائی، کفن دیا اور اٹھا کر قبرستان لے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے اور قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور فرمایا اس لئے بغلی قبر کھودو، صندوقی قبر نہیں، کیونکہ بغلی قبر ہمارے لئے ہے اور صندوقی قبردوسروں کے لئے ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19176]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابي جناب
الحكم: حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابي جناب
حدیث نمبر: 19177 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَبْدُ الْحَميدِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْفَرَّاءُ ، ثَابِت ، زَاذَانَ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حدَّثَنَا عَبْدُ الْحَميدِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْفَرَّاءُ ، عَنْ ثَابِت ، عَنْ زَاذَانَ ، عن جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذْ رَفَعَ لَنَا شَخْصٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَقَعَتْ يَدُ بَكْرِهِ فِي بَعْضِ تِلْكَ الَّتِي تَحْفِرُ الْجُرْذَانُ، وَقَالَ فِيهِ:" هَذَا مِمَّنْ عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا".
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف ثابت بن أبى صفية
الحكم: حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف ثابت بن أبى صفية
حدیث نمبر: 19178 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، بَيَانُ ، قَيْسٍ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا بَيَانُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: " مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے جب سے اسلام قبول کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی مجھ سے حجاب نہیں فرمایا اور جب بھی مجھے دیکھا تو مسکراکرہی دیکھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19178]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3822، م: 2475
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3822، م: 2475
حدیث نمبر: 19179 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٍ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے جب سے اسلام قبول کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی مجھ سے حجاب نہیں فرمایا اور جب بھی مجھے دیکھا تو مسکراکرہی دیکھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19179]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3035، م: 2475
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3035، م: 2475
حدیث نمبر: 19180 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، يُونُسُ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، جَرِيرٌ
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، قَالَ: وَقَالَ جَرِيرٌ : لَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي، ثُمَّ حَلَلْتُ عَيْبَتِي، ثُمَّ لَبِسْتُ حُلَّتِي، ثُمَّ دَخَلْتُ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ، فَقُلْتُ لِجَلِيسِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ، ذَكَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، ذَكَرَكَ آنِفًا بِأَحْسَنِ ذِكْرٍ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ، وَقَالَ: " يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ، أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ، مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ، إِلَّا أَنَّ عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةَ مَلَكٍ" . قَالَ جَرِيرٌ: فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَبْلَانِي. وقَالَ أَبُو قَطَنٍ: فَقُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ مِنْهُ أَوْ سَمِعْتَهُ مِنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھایا اپنے تہبند کو اتارا اور حلہ زیب تن کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت دے رہے تھے لوگ مجھے اپنی آنکھوں کے حلقوں سے دیکھنے لگے میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی سے پوچھا اے بندہ خدا! کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ذکر کیا ہے؟ اس نے جواب دیا جی ہاں! ابھی ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کا عمدہ انداز میں ذکر کیا ہے اور خطبہ دیتے ہوئے درمیان میں فرمایا ہے کہ ابھی تمہارے پاس اس دروازے یاروشندان سے یمن کا ایک بہترین آدمی آئے گا اور اس کے چہرے پر کسی فرشتے کے ہاتھ پھیرنے کا اثر ہوگا اس پر میں نے اللہ کی اس نعمت کا شکرادا کیا۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھایا اپنے تہبند کو اتارا اور حلہ زیب تن کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت دے رہے تھے لوگ مجھے اپنی آنکھوں کے حلقوں سے دیکھنے لگے میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی سے پوچھا اے بندہ خدا! کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ذکر کیا ہے؟۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19180]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، المغيرة بن شبل لا يدري هل سمع من جرير أم لم يسمع؟ لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، المغيرة بن شبل لا يدري هل سمع من جرير أم لم يسمع؟ لكنه توبع
حدیث نمبر: 19181 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، يُونُسُ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي، ثُمَّ حَلَلْتُ عَيْبَتِي، ثُمَّ لَبِسْتُ حُلَّتِي، قَالَ: فَدَخَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم يخطب، فسلمت على النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِالْحَدَقِ، فَقُلْتُ لِجَلِيسِي: هَلْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْرِي شَيْئًا؟ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، المغيرة بن شبل لا يدري هل سمع من جرير أم لم يسمع؟ لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، المغيرة بن شبل لا يدري هل سمع من جرير أم لم يسمع؟ لكنه توبع
حدیث نمبر: 19182 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ جَرِيرٍ :" أَنَّهُ حِينَ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخَذَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَيُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَيَنْصَحَ الْمُسْلِمَ، وَيُفَارِقَ الْمُشْرِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبول اسلام کے وقت انہوں نے اس شرط پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت لی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ فرض نماز پڑھو، فرض زکوٰۃ ادا کرو ہر مسلمان کی خیرخواہی کرو اور کافر سے بیزاری ظاہر کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19182]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 58، م: 56، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى وائل
الحكم: حديث صحيح، خ: 58، م: 56، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى وائل
حدیث نمبر: 19183 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصُرَّةٍ مِنْ ذَهَبٍ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ أَصَابِعِهِ، فَقَالَ: هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَعْطَى، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَعْطَى، ثُمَّ قَامَ الْمُهَاجِرُونَ فَأَعْطَوْا، قَالَ: فَأَشْرَقَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ الْإِشْرَاقَ فِي وَجْنَتَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ سَنَّ سُنَّةً صَالِحَةً فِي الْإِسْلَامِ فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ لَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ أَوْزَارِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انصاری آدمی سونے کی ایک تھیلی لے کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا جو اس کی انگلیوں کو بھرے ہوئے تھی اور کہنے لگا کہ یہ اللہ کے راستہ میں ہے پھر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کچھ پیش کیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اور مہاجرین نے پیش کیا میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگا اور یوں محسوس ہوا جیسے وہ سونے کا ہو اور فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی عمدہ طریقہ رائج کرتا ہے اسے اس کا اجر بھی ملتا ہے اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کرتا ہے اس میں اس کا بھی گناہ ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے وانوں کا بھی اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19183]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1017 على سقط فى إسناده
الحكم: حديث صحيح، م: 1017 على سقط فى إسناده
حدیث نمبر: 19184 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، الضَّحَّاكِ بن ْمُنْذِرِ ، مُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بن ْمُنْذِرِ ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يُؤْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ گمشدہ چیز کو اپنے گھر وہی لاتا ہے جو خود بھٹکا ہوا ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19184]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الضحاك بن المنذر مجهول، وأبو حيان قد اضطرب فيه. وقد صح من حديث زيد الجهني، ولفظه: «من آوي ضالة فهو ضال مالم يعرفها»
الحكم: إسناده ضعيف، الضحاك بن المنذر مجهول، وأبو حيان قد اضطرب فيه. وقد صح من حديث زيد الجهني، ولفظه: «من آوي ضالة فهو ضال مالم يعرفها»
حدیث نمبر: 19185 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسٍ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى ذِي الْخَلَصَةِ، فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ، ثُمَّ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ أَحْمَسَ يُقَالُ لَهُ: بُشَيْرٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں " ذی الخلصہ " نامی ایک بت کی طرف بھیجا انہوں نے اسے توڑ کر آگ میں جلادیا پھر " احمس " کے بشیرنامی ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں یہ خوشخبری دینے کے لئے بھیج دیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19185]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3020، م: 2476
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3020، م: 2476
حدیث نمبر: 19186 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ وَهُوَ الزُّبَيْرِيُّ ، شَرِيكٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَامِرٍ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ وَهُوَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا ہے تم لوگ اس کے لئے بخشش کی دعا کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19186]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبد الله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبد الله
حدیث نمبر: 19187 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، دَاوُدُ ، عَامِرٍ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَصْدُرْ الْمُصَدِّقُ وَهُوَ عَنْكُمْ رَاضٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زکوٰۃ لینے والاجب تمہارے یہاں سے نکلے تو اسے تم سے خوش ہو کر نکلنا چاہئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19187]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 989
الحكم: إسناده صحيح، م: 989
حدیث نمبر: 19188 مسند احمد
يَزِيدُ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٍ ، جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ" وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ، فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي سَبْعِينَ وَمِئَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ، قَالَ: فَأَتَاهَا فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ، وَبَعَثَ جَرِيرٌ بَشِيرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ. فَبَرَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں " ذی الخلصہ " نامی ایک بت کی طرف بھیجا انہوں نے اسے توڑ کر آگ میں جلادیا پھر " احمس " کے بشیرنامی ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں یہ خوشخبری دینے کے لئے بھیج دیا اور اس نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں آپ کے پاس اسے اس حال میں چھوڑ کر آیاہوں جیسے ایک خارشی اونٹ ہوتا ہے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احمس اور اس کے شہسواروں کے لئے پانچ مرتبہ برکت کی دعاء فرمائی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19188]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3823، م: 2476
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3823، م: 2476
حدیث نمبر: 19189 مسند احمد
يَزِيدُ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، جَرِيرٌ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: قَالَ لِي جَرِيرٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ لَا يَرْحَمْ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس پر بھی رحم نہیں کرتا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19189]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6013، م: 2319
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6013، م: 2319
حدیث نمبر: 19190 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيلَ ، قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ كَمَا تَرَوْنَ الْقَمَرَ لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ" ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ سورة ق آية 39 . قَالَ شُعْبَةُ لَا أَدْرِي قَالَ:" فَإِنْ اسْتَطَعْتُمْ" أَوْ لَمْ يَقُلْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ چاند کی چود ہویں رات کو ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمانے لگے عنقریب تم اپنے رب کو اس طرح دیکھوگے جیسے چاند کو دیکھتے ہو تمہیں اپنے رب کو دیکھنے میں کوئی مشقت نہیں ہوگی اس لئے اگر تم طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے والی نمازوں سے مغلوب نہ ہونے کی طاقت رکھتے ہو تو ایساہی کرو (ان نمازوں کا خوب اہتمام کرو) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ " اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کیجئے سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے کے بعد۔ " [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19190]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 554، م: 633
الحكم: إسناده صحيح، خ: 554، م: 633
حدیث نمبر: 19191 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيلَ ، قَيْسًا ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نماز قائم کرنے زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنے کی شرط پر بیعت کی تھی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19191]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1401، م: 56
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1401، م: 56