بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 19180
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 19180
حدیث نمبر: 19180 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو قَطَنٍ ، يُونُسُ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، جَرِيرٌ
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، قَالَ: وَقَالَ جَرِيرٌ : لَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي، ثُمَّ حَلَلْتُ عَيْبَتِي، ثُمَّ لَبِسْتُ حُلَّتِي، ثُمَّ دَخَلْتُ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ، فَقُلْتُ لِجَلِيسِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ، ذَكَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، ذَكَرَكَ آنِفًا بِأَحْسَنِ ذِكْرٍ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ، وَقَالَ: " يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ، أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ، مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ، إِلَّا أَنَّ عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةَ مَلَكٍ" . قَالَ جَرِيرٌ: فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَبْلَانِي. وقَالَ أَبُو قَطَنٍ: فَقُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ مِنْهُ أَوْ سَمِعْتَهُ مِنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھایا اپنے تہبند کو اتارا اور حلہ زیب تن کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت دے رہے تھے لوگ مجھے اپنی آنکھوں کے حلقوں سے دیکھنے لگے میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی سے پوچھا اے بندہ خدا! کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ذکر کیا ہے؟ اس نے جواب دیا جی ہاں! ابھی ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کا عمدہ انداز میں ذکر کیا ہے اور خطبہ دیتے ہوئے درمیان میں فرمایا ہے کہ ابھی تمہارے پاس اس دروازے یاروشندان سے یمن کا ایک بہترین آدمی آئے گا اور اس کے چہرے پر کسی فرشتے کے ہاتھ پھیرنے کا اثر ہوگا اس پر میں نے اللہ کی اس نعمت کا شکرادا کیا۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھایا اپنے تہبند کو اتارا اور حلہ زیب تن کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت دے رہے تھے لوگ مجھے اپنی آنکھوں کے حلقوں سے دیکھنے لگے میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی سے پوچھا اے بندہ خدا! کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ذکر کیا ہے؟۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19180]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، المغيرة بن شبل لا يدري هل سمع من جرير أم لم يسمع؟ لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، المغيرة بن شبل لا يدري هل سمع من جرير أم لم يسمع؟ لكنه توبع
← پچھلی حدیث (19179) باب پر واپس اگلی حدیث (19181) →