بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 19209
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 19209
حدیث نمبر: 19209 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِي حَيَّانَ ، الضَّحَّاكُ ، مُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ خَالُ الْمُنْذِرِ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي جَرِيرٍ بِالْبَوَارِيجِ فِي السَّوَادِ، فَرَاحتُ الْبَقَرَ، فَرَأَى بَقَرَةً أَنْكَرَهَا، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْبَقَرَةُ؟ قَالَ: بَقَرَةٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ، فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى تَوَارَتْ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يُؤْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
منذربن جریررحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد حضرت جریر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بوازیج " نامی جگہ میں ایک ریوڑ میں تھا وہاں آگے پیچھے گائیں آجارہی تھیں انہوں نے ایک گائے دیکھی تو وہ انہیں نامانوس معلوم ہوئی انہوں نے پوچھا یہ گائے کیسی ہے؟ چرواہے نے بتایا کہ یہ کسی کی ہے جو ہمارے جانوروں میں آکر مل گئی ہے ان کے حکم پر اسے وہاں سے نکال دیا گیا یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی پھر فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ گمشدہ چیز کو وہی آدمی ٹھکانہ دیتا ہے جو خود گمراہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19209]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الضحاك خال المنذر مجهول، وأبو حيان اضطرب فيه
الحكم: إسناده ضعيف، الضحاك خال المنذر مجهول، وأبو حيان اضطرب فيه
← پچھلی حدیث (19208) باب پر واپس اگلی حدیث (19210) →