بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث عَبدِ اللَّهِ بنِ بسر المَازِنِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 28
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 17672 مسند احمد
حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ: كُنَّا غِلْمَانًا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ نَكُنْ نُحْسِنُ نَسْأَلُهُ، فَقُلْتُ: أَشَيْخًا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" كَانَ فِي عَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حریز بن عثمان رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ہم چند بچے حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی تھے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ہمیں صحیح طرح سوال کرنا بھی نہیں آتا تھا، میں نے ان سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بوڑھے ہوگئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نچلے ہونٹ کے نیچے چند بال سفید تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17672]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17673 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ أَبَاهُ صَنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَاهُ، فَأَجَابَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے والد نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کھانے کا اہتمام کیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعاء فرمائی اے اللہ! ان کی بخشش فرما، ان پر رحم فرما اور ان کے رزق میں برکت عطا فرما۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17673]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف، هشام بن يوسف مجهول
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف، هشام بن يوسف مجهول
حدیث نمبر: 17674 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: " اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک آدمی (لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا) آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف دی اور دیر سے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17674]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17675 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، ابن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ ابن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَذَكَرُوا وَطْبَةً وَطَعَامًا وَشَرَابًا، فَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ، وَيَضَعُ النَّوَى عَلَى ظَهْرِ إصبَعيهِ، ثُمَّ يَرْمِي بِهِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكِبَ بَغْلَةً لَهُ بَيْضَاءَ، فَأَخَذْتُ بِلِجَامِهَا، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے یہاں آئے، پھر انہوں نے تر کھجوروں کھانے اور پینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھجور کھا کر اس کی گٹھلی اپنی انگلی کی پشت پر رکھتے اور اسے اچھال دیتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے اور اپنے سفید خچر پر سوار ہوگئے، میں نے اس کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطاء فرما، ان کی بخشش فرما اور ان پر رحم فرما۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17675]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 2042، ابن عبدالله بن بسر جهله الأئمة، ولم يوجد له ترجمة
الحكم: صحيح، م: 2042، ابن عبدالله بن بسر جهله الأئمة، ولم يوجد له ترجمة
حدیث نمبر: 17676 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ جَدَّتِي تَمْرًا تُعَلِّلُهُ، وَطَبَخَتْ لَهُ، وَسَقَيْنَاهُمْ فَنَفِدَ الْقَدَحُ، فَجِئْتُ بِقَدَحٍ آخَرَ، وَكُنْتُ أَنَا الْخَادِمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطِ الْقَدَحَ الَّذِي انْتَهَى إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں آئے، میری دادی نے تھوڑی سی کھجوریں پیش کیں اور وہ کھانا جو انہوں نے پکا رکھا تھا، پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پانی پلایا، ایک پیالہ ختم ہوا تو میں دوسرا پیالہ لے آیا کیونکہ خادم میں ہی تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہی پیالہ لاؤ جو ابھی لائے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17676]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن عبدالله بن بسر
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن عبدالله بن بسر
حدیث نمبر: 17677 مسند احمد
عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ ، قَالَ: كَانَتْ أُخْتِي رُبَّمَا بَعَثَتْنِي بِالشَّيْءِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُطْرِفُهُ إِيَّاهُ،" فَيَقْبَلُهُ مِنِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات میری بہن کوئی چیز دے کر مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بھیجتی تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے مجھ سے قبول فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17677]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 17678 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ الْمَازِنِيُّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ الْمَازِنِيُّ ، قَالَ: بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْعُوهُ إِلَى طَّعَامِ، فَجَاءَ مَعِي، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَنْزِلِ أَسْرَعْتُ، فَأَعْلَمْتُ أَبَوَيَّ فَخَرَجَا فَتَلَقَّيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَحَّبَا بِهِ، وَوَضَعْنَا لَهُ قَطِيفَةً كَانَتْ عِنْدَنَا زِئْبِرِيَّةً فَقَعَدَ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ أَبِي لِأُمِّي: هَاتِ طَعَامَكِ. فَجَاءَتْ بِقَصْعَةٍ فِيهَا دَقِيقٌ قَدْ عَصَدَتْهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ، فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ مِنْ حَوَالَيْهَا، وَذَرُوا ذُرْوَتَهَا، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ فِيهَا" فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا مَعَهُ، وَفَضَلَ مِنْهَا فَضْلَةٌ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ، وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ، وَوَسِّعْ عَلَيْهِمْ فِي أَرْزَاقِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے میرے والد نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھانے پر بلانے کے لئے مجھے بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے ساتھ آگئے، جب گھر کے قریب پہنچے تو میں نے جلدی سے جا کر اپنے والدین کو بتایا، وہ دونوں گھر سے باہر آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا، پھر ہم نے ایک دبیز چادر جو ہمارے پاس تھی، بچھائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر بیٹھ گئے، پھر والد صاحب نے میری والدہ سے کہا کہ کھانا لاؤ، چنانچہ وہ ایک پیالہ لے کر آئیں جس میں پانی اور نمک ملا کر آٹے سے بنی روٹی تھی، انہوں نے وہ برتن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے لا کر رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا بسم اللہ پڑھ کر کناروں سے اسے کھاؤ، درمیان کا حصہ چھوڑ دو کیونکہ برکت اس حصے پر اترتی ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تناول فرمایا: ہم نے بھی اسے کھایا لیکن وہ پھر بھی بچ گئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ان کی بخشش فرما، ان پر رحم فرما، انہیں برکت عطاء فرما اور ان کے رزق کو کشادہ فرما۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17678]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2042
الحكم: إسناده صحيح، م: 2042
حدیث نمبر: 17679 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، صَفْوَانُ ، أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ: " لَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثًا مُنْذُ زَمَانٍ إِذَا كُنْتَ فِي قَوْمٍ عِشْرِينَ رَجُلًا أَوْ أَقَلَّ أَوْ أَكْثَرَ فَتَصَفَّحْتَ فِي وُجُوهِهِمْ، فَلَمْ تَرَ فِيهِمْ رَجُلًا يُهَابُ فِي اللَّهِ، فَاعْلَمْ أَنَّ الْأَمْرَ قَدْ رَقَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک زمانہ ہوا، میں نے یہ حدیث سنی تھی کہ اگر تم کسی جماعت میں ہو جو بیس یا کم وبیش افراد پر مشتمل ہو، تم ان کے چہروں پر غور کرو لیکن تمہیں ان میں ایک بھی ایسا آدمی نظر نہ آئے جس سے اللہ کی خاطر مرعوب ہوا جائے تو سمجھ لو کہ معاملہ انتہائی کمزور ہوچکا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17679]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، لكنه ليس بحديث نبوي صلى الله عليه و آله وسلم
الحكم: إسناده حسن، لكنه ليس بحديث نبوي ﷺ
حدیث نمبر: 17680 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَسَّانُ بْنُ نُوحٍ ، عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ نُوحٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيَّانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: مَنْ خَيْرُ الرِّجَالِ يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ"، وَقَالَ الْآخَرُ: إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيْنَا، فَبَابٌ نَتَمَسَّكُ بِهِ جَامِعٌ؟ قَالَ:" لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو دیہاتی آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان میں سے ایک نے پوچھا اے محمد! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل اچھا ہو، دوسرے نے کہا کہ احکام اسلام تو بہت زیادہ ہیں، کوئی ایسی جامع بات بتا دیجئے جسے ہم مضبوطی سے تھام لیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہاری زبان ہر وقت ذکر الٰہی سے تر رہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17680]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17681 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَرِيزٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ الْمَازِنِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ الْمَازِنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَشَيْخًا كَانَ؟ قَالَ:" كَانَ فِي عَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حریز بن عثمان رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ بوڑھے ہوگئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نچلے ہونٹ کے نیچے چند بال سفید تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17681]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17682 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَرِيزٌ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ لَا نَعْقِلُ الْعِلْمَ: أَشَيْخًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" كَانَ بِعَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حریز بن عثمان رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ بوڑھے ہوگئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نچلے ہونٹ کے نیچے چند بال سفید تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17682]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17683 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ، أَوْ قَالَ لَهُ أَبِي: انْزِلْ عَلَيَّ. قَالَ: فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ وَحَيْسَةٍ وَسَوِيقٍ، فَأَكَلَهُ، وَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيُلْقِي النَّوَى وَصَفَ بِإِصبَعَيهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى بِظَهْرِهِمَا مِنْ فِيهِ، ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهُ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ، فَقَامَ فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ، فَقَالَ: ادْعُ لِي، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے یہاں آئے، انہوں نے کھانا، حلوہ اور ستو لا کر پیش کئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تناول فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھجور کھا کر اس کی گٹھلی اپنی انگلی کی پشت پر رکھتے اور اسے اچھال دیتے، پھر پانی پیش کیا، جسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نوش فرمالیا اور دائیں جانب والے کو دے دیا، انہوں نے اس کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطاء فرما، ان کی بخشش فرما اور ان پر رحم فرما۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17683]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2042
الحكم: إسناده صحيح، م: 2042
حدیث نمبر: 17684 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ ، قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي، أَوْ قَالَ أَبِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْزِلْ عَلَيَّ. قَالَ: فَنَزَلَ عَلَيْهِ، فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ أَوْ بِحَيْسٍ، قَالَ: فَأَكَلَ، ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ، قَالَ: فَشَرِبَ، قَالَ: ثُمَّ نَاوَلَ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ: وَكَانَ إِذَا أَكَلَ أَلْقَى النَّوَاةَ وَصَفَ شُعْبَةُ أَنَّهُ وَضَعَ النَّوَاةَ عَلَى السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ثُمَّ رَمَى بِهَا فَقَالَ لَهُ أَبِي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ الله لَنَا. فَقَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے یہاں آئے، انہوں نے کھانا، حلوہ اور ستو لا کر پیش کئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تناول فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھجور کھا کر اس کی گٹھلی اپنی انگلی کی پشت پر رکھتے اور اسے اچھال دیتے، پھر پانی پیش کیا، جسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نوش فرمالیا اور دائیں جانب والے کو دے دیا، انہوں نے اس کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطاء فرما، ان کی بخشش فرما اور ان پر رحم فرما۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17684]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2042
الحكم: إسناده صحيح، م: 2042
حدیث نمبر: 17685 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ جَابِرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ جَابِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، عَنِ ابْنَيْ بُسْرٍ السَّلْمَيَيْنِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَيْهِمَا، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكُمَا اللَّهُ، الرَّجُلُ مِنَّا يَرْكَبُ دَابَّتَهُ فَيَضْرِبُهَا بِالسَّوْطِ، وَيَكْفَحُهَا بِاللِّجَامِ، هَلْ سَمِعْتُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَا: لَا، مَا سَمِعْنَا مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا. فَإِذَا امْرَأَةٌ قَدْ نَادَتْ مِنْ جَوْفِ الْبَيْتِ: أَيُّهَا السَّائِلُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الأَرْضِ وَلا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ سورة الأنعام آية 38 فَقَالَا: هَذِهِ أُخْتُنَا، وَهِيَ أَكْبَرُ مِنَّا، وَقَدْ أَدْرَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن زیاد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت بسر رضی اللہ عنہ کے دو بیٹوں کے پاس گیا اور ان کے لئے رحم و کرم کی دعاء کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں سے کوئی شخص اپنے جانور پر سوار ہوتا ہے اور اسے کوڑے سے مارتا ہے اور لگام سے کھینچتا ہے، کیا اس کے متعلق آپ دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ وہ کہنے لگے کہ نہیں، ہم نے اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی ارشاد نہیں سنا، اسی وقت گھر کے اندر سے ایک خاتون کی آواز آئی کہ اے سائل! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، زمین پر چلنے والا کوئی جانور اور فضاء میں اپنے پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں ہے جو تمہاری طرح مختلف خانوادوں میں تقسیم نہ ہو، ہم نے اس کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی، وہ دونوں کہنے لگے کہ یہ ہماری بہن ہیں جو ہم سے بڑی ہیں اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17685]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17686 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ الْمَازِنِيَّ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ الْمَازِنِيَّ ، يَقُولُ: تَرَوْنَ يَدِي هَذِهِ، فَأَنَا بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم میرے ان ہاتھوں کو دیکھ رہے ہو، ان ہاتھوں سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ سے بیعت کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھا کرو، الاّ یہ کہ فرض روزہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17686]
حکم دارالسلام
هذا الحديث ضعيف لأنه أعل بالاضطراب والمعارضة
الحكم: هذا الحديث ضعيف لأنه أعل بالاضطراب والمعارضة
حدیث نمبر: 17687 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو أَحْمَدَ ، الحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَتْ أُخْتِي تَبْعَثُنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَدِيَّةِ فَيَقْبَلُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات میری بہن کوئی چیز مجھے دے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بھیجتی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے مجھ سے قبول فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17687]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 17688 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ، وَلَا يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہدیہ قبول فرما لیتے تھے، لیکن صدقہ قبول نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17688]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17689 مسند احمد
عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: أَرَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ شَامَةً فِي قَرْنِهِ، فَوَضَعْتُ أُصْبُعِي عَلَيْهَا، فَقَالَ: وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبُعَهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: " لَتَبْلُغَنَّ قَرْنًا" . قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: وَكَانَ ذَا جُمَّةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ حسن بن ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے اپنے سر پر سینگ کی جگہ (جہاں جانوروں کے سینگ ہوتے ہیں) ایک زخم دکھایا، میں نے اس پر انگلی رکھ کر دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس پر انگلی رکھی تھی اور فرمایا تھا تم ایک لمبا عرصہ زندہ رہو گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17689]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 17690 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَسَّانُ بْنُ نُوحٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ نُوحٍ حِمْصِيٌّ، قَالَ: رأيت عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ يَقُولُ: تَرَوْنَ كَفِّي هَذِهِ، فَأَشْهَدُ أَنِّي وَضَعْتُهَا عَلَى كَفِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ إِلَّا فِي فَرِيضَةٍ، وَقَالَ: " إِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ شَجَرَةٍ، فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم میرے ان ہاتھوں کو دیکھ رہے ہو، ان ہاتھوں سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھا کرو، الاّ یہ کہ فرض روزہ ہو، اس لئے اگر تم میں سے کسی کو درخت کی چھال کے علاوہ کچھ نہ ملے تو اسی سے روزہ افطار کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17690]
حکم دارالسلام
هذا الحديث ضعيف لأنه أعل بالاضطراب والمعارضة
الحكم: هذا الحديث ضعيف لأنه أعل بالاضطراب والمعارضة
حدیث نمبر: 17691 مسند احمد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، بَقِيَّةُ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَ الْمَلْحَمَةِ وَفَتْحِ الْمَدِينَةِ سِتُّ سِنِينَ، وَيَخْرُجُ مَسِيحٌ الدَّجَّالُ فِي السَّابِعَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے قریب جنگ اور شہر کے فتح ہونے میں چھ سال کا عرصہ گذرے گا اور ساتویں سال مسیح دجال کا خروج ہوجائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17691]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف بقية ولجهالة ابن أبى بلال
الحكم: إسناده ضعيف لضعف بقية ولجهالة ابن أبى بلال