يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، ابن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ ابن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَذَكَرُوا وَطْبَةً وَطَعَامًا وَشَرَابًا، فَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ، وَيَضَعُ النَّوَى عَلَى ظَهْرِ إصبَعيهِ، ثُمَّ يَرْمِي بِهِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكِبَ بَغْلَةً لَهُ بَيْضَاءَ، فَأَخَذْتُ بِلِجَامِهَا، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے یہاں آئے، پھر انہوں نے تر کھجوروں کھانے اور پینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھجور کھا کر اس کی گٹھلی اپنی انگلی کی پشت پر رکھتے اور اسے اچھال دیتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے اور اپنے سفید خچر پر سوار ہوگئے، میں نے اس کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطاء فرما، ان کی بخشش فرما اور ان پر رحم فرما۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17675]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 2042، ابن عبدالله بن بسر جهله الأئمة، ولم يوجد له ترجمة
الحكم: صحيح، م: 2042، ابن عبدالله بن بسر جهله الأئمة، ولم يوجد له ترجمة