عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَسَّانُ بْنُ نُوحٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ نُوحٍ حِمْصِيٌّ، قَالَ: رأيت عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ يَقُولُ: تَرَوْنَ كَفِّي هَذِهِ، فَأَشْهَدُ أَنِّي وَضَعْتُهَا عَلَى كَفِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ إِلَّا فِي فَرِيضَةٍ، وَقَالَ: " إِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ شَجَرَةٍ، فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم میرے ان ہاتھوں کو دیکھ رہے ہو، ان ہاتھوں سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھا کرو، الاّ یہ کہ فرض روزہ ہو، اس لئے اگر تم میں سے کسی کو درخت کی چھال کے علاوہ کچھ نہ ملے تو اسی سے روزہ افطار کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17690]
حکم دارالسلام
هذا الحديث ضعيف لأنه أعل بالاضطراب والمعارضة
الحكم: هذا الحديث ضعيف لأنه أعل بالاضطراب والمعارضة