عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ، أَوْ قَالَ لَهُ أَبِي: انْزِلْ عَلَيَّ. قَالَ: فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ وَحَيْسَةٍ وَسَوِيقٍ، فَأَكَلَهُ، وَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيُلْقِي النَّوَى وَصَفَ بِإِصبَعَيهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى بِظَهْرِهِمَا مِنْ فِيهِ، ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهُ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ، فَقَامَ فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ، فَقَالَ: ادْعُ لِي، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے یہاں آئے، انہوں نے کھانا، حلوہ اور ستو لا کر پیش کئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تناول فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھجور کھا کر اس کی گٹھلی اپنی انگلی کی پشت پر رکھتے اور اسے اچھال دیتے، پھر پانی پیش کیا، جسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نوش فرمالیا اور دائیں جانب والے کو دے دیا، انہوں نے اس کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطاء فرما، ان کی بخشش فرما اور ان پر رحم فرما۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17683]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2042
الحكم: إسناده صحيح، م: 2042