بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
Jami at-Tirmidhi
Home کتب جامع ترمذی کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
# باب احادیث دیکھیں
1
باب: تندرستی اور فرصت کی نعمتوں میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں۔
باب مَا جَاءَ فِي أَنَّ الصِّحَّةَ وَالْفَرَاغَ نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ
2304
2
باب: حرام چیزوں سے بچنے والا سب سے بڑا عابد ہے۔
باب مَنِ اتَّقَى الْمَحَارِمَ فَهُوَ أَعْبَدُ النَّاسِ
2305
3
باب: اچھے کام میں سبقت کرنے کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي الْمُبَادَرَةِ بِالْعَمَلِ
2306
4
باب: موت کی یاد۔
باب مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ الْمَوْتِ
2307
5
باب: قبر کی ہولناکی کا بیان۔
باب مِنْهُ
2308
6
باب: جس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کیا اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے ملاقات کو پسند کیا۔
باب مَا جَاءَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ
2309
7
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا اپنی قوم کو ڈرانا۔
باب مَا جَاءَ فِي إِنْذَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمَهُ
2310
8
باب: اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْبُكَاءِ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ
2311
9
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ جو مجھے معلوم ہے وہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے تو بہت کم ہنسو گے اور بہت زیادہ روؤ گے​۔
باب فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً
2312 – 2313
10
باب: غیر شرعی طور پر ہنسنے ہنسانے کی بات کرنے والے پر وارد وعید کا بیان۔
باب فِيمَنْ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ يُضْحِكُ بِهَا النَّاسَ
2314 – 2315
11
باب: لایعنی بات کے برے انجام کا بیان۔
باب مِنْهُ
2316 – 2318
12
باب: کم بولنے کی خوبی کا بیان۔
باب فِي قِلَّةِ الْكَلاَمِ
2319
13
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حقارت کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي هَوَانِ الدُّنْيَا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
2320 – 2321
14
باب: دنیا کے ملعون اور حقیر ہونے کا بیان۔
باب مِنْهُ
2322
15
باب: آخرت کے مقابلے میں دنیا سمندر کے ایک قطرے کی مانند ہے۔
باب مِنْهُ
2323
16
باب: دنیا مومن کے لیے قید خانہ (جیل) اور کافر کے لیے جنت (باغ و بہار) ہے۔
باب مَا جَاءَ أَنَّ الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ
2324
17
باب: دنیا کی مثال چار قسم کے لوگوں کی مانند ہے۔
باب مَا جَاءَ مَثَلُ الدُّنْيَا مَثَلُ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ
2325
18
باب: دنیا سے محبت اور اس کے غم و فکر میں رہنے کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي الْهَمِّ فِي الدُّنْيَا وَحُبِّهَا
2326
19
باب: دنیا میں آدمی کے لیے صرف خادم اور جہاد کے لیے سواری کافی ہے۔
باب مِنْهُ
2327
20
باب: زمین جائیداد نہ بناؤ کہ اس سے تمہیں دنیا کی رغبت ہو جائے گی۔
باب مِنْهُ
2328
21
باب: مومن کے حق میں لمبی عمر کے بہتر ہونے کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي طُولِ الْعُمُرِ لِلْمُؤْمِنِ
2329
22
باب: لمبی عمر والا اچھے اعمال کے ساتھ سب سے اچھا آدمی ہے اور برے کام کے ساتھ سب سے برا​۔
باب مِنْهُ
2330
23
باب: امت محمدیہ کی اوسط عمر ساٹھ سے ستر برس کے درمیان ہے۔
باب مَا جَاءَ فِي فَنَاءِ أَعْمَارِ هَذِهِ الأُمَّةِ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى السَّبْعِينَ
2331
24
باب: قرب قیامت زمانہ سمٹ جائے گا اور آرزوئیں کم ہو جائیں گی۔
باب مَا جَاءَ فِي تَقَارُبِ الزَّمَانِ وَقِصَرِ الأَمَلِ
2332
25
باب: آرزوئیں کم رکھنے کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي قِصَرِ الأَمَلِ
2333
26
باب: امت محمدیہ کا فتنہ مال ہے۔
باب مَا جَاءَ أَنَّ فِتْنَةَ هَذِهِ الأُمَّةِ فِي الْمَالِ
2333 – 2336
27
باب: آدمی کے پاس دو وادی بھر مال ہو تو وہ تیسری وادی کا خواہشمند ہو گا۔
باب مَا جَاءَ لَوْ كَانَ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لاَبْتَغَى ثَالِثًا
2337
28
باب: دو چیزوں کی محبت میں بوڑھے کا دل جوان ہوتا ہے: عمر اور مال۔
باب مَا جَاءَ فِي قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ
2338 – 2339
29
باب: دنیا سے بے رغبتی کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي الزَّهَادَةِ فِي الدُّنْيَا
2340
30
باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
باب مِنْهُ
2341
31
باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
باب مِنْهُ
2342
32
باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
باب مِنْهُ
2343
33
باب: اللہ پر توکل (بھروسہ) کرنے کا بیان۔
باب فِي التَّوَكُّلِ عَلَى اللَّهِ
2344 – 2345
34
باب: زہد و قناعت سے متعلق ایک اور باب۔
باب مِنْهُ
2346
35
باب: بقدر کفاف (روزمرہ کے خرچ) پر صبر کی ترغیب۔
باب مَا جَاءَ فِي الْكَفَافِ وَالصَّبْرِ عَلَيْهِ
2347 – 2349
36
باب: فقر کی فضیلت کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفَقْرِ
2350
37
باب: مہاجر فقراء جنت میں مالدار مہاجر سے پہلے جائیں گے۔
باب مَا جَاءَ أَنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ
2351 – 2355
38
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی معاشی زندگی کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي مَعِيشَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلِهِ
2356 – 2364
39
باب: صحابہ کرام رضی الله عنہم کی معاشی زندگی کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي مَعِيشَةِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
2365 – 2372
40
باب: دل کی بے نیازی اور استغناء اصل دولت ہے
باب مَا جَاءَ أَنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ
2373
41
باب: حلال اور جائز طریقہ سے مال و دولت حاصل کرنے کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي أَخْذِ الْمَالِ
2374
42
باب: درہم و دینار کے پجاری ملعون ہیں۔
باب مِنْهُ
2375
43
باب: دولت کی ہوس اور جاہ طلبی دین کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔
باب مِنْهُ
2376
44
باب: دنیا سے بے رغبتی کا بیان۔
باب مِنْهُ
2377
45
باب: ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔
باب مِنْهُ
2378
46
باب: مال و دولت، اہل و عیال، رشتہ دار اور عمل کی مثال کا بیان۔
باب مَا جَاءَ مَثَلُ ابْنِ آدَمَ وَأَهْلِهِ وَوَلَدِهِ وَمَالِهِ وَعَمَلِهِ
2379
47
باب: زیادہ کھانے پینے کی کراہت کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ كَثْرَةِ الأَكْلِ
2380
48
باب: ریا و نمود اور شہرت کا بیان
باب مَا جَاءَ فِي الرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ
2381 – 2383
49
باب: چھپا کر نیک عمل کرنے کا بیان۔
باب عَمَلِ السِّرِّ
2384
50
باب: انجام کار آدمی اپنے دوست کے ساتھ ہو گا۔
باب مَا جَاءَ أَنَّ الْمَرْءَ مَعَ مَنْ أَحَبَّ
2385 – 2387
51
باب: اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الظَّنِّ بِاللَّهِ
2388
52
باب: نیکی اور بدی کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي الْبِرِّ وَالإِثْمِ
2389
53
باب: اللہ کی خاطر محبت کرنے کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي الْحُبِّ فِي اللَّهِ
2390 – 2391
54
باب: محبت سے باخبر کرنے کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي إِعْلاَمِ الْحُبِّ
2392
55
باب: مداحوں کو ناپسند کرنے اور بے جا تعریف و مدح کی کراہت کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْمِدْحَةِ وَالْمَدَّاحِينَ
2393 – 2394
56
باب: مومن کی صحبت اختیار کرنے کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي صُحْبَةِ الْمُؤْمِنِ
2395
57
باب: مصیبت میں صبر کرنے کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْبَلاَءِ
2396 – 2399
58
باب: نابینا کی فضیلت کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي ذَهَابِ الْبَصَرِ
2400 – 2405
59
باب: زبان کی حفاظت کا بیان۔
باب مَا جَاءَ فِي حِفْظِ اللِّسَانِ
2406 – 2410
60
باب: زبان کی حفاظت سے متعلق ایک اور باب
باب مِنْهُ
2411
61
باب: امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی آدمی کے لیے مفید ہے۔
باب مِنْهُ
2412 – 2413
62
باب: دنیا کو ناراض کر کے اللہ کی رضا مندی حاصل کرنے کا بیان۔
باب مِنْهُ
2414