بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری باب: اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2388 جامع ترمذی
أَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جیسا وہ گمان مجھ سے رکھے، اور میں اس کے ساتھ ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الدعاء والذکر 6 (2675) (تحفة الأشراف: 14821) (وراجع أیضا: صحیح البخاری/التوحید 15 (7405)، و 35 (5537)، وصحیح مسلم/التوبة 1 (2675)، وماعند المؤلف في الدعوات برقم 3603)، وسنن ابن ماجہ/الأدب 58 (3822)، و مسند احمد (2/251)، 391، 413، 445، 480، 482، 516) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کی ترغیب ہے، لیکن عمل کے بغیر کسی بھی چیز کی امید نہیں کی جا سکتی ہے، گویا اللہ کا معاملہ بندوں کے ساتھ ان کے عمل کے مطابق ہو گا، بندے کا عمل اگر اچھا ہے تو اس کے ساتھ اچھا معاملہ اور برے عمل کی صورت میں اس کے ساتھ برا معاملہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح