بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری باب: ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2378 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو عَامِرٍ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ , قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الأدب 19 (4833) (تحفة الأشراف: 14625)، و مسند احمد (2/303، 334) (حسن)»
وضاحت
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ اچھے انسان کی صحبت سے اچھائی اور برے انسان کی صحبت سے برائی حاصل ہوتی ہے، اس لیے کسی سے دوستی کرتے وقت یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ دوست دیندار ہو ورنہ بری صحبت تباہی کا باعث ہو گی۔
قال الشيخ الألباني
حسن، الصحيحة (927) ، المشكاة (5019)
الحكم: حسن، الصحيحة (927) ، المشكاة (5019)