بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: تندرستی اور فرصت کی نعمتوں میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری باب: تندرستی اور فرصت کی نعمتوں میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2304 جامع ترمذی
صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَسُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ صَالِحٌ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ سُوَيْدٌ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2304]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الرقاق 1 (6412)، سنن ابن ماجہ/الزہد 15 (4170) (تحفة الأشراف: 5666)، و مسند احمد (1/258، 344)، وسنن الدارمی/الرقاق 2 (2749) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی ان کی قدر نہیں کرتے ہیں ایک تندرستی اور دوسری فراغت ہیں بلکہ یوں ہی انہیں ضائع کر دیتے ہیں جب کہ تندرستی کو بیماری سے پہلے اور فرصت کو مشغولیت سے پہلے غنیمت سمجھنا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح