بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: زبان کی حفاظت کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری باب: زبان کی حفاظت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 2406 جامع ترمذی
صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا النَّجَاةُ؟ قَالَ: " أَمْسِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نجات کی کیا صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اپنے گھر کی وسعت میں مقید رہو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9928)، وانظر مسند احمد (4/148)، و (5/259) (صحیح) (یہ سند مشہور ضعیف اسانید میں سے ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، دیکھیے الصحیحة رقم: 890)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں زبان کی حفاظت کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے، کیونکہ اسے کنٹرول میں نہ رکھنے کی صورت میں اس سے بکثرت گناہ صادر ہوتے ہیں، اس لیے لایعنی اور غیر ضروری باتوں سے پرہیز کرنا چاہیئے اور کوشش یہ ہو کہ ہمیشہ زبان سے خیر ہی نکلے، ایسے لوگوں اور مجالس سے دور رہنا چاہیئے جن سے شر کا خطرہ ہو، بحیثیت انسان غلطیاں ضرور ہوں گی ان کی تلافی کے لیے رب العالمین کے سامنے عاجزی کا اظہار کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الصحيحة (888)
قال الشيخ زبير على زئي
(2406) إسناده ضعيف
على بن يزيد و عبيدالله بن زحر: ضعيفان (تقدما: 1282) وللحديث شواهد ضعيفة
الحكم: صحيح، الصحيحة (888)
حدیث نمبر: 2407 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي الصَّهْبَاءِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَفَعَهُ , قَالَ: " إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ , فَإِنَّ الْأَعْضَاءَ كُلَّهَا تُكَفِّرُ اللِّسَانَ، فَتَقُولُ: اتَّقِ اللَّهَ فِينَا فَإِنَّمَا نَحْنُ بِكَ فَإِنِ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَإِنِ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انسان جب صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضاء زبان کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں: تو ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر اس لیے کہ ہم تیرے ساتھ ہیں اگر تو سیدھی رہی تو ہم سب سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم سب بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4037) (حسن)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں زبان کو سارے اعضاء کے سدھار کا مرکز بتایا گیا ہے، حالانکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سب کا مرکز دل ہے، توفیق کی صورت یہ ہے کہ زبان کو جسم کے ترجمان کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے مجازا اسے سارے اعضاء کا مرکز کہا گیا، ورنہ مرکز دل ہے نہ کہ زبان۔
قال الشيخ الألباني
حسن، المشكاة (4838 / التحقيق الثانى)
الحكم: حسن، المشكاة (4838 / التحقيق الثانى)
حدیث نمبر: 2408 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَتَكَفَّلُ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ، وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ، أَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ " , وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَهْلٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو مجھ سے اپنی دونوں ڈاڑھوں اور دونوں ٹانگوں کے بیچ کا ضامن ہو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث سہل بن سعد کی روایت سے حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الرقاق 23 (6474)، والحدود 19 (6807) (تحفة الأشراف: 4736) (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: چونکہ زبان اور شرمگاہ گناہوں کے صدور کا اصل مرکز ہیں، اسی لیے ان کی حفاظت کی زیادہ ضرورت ہے، اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کی حفاظت کی ضمانت دینے والوں کے لیے جنت کی ضمانت دی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، التعليق الرغيب (3 / 197) ، الضعيفة (2302)
الحكم: صحيح، التعليق الرغيب (3 / 197) ، الضعيفة (2302)
حدیث نمبر: 2409 جامع ترمذی
أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَشَرَّ مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: أَبُو حَازِمٍ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ اسْمُهُ: سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الْأَشْجَعِيَّةِ وَهُوَ كُوفِيٌّ، وَأَبُو حَازِمٍ الَّذِي رَوَى عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ هُوَ أَبُو حَازِمٍ الزَّاهِدُ مَدَنِيٌّ وَاسْمُهُ: سَلَمَةُ بْنُ دِينَارٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جسے اللہ نے اس کی ٹانگوں اور ڈاڑھوں کے درمیان کی چیز کے شر و فساد سے بچا لیا وہ جنت میں داخل ہو گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرنے والے راوی ابوحازم کا نام سلمان ہے، یہ عزہ اشجعیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور کوفی ہیں اور سہل بن سعد سے روایت کرنے والے راوی ابوحازم کا نام سلمہ بن دینار ہے جو زاہد مدنی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 13429) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح، الصحيحة (510)
الحكم: حسن صحيح، الصحيحة (510)
حدیث نمبر: 2410 جامع ترمذی
سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ ، سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ، قَالَ: " قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھ سے ایسی بات بیان فرمائیں جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں، آپ نے فرمایا: کہو: میرا رب (معبود حقیقی) اللہ ہے پھر اسی عہد پر قائم رہو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو مجھ سے کس چیز کا زیادہ خوف ہے؟ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اسی کا زیادہ خوف ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہ حدیث سفیان بن عبداللہ ثقفی سے کئی سندوں سے مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الإیمان 14 (38)، سنن ابن ماجہ/الفتن 12 (3972) (تحفة الأشراف: 4478)، و مسند احمد (3/413) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (3972)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (3972)