بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 87
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 87
آیت نمبر: 87 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
قَالُوۡا مَاۤ اَخۡلَفۡنَا مَوۡعِدَکَ بِمَلۡکِنَا وَ لٰکِنَّا حُمِّلۡنَاۤ اَوۡزَارًا مِّنۡ زِیۡنَۃِ الۡقَوۡمِ فَقَذَفۡنٰہَا فَکَذٰلِکَ اَلۡقَی السَّامِرِیُّ ﴿ۙ۸۷﴾
انہوں نے جواب دیا "ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی، معاملہ یہ ہُوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لَد گئے تھے اور ہم نے بس اُن کو پھینک دیا تھا" پھر اس طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا
انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے اپنےاختیار سے آپ کے ساتھ وعدے کا خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم پر زیورات قوم کے جو بوجھ ﻻد دیے گئے تھے انہیں ہم نے ڈال دیا، اور اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیئے
بولے ہم نے آپ کا وعدہ اپنے اختیار سے خلاف نہ کیا لیکن ہم سے کچھ بوجھ اٹھوائے گئے اس قوم کے گہنے کے تو ہم نے انہیں ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈالا
قوم نے کہا کہ ہم نے اپنے اختیار سے تو آپ سے وعدہ خلافی نہیں کی (البتہ بات یوں ہوئی) کہ ہمیں اس جماعت کے زیورات جمع کرکے لانے پر آمادہ کیا گیا اور یہ سامری ایک (سنہرا) بچھڑا نکال کر لایا۔ جس سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی۔
انھوں نے کہا ہم نے اپنے اختیار سے تیرے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی اور لیکن ہم پر لوگوں کے زیوروں کے کچھ بوجھ لاد دیے گئے تھے تو ہم نے انھیں پھینک دیا، پھر اس طرح سامری نے (بنا) ڈالا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭

موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے۔ پورے چالیس ہو گئے، دن رات روزے سے رہتے تھے۔ اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے۔ بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں، آ رہے ہیں، میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضا مندی حاصل کر لوں اور اس میں بڑھ جاؤں۔

موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ٭٭

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی ہے۔ اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے۔ اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لیے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھیں، جیسے فرمان ہے «وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ» ‏‏‏‏ [7-الأعراف:145] ‏‏‏‏۔ ’ یعنی ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا۔ ‘ موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم و غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ غم و اندوہ، رنج و غصہ آپ کو بہت آیا۔

واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے، تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک و انعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا۔ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا۔ اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لیے ہوئے تھے، ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیزگاری کے پھینک دئیے۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایکجا ہو جائیں اور پگھل کر ایک ڈلا بن جائے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام آ جائیں جیسا وہ فرمائیں ویسا کیا جائے۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور ہارون علیہ السلام سے کہا، آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے، آپ کو کیا خبر تھی، آپ نے دعا کی۔ اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا۔ پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔

ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے، تو وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے۔ آپ نے دعا کی اے اللہ! خود اسے ایسا ہی کر دے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا۔ بنی اسرائیل بہکاوے میں آ گئے اور اس کی پرستش شروع کر دی۔ اس کی آواز پر یہ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے۔ موسیٰ بھول کر کہیں اور اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں، وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارا رب یہی ہے۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ کو اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بے جان چیز ہے۔ ان کی کسی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے، نہ دنیا و آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں۔ آواز جو نکلتی تھی، اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچھے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی، اسی کی آواز آتی تھی۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لیے بڑا گناہ کر لیا۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لیے شرک شروع کر دیا۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، ان عراقیوں کو دیکھو، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کر دیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟ ۱؎ [صحیح بخاری:5994] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

87۔ 1 یعنی ہم نے اپنے اختیار سے یہ کام نہیں کیا بلکہ غلطی ہم سے اضطراری طور پر ہوگئی، آگے اس کی وجہ بیان کی

📖 القرآن الکریم

(آیت 87) ➊ { قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا:} انھوں نے وعدہ خلافی کا نہایت ہی بودا عذر پیش کیا کہ اس وعدہ خلافی میں ہمارا کوئی اختیار ہی نہ تھا۔ سامری نے ہمیں پھسلایا ہی اس طرح کہ ہم میں نیک و بد کی پہچان ہی نہ رہ گئی۔ کوئی پوچھے کہ سامری نے تم پر کوئی فوج کشی کی تھی یا تلوار تان رکھی تھی کہ تمھارا اختیار ختم ہو گیا تھا؟ قیامت کے دن ہر مجرم اپنے آپ کو بے قصور اور بے اختیار ٹھہرائے گا اور اپنے تمام جرائم کا ذمہ دار شیطان کو ٹھہرائے گا مگر وہ صاف کہہ دے گا کہ میں نے تم پر کوئی فوج کشی نہیں کی تھی، صرف دعوت دی تھی، تم نہ مانتے تو میں تمھارا کیا بگاڑ سکتا تھا۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۲۲)۔ ➋ { وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا …:} اس آیت کی تفسیر اکثر مفسرین نے یہ کی ہے کہ بنی اسرائیل نے مصر سے نکلنے سے پہلے فرعون کی قوم کے لوگوں سے ان کے زیورات ادھار مانگ لیے تھے، بعض نے تو یہ بھی لکھا ہے کہ یہ کام انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کے کہنے پر کیا تھا۔ اب وہ ان کے لیے بوجھ بن گئے تھے، کیونکہ وہ مال غنیمت کے حکم میں تھے اور پہلی امتوں کے لیے غنیمت حلال نہ تھی۔ چنانچہ ہارون علیہ السلام یا سامری کے کہنے پر کہ ان زیورات کو اپنے پاس رکھنا گناہ ہے، سب زیور ایک گڑھے میں پھینک کر انھیں آگ لگا دی گئی اور سامری نے اس سے فائدہ اٹھا کر اس سونے یا چاندی سے بچھڑا بنا دیا۔ بعض نے یہ لکھا ہے کہ فرعون کی قوم جب غرق ہوئی اور ان کی لاشیں کنارے پر آئیں تو بنی اسرائیل نے ان کے زیور اتار لیے، اس زمانے میں عورتوں کی طرح مرد بھی سونے چاندی کے کنگن اور زیور وغیرہ پہنتے تھے۔ {” زِيْنَةِ الْقَوْمِ “} سے قوم فرعون کے زیور مراد ہیں۔ بہت سے لوگوں کو یہ اصرار ہے کہ یہ سلف کی تفسیر ہے اور اس سے انحراف سلف سے انحراف ہے۔ مگر قرآن و حدیث سے یا کسی صحابی سے صحیح سند کے ساتھ اس کی طرف معمولی اشارہ بھی نہیں ملتا کہ ہجرت کے وقت پوری قوم کو، حتیٰ کہ موسیٰ علیہ السلام کو دھوکے سے قوم فرعون کے زیورات حاصل کرنے کی فکر پڑی ہوئی تھی، نہ آیات ہی میں کوئی اشارہ ہے کہ {” زِيْنَةِ الْقَوْمِ “} میں {” الْقَوْمِ “} سے مراد قوم فرعون ہے۔ دراصل یہ بات تورات اور پہلے صحیفوں سے لی گئی ہے، جن میں یہود نے اتنی تحریف کر دی ہے کہ انبیاء پر تہمتیں لگانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ داؤد اور لوط علیھما السلام پر ان کی تہمتیں معروف ہیں۔ اس واقعہ میں بھی انھوں نے ہارون علیہ السلام پر تہمت لگائی ہے کہ بچھڑا بنا کر لوگوں کو اس کی عبادت پر لگانے والے وہ تھے۔ [ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ھَفَوَاتِھِمْ ] اس کے برعکس قرآن مجید میں دوسرے مقام پر تصریح ہے کہ وہ تمام زیور بنی اسرائیل کے اپنے تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: «{ وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ[الأعراف: ۱۴۸ ] ”اور موسیٰ کی قوم نے اس کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا جو ایک جسم تھا، جس کی گائے جیسی آواز تھی۔“ {” مِنْ حُلِيِّهِمْ “ } (اپنے زیوروں سے) کی تصریح کے باوجود انھیں قومِ فرعون کے زیور قرار دینا عجیب بات ہے۔ اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس زمانے میں نوٹ وغیرہ تو تھے نہیں، نقدی سونے یا چاندی ہی کی صورت میں ہوتی تھی، جسے زیورات کی صورت میں لوگ پہن لیتے یا گھروں میں محفوظ رکھتے، ان کا کافی بوجھ بن جاتاتھا، خصوصاً جب ان کے ساتھ تانبے وغیرہ کی آمیزش اور پہننے کے لیے چمڑے، دھاگے یا لوہے کی زنجیریں وغیرہ بھی ساتھ ہوتیں۔ اس لیے اس سفر میں ذمہ داریاں تقسیم کرتے وقت ہر ایک کے اپنے اپنے بوجھ اٹھانے کے بجائے کچھ لوگوں کے ذمے اسے اٹھانے کی ذمہ داری لگائی گئی۔ ظاہر ہے کہ اتنی اہم ذمہ داری قوم کے سربر آور دہ لوگوں ہی کی ہو سکتی تھی۔ موسیٰ علیہ السلام بھی انھی لوگوں سے مخاطب تھے، کیونکہ وہ ایک وقت میں ساری قوم کے ہزاروں، یا بقول بعض لاکھوں لوگوں سے تو بات نہیں کر سکتے تھے۔ انھوں نے یہ وجہ بتائی کہ ہم پر لوگوں کے زیوروں کا بوجھ تھا، ہم نے اسے جس قدر ہو سکا ہلکا کرنے کے لیے آگ میں پھینکا کہ زائد چیزیں جل جائیں اور خالص سونے اور چاندی کی اینٹیں بنا لی جائیں اور منزل پر پہنچ کر ہر ایک کو اس کے نام لکھے ہوئے کے مطابق اس کے حصے میں آنے والا خالص چاندی یا سونا دے دیا جائے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر سامری نے اس سے بچھڑے کا مجسمہ بنا دیا۔ ➌ اللہ تعالیٰ نے سونے اور چاندی میں یہ وصف رکھا ہے کہ یہ بطور قیمت شروع سے مقرر چلے آ رہے ہیں۔ دینار و درہم بھی ان کے بنتے تھے اور یہی فطری طریقہ تھا جس سے ہر شخص کا مال خود اس کے پاس ہوتا تھا۔ چالاک یہودیوں نے بینک بنا کر لوگوں کا سونا چاندی اپنے پاس جمع کر لیا اور انھیں رسیدیں جاری کر دیں کہ جب چاہو یہ دکھا کر اپنا سونا چاندی لے لو۔ لوگوں نے صرف اتنی سہولت کی خاطر کہ بوجھ نہ اٹھانا پڑے، ان رسیدوں سے لین دین شروع کر دیا، جس نے آگے نوٹوں کی صورت اختیار کر لی۔ اب صرف بوجھ سے بچنے کی خاطر سارا کاروبار یا تو نوٹ پر چلتا ہے یا بینک کے چیکوں پر۔ لوگوں کے پاس کاغذ کے ایک ٹکڑے کے سوا کچھ بھی نہیں اور اس کاغذ کی حیثیت یہ ہے کہ حکومتیں جب چاہتی ہیں اس کی قیمت کبھی آدھی کم کر دیتی ہیں، کبھی چوتھا حصہ۔ جو شخص ایک کروڑ روپے کے سونے کا مالک تھا، صرف ایک اعلان کے بعد پچاس لاکھ کے وعدے والے کاغذ کے سوا اس کے پاس کچھ نہیں رہتا اور اگر نئے نوٹ جاری ہو جائیں اور یہ بر وقت نہ بدلوا سکے تو بالکل ہی خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔ بینک دیوالیہ ہو جائے تو اس کا چیک کسی کام کا نہیں رہتا اور ساری رقم ہی برباد ہو جاتی ہے۔ ضروری بوجھ سے جان چھڑانے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے۔اگر اللہ نے چاہا تو اس کے مخلص بندے یہود کے شکنجے کو توڑ کر سود اور بینکوں کو ختم کرکے سونے یا چاندی کے سکے جاری کریں گے، تاکہ کوئی کسی کا حق نہ مار سکے۔ یہاں مقصود صرف یہ بتانا ہے کہ بوجھ سے جان چھڑانے میں بنی اسرائیل کو کتنا نقصان ہوا اور اب مسلم اور غیر مسلم صرف بوجھ اٹھائے پھرنے سے بچنے کی خاطر کتنے بڑے خسارے میں پڑے ہوئے ہیں کہ ان کے ہاتھ میں درحقیقت کچھ بھی نہیں، سب یہودی سود خوروں یا ان کے گماشتوں کے پاس ہے۔ ہر مسلمان کو کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی مالیت سونے چاندی کی صورت میں محفوظ رکھے، صرف اتنا بیچ لے جتنے استعمال کی ضرورت ہے۔ سونے کی قیمت ہمیشہ ایک رہی ہے اور رہے گی۔ دیکھیے صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دینار میں بکری خریدنا منقول ہے، ہجرت کو چودہ سو تیس سال گزرنے کے باوجود آج بھی بکری کی قیمت یہی ہے۔
← پچھلی آیت (86) پوری سورۃ اگلی آیت (88) →