بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 86
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 86
آیت نمبر: 86 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
فَرَجَعَ مُوۡسٰۤی اِلٰی قَوۡمِہٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا ۬ۚ قَالَ یٰقَوۡمِ اَلَمۡ یَعِدۡکُمۡ رَبُّکُمۡ وَعۡدًا حَسَنًا ۬ؕ اَفَطَالَ عَلَیۡکُمُ الۡعَہۡدُ اَمۡ اَرَدۡتُّمۡ اَنۡ یَّحِلَّ عَلَیۡکُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ فَاَخۡلَفۡتُمۡ مَّوۡعِدِیۡ ﴿۸۶﴾
موسیٰؑ سخت غصّے اور رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹا جا کر اُس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، کیا تمہارے رب نے تم سے اچھے وعدے نہیں کیے تھے؟ کیا تمہیں دن لگ گئے ہیں؟ یا تم اپنے رب کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟"
پس موسیٰ (علیہ السلام) سخت غضبناک ہو کر رنج کے ساتھ واپس لوٹے، اور کہنے لگے کہ اے میری قوم والو! کیا تم سے تمہارے پروردگار نے نیک وعده نہیں کیا تھا؟ کیا اس کی مدت تمہیں لمبی معلوم ہوئی؟ بلکہ تمہارا اراده ہی یہ ہے کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب نازل ہو؟ کہ تم نے میرے وعدے کا خلاف کیا
تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا غصہ میں بھرا افسوس کرتا کہا اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہ تھا کیا تم پر مدت لمبی گزری یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب اترے تو تم نے میرا وعدہ خلاف کیا
پس موسیٰ غصہ میں افسوس کرتے ہوئے اپنی قوم کی طرف لوٹے (اور) کہا اے میری قوم! کیا تمہارے پروردگار نے تم سے بڑا اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ تو کیا تم پر (وعدہ سے) زیادہ مدت گزر گئی؟ یا تم نے چاہا کہ تمہارے رب کا غضب تم پر نازل ہو؟ اس لئے تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟
تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا غصے سے بھرا ہوا، افسوس کرتا ہوا، کہا اے میری قوم! کیا تمھارے رب نے تمھیں اچھا وعدہ نہ دیا تھا؟ پھر کیا وہ مدت تم پر لمبی ہوگئی، یا تم نے چاہا کہ تم پر تمھارے رب کی طرف سے کوئی غضب اترے؟ تو تم نے میرے وعدے کی خلاف ورزی کی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭

موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے۔ پورے چالیس ہو گئے، دن رات روزے سے رہتے تھے۔ اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے۔ بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں، آ رہے ہیں، میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضا مندی حاصل کر لوں اور اس میں بڑھ جاؤں۔

موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ٭٭

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی ہے۔ اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے۔ اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لیے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھیں، جیسے فرمان ہے «وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ» ‏‏‏‏ [7-الأعراف:145] ‏‏‏‏۔ ’ یعنی ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا۔ ‘ موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم و غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ غم و اندوہ، رنج و غصہ آپ کو بہت آیا۔

واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے، تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک و انعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا۔ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا۔ اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لیے ہوئے تھے، ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیزگاری کے پھینک دئیے۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایکجا ہو جائیں اور پگھل کر ایک ڈلا بن جائے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام آ جائیں جیسا وہ فرمائیں ویسا کیا جائے۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور ہارون علیہ السلام سے کہا، آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے، آپ کو کیا خبر تھی، آپ نے دعا کی۔ اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا۔ پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔

ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے، تو وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے۔ آپ نے دعا کی اے اللہ! خود اسے ایسا ہی کر دے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا۔ بنی اسرائیل بہکاوے میں آ گئے اور اس کی پرستش شروع کر دی۔ اس کی آواز پر یہ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے۔ موسیٰ بھول کر کہیں اور اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں، وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارا رب یہی ہے۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ کو اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بے جان چیز ہے۔ ان کی کسی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے، نہ دنیا و آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں۔ آواز جو نکلتی تھی، اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچھے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی، اسی کی آواز آتی تھی۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لیے بڑا گناہ کر لیا۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لیے شرک شروع کر دیا۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، ان عراقیوں کو دیکھو، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کر دیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟ ۱؎ [صحیح بخاری:5994] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

86۔ 1 اس سے مراد جنت کا یا فتح و ظفر کا وعدہ ہے اگر وہ دین پر قائم رہے یا تورات عطا کرنے کا وعدہ ہے، جس کے لئے طور پر انھیں بلایا گیا تھا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 86) ➊ { فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ …: ” غَضْبَانَ “} مبالغے کے وزن پر ہے، اس لیے ”غصے سے بھرا ہوا“ ترجمہ کیا ہے۔ {” اَسِفًا”أَسِفَ يَأْسَفُ“} (ع) سے صفت کا صیغہ ہے، اس کا معنی سخت غم و افسوس کرنے والا بھی ہے اور غصے والا بھی۔ (قاموس) یہاں {” غَضْبَانَ “ } کے بعد افسوس زیادہ مناسب ہے۔ حرفِ ”فاء“ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے مکالمہ اور کتاب دینے کے آخر میں انھیں قوم کے گمراہ ہونے کی اطلاع دی۔ {” فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ “} تو یہ خبر سنتے ہی موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی طرف واپس روانہ ہو گئے۔ ➋ {قَالَ يٰقَوْمِ اَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا:} اس وعدے سے مراد توبہ، ایمان اور عمل صالح کے بعد اس پر استقامت اختیار کرنے والے کے لیے مغفرت کا وعدہ، طور کی جانبِ ایمن پر موسیٰ علیہ السلام سے کلام اور بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے تورات عطا کرنے کا وعدہ اور من و سلویٰ نازل کرنے کا وعدہ ہے۔ (طبری) ➌ { اَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ …: ” الْعَهْدُ “} کا معنی ہے وصیت، کسی آدمی سے کوئی بات طے کر لینا، پختہ وعدہ، قسم، حرمت کا خیال رکھنا، امان، ذمہ، ملاقات، پہچان، زمانہ، وفا، اللہ تعالیٰ کی توحید وغیرہ۔ (قاموس) یہاں ملاقات بھی معنی ہو سکتا ہے اور مدت بھی کہ کیا تمھیں میری ملاقات کو بہت لمبی مدت ہو چکی تھی کہ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی کی؟ تیس دنوں سے دس دن ہی تو زیادہ گزرے تھے، یہ کون سی لمبی مدت تھی کہ تم نے مجھ سے کیے ہوئے سب وعدے توڑ ڈالے۔ وعدہ خلافی سے مراد ان کا طور کے دامن تک جانے کے لیے موسیٰ علیہ السلام کے پیچھے چلتے رہنے کے بجائے راستے میں ٹھہر جانا، بچھڑے کی پرستش اور مجاوری پر اڑ جانا اور ہارون علیہ السلام کے انھیں چلتے رہنے کی تاکید اور بچھڑے کی عبادت ترک کرنے کی نصیحت پر یہ کہنا کہ {” لَنْ نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عٰكِفِيْنَ “} یعنی ہم اسی پر مجاور بن کر بیٹھے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ ہمارے پاس آئیں۔ یہ تمام باتیں وعدے کی خلاف ورزی تھیں۔ (طبری)
← پچھلی آیت (85) پوری سورۃ اگلی آیت (87) →