بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 88
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 88
آیت نمبر: 88 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
فَاَخۡرَجَ لَہُمۡ عِجۡلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ فَقَالُوۡا ہٰذَاۤ اِلٰـہُکُمۡ وَ اِلٰہُ مُوۡسٰی ۬ فَنَسِیَ ﴿ؕ۸۸﴾
اور ان کے لیے ایک بچھڑے کی مورت بنا کر نکال لایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی لوگ پکار اٹھے "یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰؑ کا خدا، موسیٰؑ اسے بھول گیا"
پھر اس نے لوگوں کے لئے ایک بچھڑا نکال کھڑا کیا یعنی بچھڑے کا بت، جس کی گائے کی سی آواز بھی تھی پھر کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی، لیکن موسیٰ بھول گیا ہے
تو اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا بے جان کا دھڑ گائے کی طرح بولتا یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ کا معبود تو بھول گئے
تو لوگوں سے کہا یہی تمہارا خدا ہے اور موسیٰ کا بھی جسے وہ بھول گئے ہیں۔
پس اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا، جو محض جسم تھا، اس کے لیے گائے کی آواز تھی، تو انھوں نے کہا یہی تمھارا معبود اور موسیٰ کا معبود ہے، سو وہ بھول گیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭

موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے۔ پورے چالیس ہو گئے، دن رات روزے سے رہتے تھے۔ اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے۔ بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں، آ رہے ہیں، میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضا مندی حاصل کر لوں اور اس میں بڑھ جاؤں۔

موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ٭٭

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی ہے۔ اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے۔ اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لیے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھیں، جیسے فرمان ہے «وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ» ‏‏‏‏ [7-الأعراف:145] ‏‏‏‏۔ ’ یعنی ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا۔ ‘ موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم و غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ غم و اندوہ، رنج و غصہ آپ کو بہت آیا۔

واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے، تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک و انعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا۔ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا۔ اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لیے ہوئے تھے، ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیزگاری کے پھینک دئیے۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایکجا ہو جائیں اور پگھل کر ایک ڈلا بن جائے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام آ جائیں جیسا وہ فرمائیں ویسا کیا جائے۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور ہارون علیہ السلام سے کہا، آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے، آپ کو کیا خبر تھی، آپ نے دعا کی۔ اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا۔ پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔

ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے، تو وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے۔ آپ نے دعا کی اے اللہ! خود اسے ایسا ہی کر دے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا۔ بنی اسرائیل بہکاوے میں آ گئے اور اس کی پرستش شروع کر دی۔ اس کی آواز پر یہ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے۔ موسیٰ بھول کر کہیں اور اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں، وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارا رب یہی ہے۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ کو اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بے جان چیز ہے۔ ان کی کسی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے، نہ دنیا و آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں۔ آواز جو نکلتی تھی، اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچھے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی، اسی کی آواز آتی تھی۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لیے بڑا گناہ کر لیا۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لیے شرک شروع کر دیا۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، ان عراقیوں کو دیکھو، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کر دیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟ ۱؎ [صحیح بخاری:5994] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

88۔ 1 زینۃ سے زیورات اور القوم سے قوم فرعون مراد ہے۔ کہتے ہیں یہ زیورات انہوں نے فرعونیوں سے عاریتًا لئے تھے، اسی لئے انھیں بوجھ کہا گیا کیونکہ یہ ان کے لئے جائز نہیں تھے، چناچہ انھیں جمع کر کے ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا، سامری نے بھی (جو مسلمانوں کے بعض گمراہ فرقوں کی طرح) گمراہ تھا اس نے تمام زیورات کو تپا کر ایک طرح بچھڑا بنادیا کہ جس میں ہوا کے اندر باہر آنے جانے سے ایک قسم کی آواز پیدا ہوتی تھی۔ اس آواز سے اس نے بنی اسرائیل کو گمراہ کیا کہ موسیٰ ؑ تو گمراہ ہوگئے ہیں کہ وہ اللہ سے ملنے کے لئے طور پر گئے ہیں، جبکہ تمہارا اور موسیٰ ؑ کا معبود تو یہ ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 88) ➊ {فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا …:} مصری لوگ ہندوؤں کی طرح گائے کی پرستش کرتے تھے اور اس کی تقدیس کے قائل تھے۔ بنی اسرائیل میں بھی مسلمان ہونے کے باوجود قبطی مشرکوں کی غلامی اور ان سے میل جول کی وجہ سے یہ عقیدہ سرایت کر گیا تھا، جس کا وقتاً فوقتاً اظہار ہوتا رہتا تھا، جیسا کہ اس وقت ہوا جب موسیٰ علیہ السلام نے انھیں کوئی گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۶۷) اب موسیٰ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں سامری نے بنی اسرائیل کے زیوروں سے گائے کا بچھڑا بنایا جو بے جان تھا، مگر ایسی کاری گری سے بنایا گیا تھا کہ اس میں رکھے گئے سوراخوں کی وجہ سے خود بخود گائے کی سی آواز نکلتی تھی۔ وہ لوگ جنھوں نے سمندر سے پار ہوتے ہی چند بت پرستوں کے پاس سے گزرتے ہوئے موسیٰ علیہ السلام سے ان کے معبودوں جیسا معبود بنانے کا مطالبہ داغ دیا تھا، انھی جاہلوں نے فوراً اسے اپنا معبود تسلیم کر لیا اور کہنے لگے، تمھارا اور موسیٰ کا اصل معبود تو یہ ہے، موسیٰ بھول میں پڑ گئے جو طور پر کسی معبود سے کلام کے لیے گئے ہیں۔ ہمارے بعض صوفی حضرات بھی تصور شیخ کے شرک میں اس حد تک بڑھ گئے کہ جو محبت اپنے رب سے کرنی تھی اور جس طرح ہر وقت اسی کو اپنے سامنے رکھنا تھا، وہ محبت اور یاد شیخ کی نذر کر دی اور یہاں تک کہہ دیا: اے قوم بحج رفتہ کجائید کجائید معشوق درینجا ست کجائید کجائید ”اے حج کو گئے ہوئے لوگو! تم کہاں ہو، تم کہاں ہو؟ معشوق تو یہاں ہے، تم کہاں ہو، تم کہاں ہو؟“ ➋ { جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ …:} بعض مفسرین نے یہ تک لکھ دیا ہے کہ وہ گوشت پوست کا بچھڑا بن گیا، مگر اس کی کوئی دلیل نہیں، بلکہ وہ محض دھات کا بنا ہوا ایک بے جان مجسمہ تھا۔ {” خُوَارٌ “} گائے کی آواز۔
← پچھلی آیت (87) پوری سورۃ اگلی آیت (89) →